”پاکستان امریکہ کو اڈے نہیں دے گا“

”پاکستان امریکہ کو اڈے نہیں دے گا“

حکومت پاکستان نے اندرون ملک امریکی اڈوں کے حوالے سے ہونے والی چہ مگوئیوں کا خاتمہ کر دیا ہے، وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ روز امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ افغانستان کے اندر کسی بھی کارروائی کیلئے پاکستان اپنے کسی بھی اڈے کو امریکہ کے حوالے کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔ وزیراعظم نے انتہائی سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صورت پڑوسی ملک کیخلاف کارروائی کیلئے ہم اپنے اڈوں اور نہ ہی پاکستانی حدود کے استعمال کی اجازت دیں گے۔ علاوہ ازیں طالبان، داعش اور القاعدہ کیخلاف سرحد پار انسداد دہشت گردی مشن مکمل کرنے کیلئے سی آئی اے کی موجودگی کو بھی وزیر اعظم نے مسترد کر دیا، وزیر اعظم نے واضح کیا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ہم امریکا کو افغانستان میں ایکشن کے لیے اڈے دیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا یہ موقف ہر لحاظ سے خوش آئند ہے۔ اس سے قبل پینٹاگون نے کہا تھا کہ پاکستان خطے میں امریکا کا اہم اتحادی ہے اور فوجی تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، شاید یہ اس لئے تھا کہ آگے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر امریکہ نے سیاسی بیان دیا تھا لیکن عمران خان نے پاکستانی عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کی ترجمانی کرتے ہوئے پاکستان کا موقف پیش کیا۔ وزیراعظم کے اس بیان کے بارے میں سینیٹ اجلاس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایسے کسی بھی امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں امریکی اڈوں کی خبر کو واضح الفاظ میں بے بنیاد کہیں گے اور کوئی امریکی اڈہ پاکستان میں نہیں بنے گا۔ پاکستان میں امریکی اڈوں کی موجودگی یا آئندہ کسی بھی سرحد پار کارروائی کی تمام افواہیں عمران خان کے بیان کے بعد دم توڑ گئی ہیں تاہم ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان سمیت پوری دنیا تاحال ہمیں  شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے تاہم ہمیں ثابت قدمی اور صبر و استقامت کے ساتھ عملی اقدامات کر کے ان کا اعتماد بحال  کرنا ہو گا کیونکہ اس حقیقت سے تو اب کسی کو بھی انکار نہیں کہ پرامن افغانستان اگر سب سے زیادہ کسی کے مفاد میں ہے تو وہ ملک کوئی اور نہیں پاکستان ہی ہے۔