احتجاج سے نمٹنے کیلئے خیبر پختونخوا سے10ہزار جوان طلب

 احتجاج سے نمٹنے کیلئے خیبر پختونخوا سے10ہزار جوان طلب

 اسلام آباد ( آن لائن )حکومت نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو مظاہرین سے ہر صورت محفوظ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تین صوبوں سے پولیس کی 30ہزار نفری طلب کر لی.

 

ذرائع نے بتایا ہے کہ کالعدم جماعت کے اسلام آباد تک احتجاجی مارچ سے نمٹنے کے لیے وزارتِ داخلہ کی جانب سے ہنگامی اقدامات کر لیئے گئے ہیں ۔ وفاقی دارالحکومت کو احتجاجیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دیگر صوبوں سے پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی ہے۔

 

ذرائع نے بتایا کہ پنجاب، آزاد کشمیر اور کے پی سے پولیس کے 30 ہزار جوان مانگے گئے ہیں۔پنجاب، کے پی اور کشمیر سے 10، 10 ہزار جوان و افسران طلب کیئے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب، کے پی اور کشمیر سے آنے والے پولیس اہلکاروں کی نفری کے ساتھ دنگے فساد سے نمٹنے کا سامان بھی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ وفاقی وزارتِ داخلہ نے نفری اسلام آباد پہنچانے کے لیے تینوں سیکریٹریز کو مراسلے بھجوا دیئے ہیں۔ 

 

دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کے لاہور میں دھرنے اور اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلان کے بعدوفاقی و صوبائی حکومت کے حکم پر راولپنڈی اسلام آباد کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینر اور بھاری رکاوٹیں لگا کر سڑکوں گلیوں سمیت تمام راستوں کو بند کرنے کے حوالے سے مقامی انتظامیہ اور پولیس کے اقدامات کو عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ میں چیلنج کر دیا گیا ہے.

 

اس ضمن میں باضابطہ طور پر آئینی رٹ پٹیشن عدالت میں دائر کر دی گئی ہے ملک صالح محمد ایڈووکیٹ نے آئین کے آرٹیکل 199کے تحت صوبائی حکومت ،کمشنر ،ڈپٹی کمشنر اور سی پی او راولپنڈی کے علاوہ چیف ٹریفک افسر کو فریق بناتے ہوئے عدالت میں دائر رٹ میں موقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے راولپنڈی اسلام آباد کی سڑکوں کو کنٹینر لگا کر مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے جس سے شہریوں کی نقل و حرکت بند ہو کر رہ گئی ہے راولپنڈی کے 3بڑے سرکاری ہسپتالوں ، ضلع کچہری اور تعلیمی اداروں سمیت تمام کاروبارہی مراکز کو جانے والے تمام راستے 21اور22اکتوبر کی درمیانی رات گئے سے بند پڑے ہیں طلبا و طالبات تعلیمی اداروں میں نہیں پہنچ سکے جس سے انہیں تعلیمی نقصان کا سامنا ہے .

 

درخواست میں مزید بتایا گیا کہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے ایمبولینس گاڑیوں میں موجود مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں حالانکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔