نظار یوسفزئی کا اکیس سالہ ساتھ اور آخری ملاقات

نظار یوسفزئی کا اکیس سالہ ساتھ اور آخری ملاقات

      عزیز بونیرے 

نظار یوسفزئی کے ساتھ تعلق اکیس سال سے زائد عرصہ رہا، اس وقت سے جب پاکستان میں انٹرنیٹ نیا نیا آیا تھا جو ہمارے لئے ایک نیا مشغلہ تھا اور ہم اس وقت چیٹ مسینجرز جیسے یاہو، ایم ایس این مسینجر، ایم آئی آر سی وغیرہ استعمال کر رہے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ یاہو چیٹ روم،28  نمبر گروپ میں نظار یوسفزئی کے ساتھ ایک سیاسی بحث مباحثے میں حصہ لیا جس کے بعد ہماری دوستی ہو گئی۔ بعد ازاں ایک اور میسنجر، پال ٹاک میں بھی، جہاں پر ہم پختونوں کے حوالے سے دو گروپ چلا رہے تھے، جن میں سے ایک سیاسی گفتگو کیلئے اور دوسرا گپ شپ کیلئے تھا۔ ان دونوں گروپوں میں دنیا بھر میں مقیم افغان یا بہ الفاظ دیگر پختون شریک ہو رہے تھے۔ عوامی نیشنل پارٹی شارجہ کے موجودہ صدر زرین زادہ ایسپزئی، سردار علی ٹکر، افغانستان کے سابق وزیر و نامور ادیب عبد الباری جہانی اور ایران میں افغانستان کے سفیر عبد الغفور لیوال سمیت کئی نامور شخصیات اس فورم پر اکٹھے ہو کر بحث مباحثے میں حصہ لیتی تھیں۔ 

 

اس نئے مسینجر میں بہت سارے پختون قومی مسائل اور سیاسی شعور بیدار کرنے کے لئے24  گھنٹے آن لائن ہوتے تھے اور پختونوں کو درپیش مشائل اور ان کے حل کے لئے اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے مجھے ایک وائس میسج کیا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے، میں بھی آج ہی اس کو جوائن کروں گا۔ اس وقت پال ٹاک میں دو بڑے گروپ تھے جن میں سے ایک متحدہ عرب امارات والوں کا تھا جبکہ دوسرا سعودی عرب میں مقیم پختونوں کا، اس کے علاوہ یورپ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک سے بھی لوگ ان گروپوں میں شریک ہوتے تھے۔ آہستہ آہستہ پال ٹاک پر سیاسی اور قومی طور پر باشعور افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا۔ نظار یوسفزئی ہمیشہ ان گروپوں میں متحرک رہے اور پختون مسائل اور مشکلات پر اور ان کے حل کیلئے اپنے نظریات دوسرے دوستوں کے ساتھ شریک کرتے رہے۔ اس وقت سے لے کر مرتے دم تک جب بھی نظار یوسفزئی سے ملاقات یا فون پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے ہمیشہ پختون قوم کے اتفاق و اتحاد کی بات کی۔ وہ پختونوں کے اتفاق اور ان کے حقوق کے حوالے سے فکرمند رہتے تھے۔ کچھ دن قبل دبئی میں ایک سپورٹس ایونٹ پر جانا ہوا جہاں پر موجود عوامی نیشنل پارٹی متحدہ عرب امارات کی تنظیم کے ساتھ ایک نشست ہوئی، اس میں بھی نظار یوسفزئی کے لبوں پر وہی بات رہی جو بیس سال قبل سے وہ کرتے چلے آ رہے تھے۔ برہان و دلائل کے ساتھ دوستوں کی اس بحث میں وہ حصہ لیتے رہے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ ساری رات نظار یوسفزئی کی باتوں کو سنتا رہوں۔



نظار یوسفزئی کے ساتھ تعلق اکیس سال سے زائد عرصہ رہا، اس وقت سے جب پاکستان میں انٹرنیٹ نیا نیا آیا تھا جو ہمارے لئے ایک نیا مشغلہ تھا اور ہم اس وقت چیٹ مسینجرز جیسے یاہو، ایم ایس این مسینجر، ایم آئی آر سی وغیرہ استعمال کر رہے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ یاہو چیٹ روم،28  نمبر گروپ میں نظار یوسفزئی کے ساتھ ایک سیاسی بحث مباحثے میں حصہ لیا جس کے بعد ہماری دوستی ہو گئی
 



نظار یوسفزئی ایک سچے، ایماندار اور مخلص دوست تھے۔ گزشتہ دنوں بڑے بھائی کی وفات پر متحدہ عرب امارات سے گاؤں تشریف لائے تو ان کے بھائی کی فاتحہ خوانی پر ان کے حجرے میں جانا پڑا جہاں پر ان کے ساتھ چار گھنٹے تک تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ہم اجازت مانگ رہے تھے اور وہ اصرار کرتے رہے کہ زندگی کا کیا بھروسہ! تھوڑا وقت اور اگر ایک ساتھ گزر جائے تو بہتر ہے۔ اس وقت بھی ہم ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور افغانستان کے حوالے سے بات چیت میں مصروف رہے۔ کیا پتہ تھا کہ یہ ہماری اور نظار یوسفزئی کی آخری ملاقات ہو گی۔ ہمارے جانے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی انگلینڈ کے صدر محفوظ جان صاحب اور عوامی نیشنل پارٹی متحدہ عرب امارات کے سابق صدر سینیٹر عبد النبی بنگش بھی ان کے بھائی کی فاتحہ خوانی کے لئے تشریف لائے جہاں پر ان کے ساتھ بھی تفصیلی گفتگو انہوں کی، جس وقت ہم ان سے رخصت لے رہے تھے اس وقت انہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا: ''عزیز جان یہ دنیاوی ترقی انسان کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتی ہے، ہماری پہلی ملاقات کہاں ہوئی تھی، انٹرنیٹ کے ذریعے! آج ہم دونوں کے تعلق کو اکیس سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے۔ کاش! دنیا میں جاری ترقی ہمارے لر اور بر افغانوں کو بھی نصیب ہو جائے۔''

 

نظار یوسفزئی ایک انتہائی مخلص سیاسی ورکر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سچے صحافی اور سچے انسان بھی تھے۔ نظار یوسفزئی کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔ ان کے جانے کے بعد وہ محفلیں جہاں دوستوں کو خوش رکھنے کیلئے ان کا ہنسی مذاق، اور ان کا پشتو ٹپہ، ہمیشہ یاد آتے رہیں گے، آج کے بعد ان محفلوں میں وہ رنگ وہ مزہ نہیں رہے گا۔ متحدہ عرب امارات میں پختونوں کی محفلیں اب نظار یوسفزئی کے بغیر ادھوری محسوس ہوں گی۔ شائد ہی ان محفلوں کو اب نظار یوسفزئی کا کوئی متبادل کبھی نصیب ہو سکے گا، یہ محفلیں اب ایک عرصہ تک ان کی یادوں تک ہی محدود رہیں گی۔ متحدہ عرب امارات میں عوامی نیشنل پارٹی نے نظار یوسفزئی کے ایصال ثواب کیلئے جمعہ کے روز فاتحہ خوانی کرائی جس میں متحدہ عرب امارات میں موجود مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ نون، پی پی پی، پی ٹی آئی، پختون ویلفیئر آرگنائزیشن، پاک خیبر ونگ اور افغانستان کے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت اور نظار یوسفزئی کی سیاسی، سماجی اور ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
نظار یوسفزئی کی سوچ اور فکر کو ہر پختون تک پہنچا کر دم لیں گے۔ جوہر لونگین
کینیڈا میں مقیم پختون قوم پرست رہنماء جوہر لونگین نے ڈاکٹر خالق زیار کا شعر بیان کرتے ہوئے کہا: ع 
ژوند ھغہ دی چہ د قام د پارہ تیر شی 
نور خو ھسی بس حساب د ورزو شپو دی



پال ٹاک پر بھی، جہاں پر ہم پختونوں کے حوالے سے دو گروپ چلا رہے تھے، جن میں سے ایک سیاسی گفتگو کیلئے اور دوسرا گپ شپ کیلئے تھا، عوامی نیشنل پارٹی شارجہ کے موجودہ صدر زرین زادہ ایسپزئی، سردار علی ٹکر، افغانستان کے سابق وزیر و نامور ادیب عبد الباری جہانی اور ایران میں افغانستان کے سفیر عبد الغفور لیوال سمیت کئی نامور شخصیات اس فورم پر اکٹھے ہو کر بحث مباحثے میں حصہ لیتی تھیں
 



جوہر لونگین کہتے ہیں کہ نظار یوسفزئی وہ قوم پرست انسان تھے جنہوں نے عرب کے ریگستانوں میں اپنی قوم کی خدمت اور محبت کو پھول کی طرح تازہ رکھا، نظار پختون قوم پرست تھے اور انہوں نے ہمیشہ اپنے نظریات اور جدوجہد کو محفلوں میں خوبصورتی کے ساتھ سجایا ہے، وہ نہ صرف خیبر پختونخوا کے پختونوں کے دلوں پر راج کر رہے تھے بلکہ انہوں نے اپنے کردار اور مخلصی کی وجہ سے افغانستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے پشتونوں کے دلوں پر راج کیا ہے۔ زندگی پیدائش اور موت کے درمیان ایک فاصلے کا نام ہے، ہر انسان کو یہ راستہ اور یہ فاصلہ طے کرنا ہو گا جبکہ زندگی رہ جاتی ہے، مگر دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو اپنے جانے کا راستہ، مقصد اور مراد یا منزل کا پتہ ہوتا ہے اور وہ اپنے اپنے فاصلے اور راستے کو صحیح سمت پر طے کرتے ہیں، ایسے لوگ زندگی کے معنی کو بھی سمجھتے ہیں اور مقصد سے بھی باخبر رہتے ہیں اور ان میں خدمت کا جذبہ بھی تروتازہ ہوتا ہے جس سے وہ ہمیشہ اپنی قوم کی خدمت عبادت سمجھ کر کرتے ہیں اور یہ تمام خوبیاں نظار یوسفزئی میں موجود تھیں جو آج ہم میں نہیں رہے، آج ہمیں عہد کرنا ہو گا کہ نظار یوسفزئی کی سوچ اور فکر کو ہر پختون تک پہنچا کر دم لیں گے۔

 

ہمارے پاس کوئی دوسرا نظار یوسفزئی نہیں رہا۔ زمین خان بونیری

نظار یوسفزئی کا زیادہ تر وقت اپنے تنظیمی دوستوں کے ساتھ گزرا ہے، ہمیشہ دوستوں کو انہوں نے ایک صحت مند محفل مہیا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ان محفلوں میں ان کے ساتھ ہمیشہ عوامی نیشنل پارٹی شارجی کے سیکرٹری جنرل زمین خان بونیری بھی موجود ہوتے تھے۔ انہوں نے نظار یوسفزئی کے حوالے سے کہا کہ نظار یوسفزئی پختون اور پختون ولی سے حد درجے محبت کرتے تھے۔ نظار یوسفزئی نے زندگی کا زیادہ عرصہ متحدہ عرب امارات میں گزارا ہے جب یہاں پر ہم مسافروں کو وہ سہولیات میسر نہیں تھیں جیسے ٹیلیفون وغیر تو اس وقت ان کے پاس ایک گاڑی تھی جس میں وہ دبئی، شارجہ، عجمان، راس الخیمہ اور ام القوین تک میں ان پختونوں مسافروں کی خدمت کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ ایک ایک ڈیرے میں جا کر نظار یوسفزئی پختونوںکے مسائل اجاگر کرتے تھے اور ان میں سیاسی بیداری کیلئے اپنی جدوجہد کر رہے تھے۔ وہ نہ صرف سیاسی آدمی تھے بلکہ ایک ادیب بھی تھے اور ایک باخبر صحافی بھی تھے۔ یہاں پر جب بھی ادیبوں کی کوئی محفل ہوتی تھی تو نظار یوسفزئی اس میں وہ واحد بندے ہوتے تھے جو اگرچہ خود تو شاعر نہیں تھے مگر تمام شعراء کے اشعار ان کو زبانی یاد ہوتے تھے اور اس محفل کی خوبصورتی بھی نظار یوسفزئی ہی ہوتے تھے۔ جب بھی کسی شاعر کی اگر کوئی نئی نظم مارکیٹ میں آ جاتی تو نظار یوسفزئی اس پر ایسا تبصرہ کرتے تھے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ شائد یہ ان کی اپنی شاعری ہے۔ نظار یوسفزئی نے ہمیشہ باچا خان کی فکر دوسروں تک پہنچانے کا فریضہ بغیر کسی لالچ کے بخوبی سرانجام دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں پارٹی کے ساتھ ساتھ پختونوں کی دیگر تقریبات میں بھی نظار یوسفزئی نے ہمیشہ دل سے شرکت کی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ بغیر کسی سیاسی وابستگی کے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ پختونخوا میں خلوص کے ساتھ پشتونوں کی خدمت کی ہے۔ نظار یوسفزئی نے متحدہ عرب امارات میں پختونوںکی مختلف محفلوں کو جو خوبصورتی دی وہ شائد اب نہیں ہو گی کیونکہ اب ان محفلوں میں اس خوبصورتی کیلئے ہمارے پاس کوئی دوسرا نظار یوسفزئی نہیں رہا۔

 

ظار یوسفزئی ایک مثالی اور مضبوط کردار کا حامل انسان تھا۔  نورالامین یوسفزئی

آج جبکہ وہ گذشتہ تین ماہ کے قلیل عرصہ میں اپنے دو حقیقی بھائیوں کی اچانک جدائی کا غم اپنی روح میں سمائے ہوئے خود منوں مٹی تلے جا کر سو چلے تو میں سوچتا ہوں کہ وہ  مضبوط کردار اور وہ جو سراپا علم و ادب تھے، وہ جو سراپا قوم اور قومیت تھے، وہ  جو سراپا خیر اور محبت تھے، وہ جو سراپا انسان اور انسانیت تھے، اسے تو ابھی اور بھی بہت کچھ کرنا تھا

 

وہ جو  کہ  ایک وطن پال، ادب پال اور ادیب پرور انسان تھے، وہ جو ایکself maid  انسان تھے، وہ جو ایک جرات مند صحافی اور ایک نڈر سیاسی ورکر اور ایک بہترین کمپیئر  تھے اور اپنی وفات تک شمشاد ٹیلی وژن سے بہ حیثیت  مارکیٹنگ منیجر وابستہ  رہے، تو دوسری جانب آج مجھے وہ رہ رہ کر یاد آ رہے ہیں
نظار یوسفزئی ایک مثالی اور مضبوط کردار کا حامل انسان تھا، ''آج جب کہ میرا یار، میرا دوست، میرا ہم عمر، میرا بچپن کا ساتھی نظار یوسفزئی ہمیں داغ مفارقت دے کر اس  فانی دنیا سے منہ موڑ کر چلے گئے تو ایک طرف مجھے بچپن کہ وہ سنہرے اور رنگین دن ایک ایک کر کے لمحہ بہ لمحہ یاد آ رہے ہیں جو کہ ہم نے اپنے کلچر اور اپنی روایات کی گود میں ایک ساتھ گزارے۔ آج جبکہ وہ گذشتہ تین ماہ کے قلیل عرصہ میں اپنے دو حقیقی بھائیوں کی اچانک جدائی کا غم اپنی روح میں سمائے ہوئے خود منوں مٹی تلے جا کر سو چلے تو میں سوچتا ہوں کہ وہ  مضبوط کردار اور وہ جو سراپا علم و ادب تھے، وہ جو سراپا قوم اور قومیت تھے، وہ  جو سراپا خیر اور محبت تھے، وہ جو سراپا انسان اور انسانیت تھے، اسے تو ابھی اور بھی بہت کچھ کرنا تھا۔ وہ جو  کہ  ایک وطن پال، ادب پال اور ادیب پرور انسان تھے، وہ جو ایکself maid  انسان تھے، وہ جو ایک جرات مند صحافی اور ایک نڈر سیاسی ورکر اور ایک بہترین کمپیئر  تھے اور اپنی وفات تک شمشاد ٹیلی وژن سے بہ حیثیت  مارکیٹنگ منیجر وابستہ  رہے، تو دوسری جانب آج مجھے وہ رہ رہ کر یاد آ رہے ہیں۔ 

 

جی نظار یوسفزئی جو کہ ضلع صوابی کے تاریخی  گاؤں شاہ منصور میں سال1961  میں خدائی خدمتگار شمس القمر کاکا کے گھر میں پیدا ہوئے تو اس وقت یہ کون جانتا تھا کہ  ایک متوسط زمیندار گھرانے میں پیدا ہونے والا یہ عام سا بچہ کل کو افغان اور  افغانیت کی علامت بن کر دنیائے علم و ادب کے افق پر  چمکے گا اور ایسا چمکے گا جس کی چمک سے اور بھی کئی ستارے  چمک اٹھیں گے۔ باہر سے نہایت خوش شکل اور خوش لباس نظار اندر سے ایک درویش صفت اور خاکسار انسان  تھا، ایک ایسا انسان جو دوسروں کو عزت اور محبت دے کر خوشی محسوس کرتا ہے، ایک ایسا انسان جو خدمت، قومیت، انسانیت اور محبت پر ایمان اور ایقان بھی رکھتا ہے اور عملاً اپنے کردار سے اس بات کا ثبوت بھی دیتا ہے۔
نظار یوسفز کے اس بنیادی کردار کے تین بنیادی پہلو اور زاویے تھے۔
1۔ وہ ایک مثالی باپ، ایک مثالی بھائی اورایک آئیڈیل شوہر تھے۔ ان کی بیٹیاں خاص طور پر اس بات کی گواہ اور شاہد ہیں۔
2۔ وہ سکنہ شاہ منصور کے ایک ذمہ دار مشر اور اپنے گاؤں سے جنون کی حد تک پیار  کرنے والے انسان تھے۔ یہ1991/92  کی بات ہے جب کہ ہم سب نوجوان تھے۔ اس نوجوانی کی عمر میں جب وہ ایک  بار دبئی سے چھٹی پر گاؤں آئے تو ہم سب دوستوں کو سالار بابا کے حجرے میں جمع کر کے ہم سب کو اس بات پر آمادہ کیا کہ ہمیں اپنے گاؤں میں ''بیدار زلمے'' کے نام سے ایک ایسی سماجی تنظیم بنانی چاہیے جو کہ ہمارے گاؤں کہ تمام چھوٹے بڑے مسائل اپنی مدد آپ کے تحت حل کر سکیں اور اس مقصد کے لئے جتنی بھی مدد درکار ہو گی وہ  ہم آپ کو دبئی یعنی متحدہ عرب امارات سے ارسال  کریں گے۔ پھر ہم دوستوں نے ان کی تحریک پر تنظیم بنائی جس نے دو سال کے قلیل عرصے میں لاکھوں کے پراجیکٹ کئے۔ وہ تنظیم آج بھی قائم و دائم ہی اور نہایت چستی سے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ نظار یوسفزئی کے مشوروں اور مالی  اعانت پر گاؤں کی تنظیم نے کئی ایک  پراجیکٹ سر کئے۔ مثال کے طور پر کرونا کے دوران میں لاک ڈاؤن میں تنظیم نے لاکھوں روپوں کے پیکجز غریب اور بے بس لوگوں میں تقسیم کئے اور نظار یوسفزئی نے سلمان وصال کے ساتھ مل کر تنظیم کی باقاعدہ سرپرستی کی جس میں فواد علی وغیرہ نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔ 

 

متحدہ عرب امارات میں بھی نظار یوسفزئی نے گاؤں کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک فلاحی تنظیم بنائی جو کہ اب بھی  قائم و دائم ہے جس کے سرپرست وہ خود تھے۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم پر گاؤں کے تمام باشندے جو کہ عرب امارات میں مقیم ہیں،  ماہانہ چندہ جمع کر رہے ہیں۔ پھر جب امارات میں کسی مسافر کی فوتگی ہوتی ہے یا پھر وہ گاؤں میں ہو مگر گاؤں میں آئے ہوئے اسے سال سے زیادہ کا عرصہ نہ ہوا ہو تو گاؤں کے اس فنڈ سے اس کے بیوہ اور بچوں کے لئے رقم بھیجی جاتی ہی اور وہ رقوم گاؤں کے علماء اور مشران کے ہاتھوں تقسیم ہوتی ہیں۔

 

3۔ نظار یوسفزئی  کے کردار کا ایک پہلو اور حصہ سیاسی ہی جس میں وہ نہایت جرات اور صدقہ دل سے قومی تحریک کے ساتھ وابستہ تھے اور اپنے خدائی خدمتگار دادا شیرباز بابا کی طرح  باچا خان اور ولی خان  کے سپاہی اور کارکن تھے۔ آج بھی وہ عوامی نیشنل پارٹی دبئی کے مرکزی جنرل سیکرٹری تھے اور اس حوالے سے نہایت فعال کردار ادا کر رہے تھے۔

 

4۔ ان کے اس مضبوط کردار کا چوتھا اور اہم پہلو ادب پال اور پختون پال کا بھی تھا۔ اس سلسلے میں وہ امارات پختو ادبی ٹولنہ کے چیئرمین اور روح رواں تھے۔ انہوں نے دبئی اور امارات میں کئی ایک کامیاب سیمینار اور پروگرام کئی اور اپنے ادبی، علمی اور ثقافتی دوستوں کے تعاون سے پختو ادب کی کئی معیاری کتب بھی شائع کرائیں، کئی نمائندہ ادیبوں اور شاعروں کو امارات بلوا کر ان کی عزت افزائی کی، ان کی کتابوں کی تقاریب رونمائی منعقد کرئیں اور یہاں تک کہ ان کے ساتھ مالی اعانت بھی کی۔ اس سلسلے میں ممتاز اورکزئی، خالد حسرت، زرین زادہ  جیسے مخلص دوست بھی ان کے ساتھ ہم رکاب اور ہم سفر تھے۔ جبکہ سماجی کاموں میں پختون  ویلفیئر آرگنائزیشن کے سلمان وصال  ان کے ہمدم اور ساتھی تھے۔ انہوں نے ایسے لوگ پیدا کئے تھے  جو کہ ان کے ایک اشارے پر اپنا سب کچھ  نچھاور کرنے کو تیار ہوتے تھے اور اس کی بڑی وجہ وہ اعتبار وہ باور تھا جو انہوں نے اپنے مضبوط کردار سے لوگوں میں پیدا کیا تھا۔ 

 

ایک ادب پال ہونے کے ساتھ ساتھ  وہ ادیب پال بھی تھے۔ عابد، ممتاز سب اس بات  کے گواہ ہیں۔ امارات میں جہاں کئی  پے بھی کوئی علمی، ادبی سرگرمی ہوتی تھی تو وہ نظار یوسفزئی کے بنا ادھوری اور نامکمل ہوتی تھی اور باوجود اس کے کہ ان کی پارٹی اور اس کا نظریہ سب کو معلوم تھا۔ مگر وہاں پر مقیم تمام پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے کیونکہ وہ ایک مخلص اور ''جانانہ'' انسان تھے۔ اگر چہ وہ میرے ہم عمر اور کلاس فیلو بھی تھے مگر یہ ان کا بڑا پن تھا کہ وہ مجھے اپنا بزرگ اور استاد  مانتے تھے اور اس بات کا اظہار انہوں نے برملا ٹیلی وژن پر بھی کیا تھا اور تحریری طور پر بھی فیس بک  پر کرتے آئے تھے۔ دراصل وہ ایک نہایت فعال اور متحرک انسان تھے۔ وہ ایک کنگ میکر اور تنظیم ساز انسان بھی تھے۔ ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ ساتھ وہ پختون فنکاروں کی بھی سرپرستی  کیا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر ''نغمہ'' اور ''منگل'' جب نہایت کسمپرسی کی حالت میں عرب امارات گئے تو یہ نظار ہی تھے جس نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور ان کی ہر طرح سے مدد کی۔ عالم زیب مجاہد اور دیگر کئی ایک فنکاروں کی مدد بھی کی اور ان کے لئے شوز کا انعقاد بھی کیا تا کہ ان کا فن بھی اجاگر ہو اور روزی روٹی کا سلسلہ بھی چلتا رہے۔ 

 

ایک انسان کی حیثیت سے بھی وہ نہایت خوش مزاج اور خوش طبع انسان تھے۔ عدم تشدد اور محبت پر یقین رکھنے والے خدائی خدمتگار تھے۔ اگرچہ وہ مرد قلندر جسمانی طور پر ہم میں نہیں رہے مگر ان کا  کردار اور ان کی علمی، ادبی، سیاسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، اور کردار کبھی مرتا نہیں۔ جس طرح آنکھ تو مر سکتی ہے مگر خمار زندہ رہتا ہے اسی طرح انسان تو چلا جاتا ہے مگر اس کا کردار زندہ رہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ خود تو جنت میں ہو گا اور اس کا چھوڑا ہوا کردار اور خدمت خلق کا جذبہ ہمارے  نوجوانوں کو اپنی قوم اور انسانیت سے محبت کرنے پر اکساتا رہے گا۔ اللہ میرے یار کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین!