پاکستان ٹیلی ویژن کی ستاون ویں سالگرہ؟

پاکستان ٹیلی ویژن کی ستاون ویں سالگرہ؟

تحریر: ڈاکٹر محمد ہمایون ہما

جی ہاں! ٹیلی ویژن  سے وابستگی کا ہمارا بھی نصف صدی زیادہ کا عرصہ ہو گیا۔ شکر ہے ہم ابھی ذہنی طور پر توانا ہیں، لکھ رہے ہیں، باقاعدگی سے مطالعے میں مصروف ہیں، حالات پر کڑھتے بھی ہیں اور ان کا اپنی تحریروں میں ذکر بھی کرتے ہیں۔ مگر ریڈیو اور ٹیلی ویژن اب قبرستان بن چکے ہیں اور ہم ان کے مزاروں پر اپنی یادوں کے چراغ جلائے بیٹھے ہیں۔ یہ بات ہمیں ٹیلی ویژن کی57 ویں سالگرہ کی چند تصاویر دیکھ کر یاد آ گئی جو 'کتاب چہرہ' پر کسی دوست نے پوسٹ کی ہیں۔ ان تصویروں میں دو ایک شناسا چہروں کے علاوہ ہم کسی کو نہ پہچان سکے۔ اس پر بھی بات ہو گی پہلے ہم ٹیلی ویژن کے بارے میں کچھ یادیں تازہ کر لیں۔57  سال پہلے راولپنڈی چکلالہ کے ایک کرایہ کے  بنگلے میں پہلا ٹیلی ویژن سنٹر قائم ہوا۔ اسلم اظہر اس کے پہلے جنرل منیجر تھے۔ اس سنٹر کے تمام پروگرام براہ راست نشر ہوتے تھے۔ ان کی ریکارڈنگ نہیں ہوتی تھی۔ ان نشریات میں ڈرامے بھی ہوتے، ادبی پروگرام بھی، سیاسی موضوعات پر ٹاک شوز بھی اور خبرنامہ بھی۔ ہفتہ میں ایک بار ''آغوش کہستان'' کے نام سے نشریات پشتو پروگراموں کے لیے وقف تھیں۔ اس میں بھی ڈرامے، مشاعرے، سیاسی موضوعات پر گفتگو اور ادبی پروگرام شامل تھے۔ پریشان خٹک، رشید علی دھقان اور سردار خان فنا کے ڈرامے باقاعدگی کے ساتھ نشر ہوتے تھے جنہیں ہم بڑے شوق سے دیکھتے۔ زیتون بانو ان ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھاتیں۔ ہمارے دوست نثار محمد خان جو اس زمانے میں پشاور ریڈیو میں پروڈیوسر تھے، وہ بھی ان ڈراموں میں کبھی کبھار کام کرتے نظر آتے۔ ہمیں یاد ہے نواب علی خان یوسف زئی نے بھی ایک ڈرامے میں کام کیا تھا۔ ہمارا پہلا ٹیلی ویژن ڈراما 'فاصلے'1968  میں پاکستان ٹیلی ویژن کے چکلالہ سنٹر سے نشر ہوا تھا، شہزاد خلیل مرحوم اس کے پروڈیوسر تھے، اس کے اداکار کون تھے ہمیں معلوم نہ ہو سکا کیونکہ یہ ڈرامہ ہم نے خود نہیں دیکھا تھا۔ تین روز بعد کسی دوست نے بتایا تھا کہ تمہارا ڈرامہ نشر ہوا ہے۔ ڈرامہ کا معاوضہ ہمیں650  روپے ملا تھا جو اس زمانے میں اچھی خاصی رقم تھی۔ ریڈیو والے ایک ڈرامے کے سو روپے دیتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پشاور اور کوئٹہ میں دو ٹیلی ویژن سنٹر قائم ہوئے۔ پشاور سنٹر کے پہلے جنرل منیجر جمیل آفریدی تھے، ارباب خان سینئر پروڈیوسر تھے۔ نوجوانوں کی ایک کھیپ پروڈیوسر بن کر پشاور ٹیلی ویژن سنٹر سے وابستہ ہوئی۔ فرمان اللہ جان جو بعد میں پشاور ٹیلی ویژن کے جنرل منیجر بنے، وہ ابتدا میں کاپیئسٹ تھے اور بعد میں اسسٹنٹ پروڈیوسر اور پروڈیوسر بن گئے۔ شوکت علی، مسعود احمد شاہ، صلاح الدین بھی اسسٹنٹ پروڈیوسر تھے۔ مجید اللہ خلیل نیوزکاسٹر تھے جو بعد میں جی ایم بنے۔ افضل رضا، ڈاکٹر محمد اعظم اعظم، سعداللہ جان برق اور خالق داد امید نے اس زمانے میں ٹیلی ویژن کے لیے بے شمار ڈرامے لکھے۔ ہم بھی سات سواروں میں شامل تھے۔ ہم نے اس زمانے میں کچھ ادبی پروگراموں کی میزبانی بھی کی۔ تو یہ پشاور ٹیلی ویژن کا پس منظر تھا جو ہم یقین سے کہتے ہیں کہ آج اس سنٹر میں کام کرنے والی تیسری نسل کے پروڈیوسروں میں سے کسی کو بھی معلوم نہ ہو گا۔ اور معلوم کیسے ہو سکتا ہے، ان کے پاس اس دور کے کسی پروگرام کی ریکارڈنگ محفوظ نہیں، ضائع ہوگئی ہے یا ضائع کر دی گئی ہے۔ دراصل ہمارے آج کے کسی بھی ادارے کے نئے ملازمین کی یادداشت وہاں سے شروع ہوتی ہے جس دن وہ اس ادارے میں داخل ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہماری نظر سے پاکستان ٹیلی ویژن پشاور میں اس سنٹر کی57 ویں سالگرہ، برسی کہنا زیادہ مناسب ہو گا، پر جو تصاویر ہم نے دیکھی ہیں ان میں اس زمانے کے دو پروڈیوسروں کے علاوہ کوئی پرانا چہرہ موجود نہ تھا۔ اس کی ان لوگوں نے کوئی ضرورت اس لئے محسوس نہ کی کہ ساری نسل پشاور ٹیلی ویژن سنٹر کے قیام کے بعد بہ فضل تعالی دنیا میں تشریف لائی ہے۔ چنانچہ ان لوگوں کو ماضی میں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ کام چلاؤ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ایک تو ریڈیو اور ٹیلی ویژن حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے بحران کا شکار ہیں اور اس کی دوسری بڑی وجہ ان اداروں میں غیرپیشہ ور افراد کا داخل ہونا ہے۔ آپ یقین کریں گے کہ ریڈیو میں نئے پروگراموں کی ریکارڈنگ بالکل بند ہو چکی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کہ پشاور ریڈیو سے ہر ہفتہ اردو، پشتو اور ہندکو کے نئے ڈرامے نشر ہوتے تھے اب یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے بلکہ پرانے ڈرامے بھی پیش نہیں کئے جاتے۔ جانے۔۔۔ یہاں کے پیش کاروں کی موجودہ مصروفیات کیا ہیں۔ چلئے چھوڑئیے۔ بات ٹیلی ویژن کی57 ویں سالگرہ کی ہو رہی تھی۔ وہ پروگرام میرے خیال میں برسی کے نام سے پیش کر دیا گیا اور اس کی چند تصاویر کتاب چہرہ پر ڈال دی گئیں۔ رات گئی بات گئی۔ اگلے سال پھر دیکھا جائے گا۔