وفاقی حکومت کی جانب سے دسویں این ایف سی ایوارڈ کو متنازعہ بنانے کی کوشش

تحریر:طیب محمد زے

اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر، اے ین پی نے اٹھارہویں ترمیم اور ملک کو لازم اور ملزوم قرار دیا، جماعت اسلامی نے ترمیمی بل کو این ایف سی ا یوارڈ پر ڈرون حملہ قرار دیا

صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے قومی مالیاتی کمیشن ( این ایف سی )کا قیام1951میں لایا گیا تھا۔ 1973 میں اس کو دستوری تحفظ دیا گیا۔ دستور کے مطابق صدر پاکستان پر لازم ہوتا ہے کہ وہ ہر پانچ سال گزرنے پر اگلے پانچ سال کی مدت کے لئے اگلے نئے این ایف سی کی تشکیل دیں تاکہ تمام وفاقی یونٹس کی متفقہ رائے سے ایوارڈ منظور کیا جائے اور اگلے پانچ سالوں کے لئے نافذ کر دیا جائے۔


اس وقت پاکستان کے چار صوبے خیبر پختون خوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان ہیں جبکہ وفاق کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے ہیں۔ اس ایوارڈ کا قیام وفاق اور صوبوں میں مالی عدم توازن کو کنٹرول کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا تاکہ چاروں صوبوں میں مالی وسائل کا یکساں انتظام کیا جا سکے، تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد اس پروگرام کی تجدید نفاذ لازم ہے۔ این ایف سی ایوارڈ (نیشنل فنانس کمیشن) کے ذریعے مالی وسائل کی تقسیم وفاقی حکومت کے جمع کردہ ٹیکسوں، جن میں کارپوریٹ ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایکسپورٹ ڈیوٹی وغیرہ سمیت آمدنی پر ٹیکس شامل ہیں، کو تمام وفاقی اکائیوں کے مابین تقسیم کیا جاتا ہے۔ این ایف سی ایوار ڈ کے مطابق وفاق 42.5 اور صوبے 57.5 فیصد حصہ وصول کرتا ہے۔


2010 تک ایف این سی ایوارڈ کی تقسیم آبادی کے لحاظ سے تھی جس میں پنجاب آبادی کے لحاظ سے زیادہ حصہ وصول کرتا اور چھوٹے صوبے محروم رہ جاتے۔ 2010 کے بعد نیا فارمولہ طے کیا گیا جس میں صوبوں کی غربت، پسماندگی، محصولات کی وصولی بھی شامل کی گئی۔ اس نئے فارمولے کے مطابق 51 فیصد پنجاب، 24 فیصد سندھ، 14 فیصد خیبر پختون خوا اور 9 فیصد بلوچستان کو ملے گا تاہم وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات صوبہ خیبر پختون خوا میں ضم ہونے سے محصولات اور آبادی کے تناسب سے خیبر پختون خوا کی سیاسی جماعتیں اب صوبے کے حصے میں مزید اضافے کا مطالبہ بھی کر رہی ہیں۔


وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر بیرسٹر سیف نے آئین کے آرٹیکل 163 تین اے میں ترمیم کے لیے بل پیش کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وفاق کے پاس وسائل کی کمی ہے لہٰذا صوبوں کے وسائل کی تقسیم کا ختیار وفاق کو دیا جائے اور ساتھ ہی بل میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ این ایف سی یوارڈ میں وفاق کا حصہ 42.5 سے بڑھایا جائے کیونکہ وفاق کو بیرونی قرضوں سمیت دیگر مالیاتی امور میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ترمیمی بل کی سینٹ میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام سمیت اپوزیشن کے ممبران نے سخت مخالف کی جبکہ پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں نے بل کی حمایت کی۔ عوامی نیشنل پارٹی نے بل کی بھر پور مخالفت کی اور اٹھارہویں ترمیم اور پاکستان کو لازم و ملزوم قرار دیا۔ صوبائی صدر عوامی نیشنل پارٹی ایمل ولی خان نے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا تو یہ امر ملکی سلامتی کے لیے خطرنات ثابت ہو گا، دوسری جانب سینٹ کے اندر اپوزیشن جماعتوں نے بل پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور بیرسٹر سیف سمیت حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کو اسٹیبلشمنٹ کی کارستانی قرار دیا اور کہا کہ یہ چھوٹے صوبوں کے خلاف سازش ہے۔ اس موقع پر جے یوآئی کے سینیٹر مولانا عطاء الرحمان، سینیٹر عثمان کاکڑ، جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کی تقاریر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور ان کو سیاسی اور سماجی حلقوں نے سراہا جس کے بعدسینیٹ میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں ترمیم سے متعلق بل پیش کرنے کی تحریک مسترد ہو گئی۔ ووٹنگ کے دوران بل کے حق میں 17 جبکہ مخالفت میں 25 ووٹ پڑے۔

قومی مالیاتی کمیشن پر ڈرون حملہ


جماعت اسلامی خیبر پختون خوا کے امیر سینیٹر مشتاق احمد خان نے سینٹ ترمیم پر بحث کے دوران کہا کہ بیرسٹر سیف جو دستور کے آرٹیکل ایک سو ساٹھ تین اے میں ترمیم لائے ہیں، میں اس کی بھرپور مخالفت کرتا ہوں اور میں پاکستان کے فیڈریشن کے لیے اس کو بہت خطرناک سمجھتا ہوں۔ جناب چیئرمین! آرٹیکل 160 تین اے میں کیا ہے۔ اس میں ہے :
(3A) The Share of the Provinces, in each Award of National Finance
Commission shall not be less than the share given to the
Provinces in the previous Award.
اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے بہت عرصے کے بعد یہ ترمیم ہوئی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے اندر صوبوں کا حصہ بڑھے گا اور اس پر چیئرمین سینٹ کی رولنگ آئی ہے کہ اگر این ایف سی ایوارڈ دینے پر وہ متفق نہ ہوں تو گزشتہ ایوارڈ کی نسبت نئے ایوارڈ میں ایک فیصد خود بخود صوبوں کا شیئر بڑھے گا لیکن صوبوں کا حصہ کسی صورت میں کم نہیں ہو گا بلکہ چیئرمین سینٹ کی رولنگ کے مطابق تو ہر ایوارڈ میں اگر این ایف سی متفقہ نہ بھی ہو تب بھی صوبوں کا حصہ بڑھے گا۔

میں سمجھتا ہوں کے صوبوں کا حصہ 80 فیصد تک جائے گا اور وفاق کا حصہ 20 فیصد رہ جائے گا۔ ابھی تک صوبوں کو اپنے مالیاتی اختیارات نہیں دیئے گئے، میں بیرسٹر صاحب کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ این ایف سی کی بات کرتے ہیں کہ صوبے زیادہ حصہ لے رہے ہیںاور وفاق کم حصہ لے رہا ہے، وفاق نے تو صرف خیبر پختونخوا کے پانچ سو ارب روپے نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے دینے ہیں، اس دستور کے مطابق یہ وفا ق کی ذمہ داری ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کو بجلی کا خالص منافع اور بلوچستان کو گیس کا خالص منافع دے، معدنیات پر صوبوں کا حق تسلیم کرے، 180 ارب روپے اضافی پانی کا معاوضہ خیبر پختونخوا کو ادا کرے، وفاق نے ابھی تک صوبوں کی گردن پر گھٹنا رکھا ہوا ہے اور صوبے کراہ رہے ہیں۔ اس لئے میں اس کی مخالفت کرتا ہوں جہاں تک اس کا تعلق ہے کہ وفاق کے پاس کچھ بچتا نہیں ہے اور صوبے زیادہ حصہ لے جاتے ہیں تو وہ اپنے معاملات کیسے چلائے گا۔

یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر بحث ہو سکتی ہے اور میں نے پہلے بھی یہ کہا ہے کہ اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آپ این ایف سی پر ڈرون حملہ کریں، اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آپ این ایف سی کی دستور سکیم پر خودکش حملہ کریں، اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ ایف بی آر کی ریسٹرکچرنگ کریں۔ آپ ایف بی آر میں ریفارمز کریں۔ ہر سال کم از کم ایک ٹریلین روپے ایف بی آر کی نااہلی اور وفاق کی بیڈ گورننس کی وجہ سے پاکستان کے ضائع ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے پہلے ہی جو ٹی او آرز جاری کیے ہیں اس میں وفاق کی مالی سال کی ذمہ داریاں صوبوں کو شفٹ کی گئی ہے۔ وفاق نے جو ٹی او آرز جاری کئے ہیں اس کے مطابق ایڈوائزر کو این ایف سی کا ممبر بنایا ہے اور اس سے صوبوں کی این ایف سی میں جو دستوری سیکم ہیں ان کو چھیڑا گیا ہے اس لیے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں، یہ پاکستان کے استحکام اور چھوٹے صوبوں کی تسلی کے لئے ضروری ہے کہ اس کو نہ صرف جاری رکھا جائے بلکہ اس پر عملدرآمد بھی کیا جائے۔


بعد ازاں مختلف میڈیا کے اداروں سے سے گفتگو کے دوران سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ صدر پاکستان نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں دستور کی مذکورہ آرٹیکل کی خلاف ورزی کی گئی ہے، وفاق نے کھبی بھی مذکورہ آرٹیکل کے تحت صوبوں کو اپنا حصہ نہیں دیا تو کیسے وفاق کم حصے کا دعوی کر رہا ہے، این ایف سی ایوارڈ کو دستوری تحفظ حاصل ہے اور وسائل کی تقسیم کا اختیار دستور کے پاس ہے، وفاق کے پاس یہ اختیار نہیں ہے، سینیٹر مشتاق احمد کے مطابق وفاق کے ساتھ وسائل کی کمی کا مسئلہ نہیں ہے اصل میں اختیارات کا مسئلہ ہے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد وسائل کے اختیارات صوبوں کے پاس آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے بعد ریاست کے خلاف لڑنے والے اور بندوق اُٹھانے والے بھی پارلیمنٹ میں آ گئے لہٰذا اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو نہ چھیڑا جائے بلکہ وفاق اپنے وسائل کو زیادہ کرنے کے لیے ٹیکس نظام کو بہتر کرے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے سے چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی پیدا ہو گا، جبکہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی صوبوں کی خوشحالی میں ہے۔

این ایف سی پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

وفاق کی جانب سے صوبوں کے لئے دسویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کو پشاورہائی کورٹ میں چیلنج کر دیاگیا ہے جو کہ زیر سماعت ہے تاہم بلوچستان ہائی کورٹ نے مذکورہ کمیشن کی تشکیل کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا ہے۔


اخبارات میں شائع تفصیلات کے مطابق خیبر پختون خوا میں بھی وفاق کی جانب سے صوبوں کے لئے دسویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کو پشاورہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن میں قومی مالیاتی کمیشن اور اس کے ٹی اوآرز کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ رٹ پٹیشن سابق سینیٹر افراسیاب خٹک ، سینیٹر فرحت اللہ بابر، رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ، سابق رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر کی جانب سے عبداللطیف آفریدی اور سنگین خان ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی ہے۔ رٹ پٹیشن میں صدرمملکت، وفاقی سیکرٹری فنانس، کیبنٹ اینڈلاء ڈویژن، سیکرٹری فنانس خیبر پختونخوا اور وزیراعظم کے مشیر عبدالحفیظ شیخ کو فریق بنایا گیا ہے۔ رٹ میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ 12مئی 2020ء کا نوٹی فکیشن غیرقانونی ہے۔

رٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن کے لئے جو نئے ٹی اوآرز بنائے گئے ہیں وہ آئین کے آرٹیکل 160 کے منافی ہیں جن میں این ایف سی ایوارڈمیں آزاد و جموں کشمیر حکومت، گلگت بلتستان اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کو شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح سکیورٹی اینڈ ڈزاسٹر منیجمنٹ اور قرضوں کی ادائیگی کو شامل کیا گیا ہے جو کہ این ایف سی میں نہیں ہیں۔ آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے مالیات کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ وفاقی وزیر خزانہ کی عدم موجودگی میں این ایف سی ایوارڈ کا اجلاس طلب کرے جوکہ غیرقانونی اور غیرآئینی اقدام ہے۔

علاوہ ازیں رٹ میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن کوآئین کے آرٹیکل 160 کے تحت دوبارہ تشکیل دیا جائے اور اس کے علاوہ جو اقدام ہو گا وہ غیرآئینی اور غیرقانونی ہو گا۔ رٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ این ایف سی کے لئے جو نامزدگیاں اور تقرریاں کی گئی ہیں ان میں گورنر سے مشاورت نہیں لی گئی اور اس طرح یہ غیرآئینی اور غیرقانونی ہے لہٰذا اس اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے۔

رٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے این ایف سی میں وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار بھی غیرقانونی اور غیرآئینی ہے۔ جو ساتواں این ایف سی ایوارڈ ہوا تھا وہ بالکل درست تھا اور اس کے تحت تمام صوبوں کو اپنا حق اور حصہ ملا تھا اور خاص طور پر اٹھارہویں ترمیم کے بعد اس کے بہت سے فوائد سامنے آئے تھے اور آئینی اور قانونی این ایف سی ہونے کی بناء پر صوبے اس سے بھرپور طریقے سے مستفید ہوئے تھے۔ رٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دسویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والاحق کم ہوا ہے جو کہ غیرقانونی اور غیرآئینی ہے، جو نوٹی فکیشن جاری ہوا ہے اس کی آئینی و قانونی حیثیت کوئی نہیں ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کادورکنی بنچ آئندہ چندروزمیں رٹ کی سماعت کرے گا۔

دوسری جانب 24 جون کو بلوچستان ہائی کورٹ نے این ایف سی میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور سیکرٹری خزانہ کی بطور ماہر تقرری کالعدم قرار دے دی تھی۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل بنچ نے این ایف سی ایوارڈ سے متعلق متفرق درخواستوں کی سماعت کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی طرف سے جاری کردہ ٹرمز آف ریفرنس بھی کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالت نے متفرق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا تھا کہ این ایف سی کے لیے ممبران کی تقرری قواعد و ضوابط اور آئین کے مطابق نہیں لہٰذا صدر مملکت، گورنر بلوچستان، وزیر اعلیٰ یا صوبائی حکومت کی مشاورت و سفارش پر نئے ممبر کی تقرری عمل میں لائیں۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ حکومت این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 160 کو ملحوظ خاطر رکھے، آئین کے آرٹیکل 160ـ3A کے تحت صوبوں کا حصہ پچھلے ایوارڈ سے کم نہیں ہونا چاہیے جبکہ 7 ویں این ایف سی ایوارڈ پر بھی بعد میں کٹ لگایا گیا تھا، اس سے وفاق اور صوبوں کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں۔
یاد رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 12 مئی 2020 کو 10واں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) تشکیل دیا تھا جس میں بلوچستان سے جاوید جبار کی بطور رکن تقرری عمل میں لائی گئی تھی تاہم ان کی تقرری اور 10ویں این ایف سی ایوارڈ کے ٹرمز آف ریفرنس کو بلوچستان ہائی کورٹ میں متفرق آئینی درخواستوں کے ذریعے چیلنج کیا گیا تھا۔

ستارہ ایاز غیرجانبدار ہی رہیں

سینٹ میں اس وقت اے این پی کی کوئی نمائندگی نہیں ہے کیونکہ اے این پی نے پارٹی پالیسیوں کی خلاف ورزی اور پارٹی کے اندر گروپ بندی پر اپنی واحد خاتون سینیٹر ستارہ ایاز کی بنیادی رکنیت ختم کر دی تھی۔ صوبائی صدر اے این پی ایمل ولی خان نے 25 اکتوبر 2019 کو انہیں پارٹی سے نکا ل دیا تھا ۔تین فروی 2020 کو سینٹ ممبران کی تنخواہوں میں اضافے کی ایک بل پر خاتون سنیٹر ستارہ آیاز نے حمایت کی تھی جس کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کے اُس وقت کے ترجمان نے تنخواہوں سے متعلق بل کی حمایت میں ووٹ دینے والی سینیٹر ستارہ ایاز سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا اور موقف اختیا ر کیا تھا کہ سینیٹر ستارہ ایاز ہمارے پارٹی ٹکٹ پر منتخب ہوئی تھی لیکن اب ان کا ہماری جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ترجمان نے مزید واضح کیا تھا کہ اے این پی قیادت نے سینیٹر ستارہ ایاز کو پارٹی سے نکال دیا ہے، تنخواہوں میں اضافے کے بل کی حمایت میں ستارہ ایاز کے ووٹ کو اے این پی کا ووٹ نہ سمجھا جائے، ستارہ ایاز نے ذاتی حیثیت میں ووٹ دیا، ان کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کے بعد سینٹ میں ہونے والی ہر قسم کی قانون سازی میں خاتون سینیٹر ذاتی حیثیت سے حصہ لے رہی ہیں اور مذکورہ خاتون کا اے این پی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی سینٹ میں این ایف سی ایوارڈ کے لیے ترمیمی بل پیش ہوا جس پر ووٹنگ ہوئی جس کے حق میں 17 اور مخالفت میں 25 ووٹ آئے جبکہ سینیٹر ستارہ آیاز غیرجانبدار ہی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بابا عبدالرحمان، ایک آفاقی شاعر

تحریر: نورالامین یوسفزے ہمارے بابا نے سینکڑوں سال پہلے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم …

%d bloggers like this: