''میرے دو ہی آئیڈئیلز ہیں، ایک باچا خان اور دوسرے ولی خان''

''میرے دو ہی آئیڈئیلز ہیں، ایک باچا خان اور دوسرے ولی خان''

  تحریر: ساجد ٹکر

تعارف: 
پشتو زبان کے بے مثال شاعر خوشحال خان خٹک کا ایک مشہور زمانہ شعر ہے کہ:
لا یو شور زینی لاڑ نہ وی چی بل راشی
مگر زہ پیدا پہ ورز د شور او شر یم

خوشحال بابا کا یہ شعر بہت ہی کم لوگوں پر صادق آتا ہے کیونکہ بہت ہی کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو گردش دوراں کے ستائے اور مصائب اور آلام کا شکار ہوتے ہیں لیکن وہ پھر بھی میدان میں چٹان کی طرح کھڑے رہتے ہیں اور ہر دلخراش واقعہ کے بعد بھی زندگی کو نیا جنم دینے کا ہنر جانتے ہیں۔ انہی لوگوں میں پشاور کی سوہنی مٹی کے82  سالہ بزرگ سیاستدان حاجی غلام بلور بھی شامل ہیں۔ کون سا ایسا غم اور دکھ ہے جو ان پر آیا نہیں، لیکن حاجی صاحب آج پیرانہ سالی میں بھی پرامید ہیں اور امید کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ دیکھنے میں کمزور دکھائی دینے والے اس وجود میں شائد پہاڑوں جیسی کوئی خاصیت ہے کہ اتنی تکلیفوں کے باوجود آج بھی کسی سے ملتے ہیں تو چہرے پر مسکراہٹ لانا نہیں بھولتے۔ نام، دولت، عزت اور شہرت بے حساب لیکن جس کسی سے بھی ملتے ہیں تو بانہیں پھیلا کر اور جھک کر ملتے ہیں۔ اللہ نے دولت سے نوازا ہے لیکن کبھی زندگی میں کوئی بھی نشہ نہیں کیا۔



سیاست کسی کے لئے فائدے کی ہو گی لیکن ہمارے لئے نہیں؛ ہمارا گھرانہ دولتمند تھا لیکن اب کچھ بھی نہیں رہا، ہمارے کارخانے، گھر، سینما ہالز اور ملز بک گئے،1988  میں لندن میں ہمارے4  فلیٹس تھیں جو کہ ہم نے اپنے کاروبار کے پیسوں سے خریدے تھے لیکن وہ بھی بک گئے
 



حاجی غلام احمد بلور25  دسمبر1939  کو پھولوں کے شہر پشاور کے محلہ خداگنج میں پشاور کے معروف بزنس مین حاجی بلور دین مرحوم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ چار بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ ان کے پڑ دادا باجوڑ سے پشاور آئے تھے اور بنیادی طور پر تعلق ماموند قبیلے سے ہے۔ حاجی صاحب نے1957  میں صرف انیس سال کی عمر میں شادی کی تھی۔ شادی سے پہلے مگر بیگم کو نہیں دیکھا تھا۔ ان کا بڑا بیٹا صرف دس ماہ کی عمر میں انتقال کر گیا تھا جبکہ دوسرا بیٹا شبیر بلور شہید 1997 کے الیکشن کے دوران مخالفین کی فائرنگ سے شہید ہو گیا تھا۔ حاجی صاحب کی تین بیٹیاں ہیں۔ بیٹے شہید شبیر بلور کی شادی سابق صدر ایوب خان کی پوتی یعنی گوہر ایوب کی بیٹی سے ہوئی تھی۔ حاجی صاحب کے دو پوتے مشعل شبیر بلور اور عظیم شبیر بلور حاجی صاحب کے زیرپرورش ہیں۔ 



ہارون بلور شہید بہت ہی نڈر، بہادر اور سلیقہ مند تھا، باشعور، تعلیم یافتہ اور باقاعدہ تربیت یافتہ تھا، ان کے جانے کے بعد شہر میں ہماری سیاست پر اثر پڑا ہے
 



حاجی غلام بلور کل سات بار قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ چکے ہیں جن میں وہ چھ بار کامیاب اورصرف ایک بار یعنی93  کا الیکشن ہار چکے ہیں۔2002  کا الیکشن بوجوہ نہیں لڑ سکے۔ وہ1975  سے77  تک سینیٹر بھی رہے ہیں۔ 1990 کے الیکشن میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو این اے ون پر13000  ووٹوں سے شکست دی تھی۔ حاجی صاحب کی سیاست اقربا پروری سے پاک اور اپنی پارٹی کے ساتھ وفا سے عبارت ہے۔ غلام بلور صوم وصلوة کے پابند اور تہجد گزار انسان ہیں۔ حاجی غلام بلور فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ باچا خان بابا کے پیروکار، ولی خان بابا کے قافلے کے رکن اور ملی مشر اسفندیار ولی خان کے ساتھی ہیں۔ حاجی صاحب چلتی پھرتی سیاست ہیں۔ پارٹی کے مختلف عہدوں پر رہے ہیں اور ہمیشہ پارٹی کے لئے کام کیا ہے۔ حاجی صاحب دو بار وفاقی وزیر رہے ہیں اور ریلوے کی ترقی کے لئے ان کا کام آج بھی سراہا جاتا ہے۔ حاجی صاحب نے کسی زمانے میں موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کی تھی اور باقاعدہ اکھاڑے میں کبڈی بھی لڑ چکے ہیں۔ حاجی غلام احمد بلور  82 سال کی عمر میں بھی چاق و چوبند ہیں اور اپنے حلقے میں غمی شادی سے لے کر سارے صوبے اور ملک میں متحرک نظر آتے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ اگلا تو کیا2028  کا الیکشن بھی لڑیں گے۔ حاجی صاحب پر اب تک کئی خودکش اور بم دھماکے ہو چکے ہیں لیکن کوئی بھی خطرہ ان کو اپنے لوگوں سے دور نہیں کر سکا ہے۔ حاجی غلام احمد بلور سے ''شہباز'' کی خصوصی نشست میں کی گئی دلفریب، دلگداز، دلچسپ، دھیمی، میٹھی سیاسی اور ذاتی گفتگو آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ 



پشاور ایک لاجواب شہر ہے، یہاں کی ہر چیز اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے، موقع ملا تو اپنے شہر کے لئے سارے ارمان پورے کروں گا
 



 سوال: کچھ اپنے بچپن اور تعلیم کے بارے میں بتائیں؟

جواب: ''میرا بچپن بہت ہی پیارا تھا، بھائیوں میں سب سے بڑا تھا تو ہوشیار تھا، سب کا خیال رکھتا تھا اور اگر کوئی بھائیوں میں سے کسی کو مارتا تو میں بدلہ ضرور لیتا تھا، نہروں میں نہاتا تھا، بچپن کے بہت سارے کھیل کھیل چکا ہوں۔ شکار کا بھی شوقین تھا یہاں تک کہ گھر میں ائیر گن سے چھپکلیوں کا شکار بھی کرتا تھا۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے شادی کی اور پھر1966  میں والد صاحب کی وفات کے بعد ذمہ داریاں اور بھی بڑھ گئیں کیونکہ گھرداری کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی سنبھالنا پڑا۔ جہاں تک تعلیم کی بات ہے تو ابتدائی تعلیم خدا گنج محلہ کے گنج منڈی سکول سے، پھر محلہ خداداد سے چھٹی ساتویں اور اسلامیہ ہائی سکول نمبر3  سے میٹرک کیا۔ پھر ایڈورڈز کالج سے پڑھا اور پھر اس کے بعد بی اے بھی کر چکا ہوں۔''

 

سوال: والد صاحب کیا کاروبار کرتے تھے؟

جواب: ''والد صاحب کا پشاور میں دال، چاول اور گھی کا بہت بڑا کاروبار تھا۔''

 

سوال: سیاست میں کب اور کیسے آئے، خدائی خدمتگار تحریک اور پارٹی کے ساتھ کیسے جڑ گئے؟
 

جواب: ''میرے والد صاحب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا ہاں مگر گھر میں وہ باچا خان بابا کا ذکر بہت احترام اور پیار سے کرتے تھے۔ ذہنیت لیکن ہماری سیاست کی طرف مائل تھی۔ سیاست میں عملی طور پر آنے سے پہلے میں محترمہ فاطمہ جناح کو65  کے صدارتی انتخابات میں سابق صدر ایوب خان کے خلاف سپورٹ کر چکا تھا۔ میری پہلی شناسائی اجمل خٹک مرحوم کے ساتھ ہوئی تھی، اس کے بعد ارباب سکندر خان خلیل کے ساتھ بھی تعلق استوار ہوا۔ پھر1970  میں پارٹی میں باقاعدہ طور پر آئے اور خدائی خدمتگار تحریک کا حصہ، باچا خان بابا کے پیروکار اور خان عبدالولی خان کے قافلے کے رکن بن گئے۔ ہوا یوں کہ شہید بشیر بلور کی شادی میں رہبر تحریک ولی خان اور اجمل خٹک ہمارے گھر آئے جس کے بعد ہمارے تعلقات بن گئے اور ہمارا گھر یعنی بلور ہاؤس پھر باچا خان اور ولی خان کا گھر بن گیا۔ شکر ہے کہ میرے گھر پر سرمایہ داری کا سایہ نہیں کیونکہ یہ عظیم خدائی خدمتگار باچا خان کا گھر ہے۔ ہمارا گھر یعنی بلور ہاؤس پھر پارٹی کے امور کا مرکز بھی بن گیا اور پارٹی کی ہر ایکٹیوٹی اور تمام سرگرمیاں یہاں ہوتی تھیں۔ ایک دفعہ تو باچا خان بابا پورے دو ماہ بلور ہاؤس میں رہے اور میرے ساتھ فرید طوفان نے بھی باچا خان کی بہت خدمت کی تھی۔''

 

سوال: باچا خان بابا کا کوئی یادگار واقعہ اگر بتائیں تو مہربانی ہو گی؟

جواب: ''باچا خان بابا بہت عظیم انسان تھے۔ ایک دفعہ میں دیر کے ایک علاقے اوچ کلی کے ایک دورے میں ان کے ساتھ تھا۔ فرید طوفان بھی تھے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو میں نے اپنا بیگ گاڑی سے نکالا اور کمرے میں رکھ کر باہر نکلا۔ جب باچا خان بابا نے بیگ کو دیکھا تو پوچھا کہ یہ کس کا ہے؟ کسی نے یا شاید فرید طوفان نے بتایا کہ شاید یہ غلام بلور کا ہے تو بابا نے مجھے بلایا اور پوچھا کہ یہ بیگ تمہارا ہے، پہلے تو میں نے انکار کیا لیکن پھر بتایا کہ اس میں تولیہ، جائے نماز اور ایک جوڑا چپل ہیں تو باچا خان نے کہا کہ تم کیسے خدائی خدمتگار اور میرے ساتھی ہو کہ اپنے ساتھ بیگ لے کر گھومتے ہو؟ اس پر میں نے کہا کہ کس نے آپ کو کہا ہے کہ میں خدائی خدمتگار اور آپ کا ساتھی ہوں؟ جس پر موجود وہاں سب لوگ حیران رہ گئے کہ کس طرح میں باچا خان سے ایسی بات کر سکتا ہوں۔ تو پھر میں نے مسکراتے ہوئے عرض کیا کہ میں تو ولی خان کا ساتھی ہوں اور جس طرح وہ رہتے ہیں، اسی طرح میں بھی رہتا ہوں، جس پر باچا خان بابا ہنس دیئے۔''

 

سوال: سیاست میں آپ کو50  سال سے زائد ہو چکے ہیں، کیا کھویا اور کیا پایا؟ اتنی قربانیاں دیں، حوصلہ کہاں سے ملتا ہے؟

جواب: ''شائد کسی کے لئے سیاست فائدے کا کام ہو، لیکن ہمارے لئے نہیں۔ ہم اپنی قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کا مقصد عوام کی خدمت اور ان کے حقوق کا تحفظ ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں باچا خان بابا کے قافلے کا ایک رکن ہوں۔ ہم پر بہت تکالیف آئیں، بہت حادثوں سے دوچار ہوئے، ہمیں بہت پیشکشیں ہوئیں لیکن ہم اپنی قوم اور اپنی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔ بلور ہاؤس پر غموں کے بہت پہاڑ ٹوٹے۔ پہلے میرا جوان بیٹا شبیر بلور شہید ہوا۔ پھر میرا بھائی بشیر بلور شہید ہوا اور پھر2018  میں میرا بیٹا (بھتیجا) ہارون بلور شہید ہوا۔ ہارون بلور شہید مجھے بہت چاہتے تھے۔ میرا بہت خیال رکھتے تھے۔ ایک دفعہ میں ہسپتال میں داخل تھا تو وہ دن رات ہر وقت میرے ساتھ رہتے اور اپنے ہاتھوں سے میری خدمت کرتے تھے۔ ہسپتال میں میرا خیال اپنی چاچی سے بھی زیادہ رکھتے تھے۔ میری کمر ٹوٹ گئی ہے (ان کی آواز میں غضب کا ایک کرب تھا)۔

 

ہارون بلور شہید بہت ہی نڈر، بہادر اور سلیقہ مند تھا۔ باشعور، تعلیم یافتہ اور باقاعدہ تربیت یافتہ تھا۔ ان کے جانے کے بعد شہر میں ہماری سیاست پر اثر پڑا ہے اور آج یہ عالم ہے کہ بلدیاتی انتخابات نزدیک آ رہے ہیں لیکن ہمارے پاس کوئی تگڑا امیدوار نہیں ورنہ وہ سو فیصد ایک زبردست امیدوار تھے۔ ہم سیاست میں مسلسل نقصان ہی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ہمارا گھرانہ دولتمند تھا لیکن اب کچھ بھی نہیں رہا۔ ہمارے کارخانے، گھر، سینما ہالز اور ملز بک گئے۔ آپ یقین کریں کہ آج سے33  برس پہلے یعنی1988  میں ہمارے لندن میں4  فلیٹس تھیں جو کہ ہم نے اپنے کاروبار کے پیسوں سے خریدے تھے لیکن وہ بھی بک گئے۔ سب کچھ چلا گیا، اگر کچھ ہے تو وہ حوصلہ ہے، ہمارے اپنے لوگوں کا ساتھ ہے۔ اس کے علاوہ اس بات پر تو ازخود خوشی بلکہ فخر ہے کہ میں باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے قافلے کا رکن ہوں۔ یہ میرا غرور ہے کہ میں ان کے ساتھ رہا ہوں۔



محترم اسفندیار ولی خان کی قیادت میں صرف پارٹی کو نہیں بلکہ پختونوں کو بے شمار کامیابیاں ملی ہیں، ان ہی کی وجہ سے باچا خان بابا اور ولی خان کے خواب کو تعبیر ملی ہے، صوبے کا نام، صوبائی خودمختاری اور اٹھارہویں ترمیم، یہ سب محترم اسفندیار ولی خان کے کارنامے ہیں
 



زندگی میں بہت ہی اونچ نیچ آئی ہے لیکن اپنے لوگوں اور پارٹی کے ساتھ ہر قسم حالات میں کھڑا رہنا ہی سیاست اور انسانیت ہے۔ بہت سختیاں برداشت کی ہیں۔ جب1975  میں حیات خان شیرپاؤ کا واقعہ ہوا تو اس وقت میں صوبائی صدر تھا۔ مجھے اپنے بھائیوں سمیت جیل میں ڈال دیا گیا۔ ہمارے بچے اور گھر والے ادھر ادھر رہ گئے۔ وہ سخت وقت تھا، بہت سے لوگ پارٹی چھوڑ کر چلے گئے تھے لیکن ہم کھڑے رہے۔ کچھ لوگ ہمارے گھر پر بھی قابض ہو رہے تھے لیکن میری ماں بہت دلیر خاتون تھیں، انہوں نے حالات کو سنبھالا ہوا تھا۔ پھر حیدرآباد سازش کیس کے وقت بھی حالات بہت نازک تھے۔ ولی خان جیل میں تھے اور لوگ نہیں نکل رہے تھے۔ بی بی نسیم ولی خان کو میں نے ہی سیاست میں آنے پر مجبور کیا تھا۔ ہم نے ان سخت حالات میں بابڑہ میں جلسہ کیا تھا۔ ہماری میٹنگز پر بھی پابندی تھی۔ ہم پر کڑی نگاہ ہر وقت رکھی جاتی۔ ہم میٹنگ ختم قرآن کے بہانے کرتے، گھر میں ختم بلا کر ہم چپکے سے ملتے اور اہم امور ڈسکس کرتے۔ بہت سے لوگوں نے ہمیں مختلف آفرز کی ہیں لیکن وہ نادان ہیں، سمجھتے نہیں۔ تو ہم نے سیاسی طور پر بہت سخت وقت گزارا ہے اور جمہوریت، اس ملک اور لوگوں کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں۔ یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ملک میں آج تک صرف1970  کے انتخابات غیرجانبدار تھے اور ان انتخابات میں ہماری پارٹی سارے ملک میں دوسرے نمبر پر آئی تھی اور ولی خان اپوزیشن لیڈر بن گئے تھے۔''

 

سوال: پارٹی میں کن کن عہدوں پر رہے ہیں؟

جواب: ہم1970  میں پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔72  میں، میں سٹی صدر اور دو سال بعد1974  میں صوبائی صدر منتخب ہوا تھا اور دونوں بار بلا مقابلہ منتخب ہوا تھا۔ خدا کا فضل ہے کہ میں اپنی محنت پر کامیاب ہوا تھا، اگرچہ بہت مسئلہ تھا لیکن میں مرحوم دلبر خان ٹکر کا مشکور ہوں کہ انہوں نے کھڑے ہو کر میرا نام لیا اور کہا کہ میں غلام بلور کا نام صوبائی صدارت کے لئے دیتا ہوں اور اسی طرح میں صوبائی صدر بن گیا۔ پھر این ڈی پی کا صوبائی کنوینئیر بن گیا اور82  میں این ڈی پی کا جنرل سیکرٹری منتخب ہوا۔ پھر 86،87  میں رہبر تحریک ولی خان کے ساتھ سینئر نائب صدر بن گیا۔ پھر اس کے بعد مرکزی صدارت کے لئے مرحوم اجمل خٹک کے خلاف کھڑا تھا لیکن رہبر تحریک ولی خان نے اجمل خٹک کا نام لیا اور اس طرح وہ صدر بن گئے۔ پھر2004  تک میرے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا۔ پھر اسفندیار ولی خان کے ساتھ نائب صدر بن گیا اور اسی طرح پھر اسمبلی میں 2013 میں پارلیمانی لیڈر رہا۔''

 

سوال: آپ دو بار یعنی91  اور پھر2008  میں ریلوے کے وفاقی وزیر رہے ہیں، ریلوے میں کیا مسئلہ ہے اور اس کو کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے؟

جواب: ''جب میں وزیر بنا تو ریلوے کا خسارہ552  کروڑ روپے تھا لیکن میں دو سالوں میں یہ نقصان کم کر کے صرف130  کروڑ روپے تک لے آیا، نہ انجن تھے اور نہ حکومت ان انجنوں کا کوئی بندوبست کر رہی تھی۔ مجھ سے پہلے ریلوے میں ریٹائرڈ جنرلز تھے یعنی وزیر بھی اور چیئرمین بھی۔ ریلوے کو اب بھی درست کیا جا سکتا ہے بس کوئی500  انجن چاہئیں۔ اگر500  انجن مل گئے تو ریلوے ایک سال میں بحال ہو سکتا ہے۔ اسی طرح این ایل سی کی وجہ سے بھی ریلوے پر اثر پڑا ہے۔'' 

 

سوال:2023  کا الیکشن لڑنے کا ارادہ ہے؟

جواب: (ہنستے ہوئے) صرف آنے والا نہیں بلکہ اس سے اگلے والا بھی انشاء اللہ لڑوں گا۔ میں اپنے مخالفین کو بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ نے زندگی اور صحت دی تو اگلی بار میں میدان میں ہوں گا۔ میں یہ اپنے لوگوں کے لئے کروں گا کیونکہ میرے حلقے کے لوگ مجھ سے اور میں ان سے بے پناہ محبت کرتا ہوں۔I love my people and my people love me. ''



اپنے پشاور کے دلیپ کمار، راج کپور اور شاہ رخ خان میرے پسندیدہ اداکار ہیں

 



 

سوال: پشاور شہر کے لئے مزید کیا کرنے کا ارادہ ہے؟

جواب: ''پشاور ایک لاجواب شہر ہے۔ یہاں کی ہر چیز اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے۔ یہاں کے لوگ بھی بے مثال ہیں۔ بہادری اور وفا ان کے خون میں شامل ہے۔ یہاں ایک واقعہ بتاتا چلوں کہ قصہ خوانی واقعہ میں ایک انگریز افسر نے شہدا کی توہین کی تھی تو ایک پشوری جوان جس کا نام خواجہ عبدالرشید صدیقی تھا، اس نے بیس بدل کر فقیر کا روپ دھارا اور چاقو کے وار سے اس انگریز افسر کو ہلاک کر دیا۔ بعد میں جب پکڑا گیا تو آلہ قتل برآمد نہیں ہوا تو وکیل نے کہا کہ انکار کر دو تو بچ جاؤگے لیکن اس نے کہا کہ نہیں، میں نے ہی قتل کیا ہے اور اسی طرح وہ پھانسی چڑھ گیا۔ تو پشاور ایک عجیب پیارا شہر ہے اور اگر موقع ملا تو سارے ارمان پورے کروں گا۔''

 

سوال: آپ کے آئیڈئیل کون ہیں، کس سے متاثر ہیں؟

جواب: ''میرے دو ہی آئیڈئیلز ہیں، ایک باچا خان اور دوسرے ولی خان۔ ان کے علاوہ مرحوم مفتی محمود صاحب سے بھی بہت عقیدت تھی۔ وہ بہت ہی غیرتی آدمی تھے۔ ان کے پاس اپنی موٹر تک نہیں تھی۔ ان کے علاوہ مرحوم بزنجو صاحب، عطااللہ خان مینگل اور مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان کے ساتھ بھی عقیدت اور احترام کا رشتہ رہا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف سے پیار اور احترام کا رشتہ ہے۔ پچھلے سال جب کورونا سے صحتیاب ہوا اور سوشل میڈیا پر خبر چلی تو نواز شریف صاحب نے رات ڈھائی بجے فون کر کے عید اور صحتیابی دونوں کی مبارکباد دی۔ زرداری صاحب سے بھی خصوصی تعلق ہے بلکہ ان کے والد مرحوم حاکم علی زرداری سے تو برادرانہ تعلقات تھے۔ جب پہلی بار بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات ہو رہی تھی تو زرداری صاحب نے بلاول سے کہا کہ یہ آپ کے دادا کے دوست ہیں تو تیرے کیا ہوئے؟ یعنی اس قدر ان سے ہماری شناسائی ہے۔ عمران خان کو جب حادثہ پیش آیا تھا تو ان کی بیمار پرسی کے لئے بھی گیا تھا۔ میرا ہر کسی کے ساتھ احترام اور پیار کا رشتہ ہے۔''

 

سوال: افغانستان کے موجودہ حالات بارے کیا کہیں گے؟

جواب: ''پختون بہت بدقسمت لوگ ہیں۔ بہت زیادہ بہادر ہیں، پہلے روس پھر امریکہ اور اس سے بھی پہلے برطانیہ کو بھی بھگا چکے ہیں لیکن کچھ لوگوں کی بے ایمانی کی وجہ یہ لوگ ہمیشہ نقصان اٹھا چکے ہیں۔ غازی امان اللہ خان نے اس وقت ایک بڑی قوت انگریز کو مات دی تھی لیکن ان کے خلاف بھی سازش ہوئی۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ لوگ اپنے ملک پر کسی کا بھی تسلط نہیں مانتے اور نہ کوئی ان کو قبضہ کر سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال بہت ہی نازک ہے۔ میں بطور ایک پاکستانی افغانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ یہ لوگ آپس میں بیٹھ جائیں، جرگہ کریں اور مسئلے کا حل نکالیں۔ میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ مزید دوسروں کے لئے اپنے بچوں کو خوار نہ کریں۔ اپنا مسئلہ خود حل کریں۔ میں دوسری حکومتوں کو بھی کہنا چاہتا ہوں کہ خود کو مت تھکاؤ کیونکہ وہاں کوئی بھی قدم نہیں جما سکتا۔ اگر کسی نے کوشش کی تو عزت نہیں رہے گی۔ آج افغان لوگ جنگوں سے تنگ آئے ہیں۔ اگر40  سال پہلے ہمارے اکابرین کی بات مان لی جاتی تو آج حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔''

 

سوال: مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی قیادت اور ان کے کارناموں بارے کیا کہیں گے؟

جواب: ''محترم اسفندیار ولی خان ایک انتہائی کامیاب سیاستدان اور بے مثال لیڈر ہیں۔ ان کی قیادت میں صرف پارٹی کو نہیں بلکہ پختونوں کو بے شمار کامیابیاں ملی ہیں۔ ان ہی کی وجہ سے باچا خان بابا اور ولی خان کے خواب کو تعبیر ملی ہے۔ صوبے کا نام، صوبائی خودمختاری اور اٹھارہویں ترمیم، یہ سب محترم اسفندیار ولی خان کے کارنامے ہیں۔ باچا خان ائیرپورٹ اور70  سے 80 فیصد تک خودمختاری، بھلا کوئی سوچ سکتا تھا۔ یہ سب اسفندیار ولی خان کی مرہون منت ہے۔ میں یہاں جناب آصف علی زرداری کا بھی خصوصی شکریہ ادا کروں گا جنہوں نے ان معاملات میں تعاون کیا۔ ساتھ میں ان تمام جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کروں گا جنہوں نے اٹھارہویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ہم اس وقت بہت زیادہ دباؤ میں تھے لیکن خدا کا شکر ہے کہ ہمیں توقع سے زیادہ ووٹ ملے۔ یہ سب اسفندیار ولی خان کا کمال ہے۔ وہ مجھ سے عمر میں دس سال چھوٹے ہیں اور میں ان کی جلد از جلد صحتیابی کے لئے دعاگو ہوں۔''



حاجی صاحب نے1957  میں صرف انیس سال کی عمر میں شادی کی تھی، شادی سے پہلے مگر بیگم کو نہیں دیکھا تھا
 



سوال: کوئی ایسی دل کی بات جو آپ اپنے لوگوں سے کہنا چاہتے ہیں؟

 

جواب: ''پختون اب تک اپنا دوست اور دشمن پہچان نہیں سکے۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کوسوچنا ہو گا کہ تہمارے لئے قربانیاں کس نے دی ہیں۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ کوئی بھی آتا ہے تو ہمارے لوگ ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ سنو، آپ لوگ بہت ہی بڑے لوگوں کی اولاد ہو، اپنے لوگوں پر غیرت کرو۔ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ ہمیں سندھیوں کو دیکھنا چاہئے اور ان سے سیکھنا چاہئے کیونکہ71  سے اب تک ان لوگوں نے پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی اور کو ووٹ نہیں دیا۔ یہاں سب کچھ میرا ہے، بجلی، گیس، لکڑی، سب کچھ میرا ہے لیکن میرا نہیں۔ اے پختونو! جاگ جاؤ۔''
اب کچھ باتیں ذاتی نوعیت اور پسند نا پسند کی!

 

سوال: پسندیدہ شاعر کون سا ہے؟

جواب: ''قلندر مومند صاحب میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔ وہ بہت ہی عاجز اور صابر انسان تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دور میں وہ صرف100  روپے ماہانہ پر ایک اخبار میں کام کرتے تھے۔ ان کے علاوہ اجمل خٹک، سیف الرحمان سلیم اور رحمت شاہ سائل بھی پسند ہیں۔ اردو میں غالب، علامہ اقبال اور احمد فراز پسندیدہ شعرا ہیں۔''

 

سوال: پسندیدہ اداکار کون سا ہے؟

جواب: (ہنستے ہوئے) ''اپنے پشاور کے دلیپ کمار، راج کپور اور شاہ رخ خان۔ یہ سب میرے اپنے شہر کے لوگ ہیں۔ ان کے علاوہ راجیش کھنہ جن کے والد مہر چند کھنہ1945  میں ہماری پارٹی کے وزیر بھی تھے۔ پسندیدہ فلموں میں دیدار اور دیوداس شامل ہیں۔ فلم مدر آف انڈیا، ہندوستان میں سینما پر دیکھی تھی۔''

 

سوال: موسیقی سنتے ہیں کیا اور پسندیدہ گلوکار کون سا ہے؟

جواب: ''میں نے جوانی میں موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ ناشناس، خیال محمد، قمر گلہ، گلزار عالم اور کشور سلطان پسندیدہ گلورکار ہیں۔''

 

سوال: پسندیدہ رنگ کون سا ہے؟
 

جواب: ''کپڑوں کی حد تک براؤن اور سفید لیکن پسندیدہ رنگ سرخ ہے۔ کسی اور رنگ کی برائی نہیں کر سکتا۔''

 

سوال: پسندیدہ موسم کون سا ہے؟

جواب: ''انسان کسی ایک موسم میں تنگ ہو جاتا ہے۔ ہاں مگر بہار میں انسان تھوڑا خوش ہوتا ہے۔ ویسے بھی بہار پھولوں سے نہیں بلکہ دل میں ہوتی ہے۔''

 

سوال: پسندیدہ خوراک؟

جواب: ''گوشت خور ہوں، ساتھ میں مچھلی، شلغم اور بھنڈی بھی مرغوب ہیں۔''

 

سوال: کوئی شوق اگر ہو؟

جواب: ''جوانی میں شکار، اور نہروں میں نہانے کا شوق رہا ہے۔ ساتھ ساتھ پہلوانی بھی کر چکا ہوں، فٹبال کا بھی کھلاڑی رہ چکا ہوں، مگر (ہنستے ہوئے) نہ پہلوان بن سکا اور نہ فٹبالر بلکہ سیاستدان بن گیا۔ یہاں یہ بھی بتا دوں کہ مجھے جوانی میں گھومنے کا بھی بہت شوق تھا اور ستر کی دہائی میں لندن سے پشاور اپنی گاڑی میں آیا تھا، ترکی، ایران اور افغانستان سے ہوتے ہوئے۔''

 

سوال: پسندیدہ شہر کون سا ہے؟

جواب: ''پشاور میرا گھر ہے جبکہ پسندیدہ شہر کابل ہے، (مسکراتے ہوئے) شائد میری مٹی وہاں کی ہو۔''

 

سوال: پسندیدہ لباس؟

جواب: ''شلور، قمیص اور واسکٹ۔''