پی ٹی آئی کی قیادت سے حقیقی آزادی کا ایک سال

پی ٹی آئی کی قیادت سے حقیقی آزادی کا ایک سال

تحریر: مولانا خانزیب
 25اگست2019  کو پختونخوا کے سابق گورنر شاہ فرمان نے پورے پختونخوا میں ماوارئے آئین  ایکشن اینڈ ایڈ سول آف پاور ریگولیشن پر دستخط کر کے سول مارشل لا کو پورے صوبے میں نافذ کر دیا تھا۔ ساتھ ہی ان علاقوں میں صوبائی حکومت کی منظوری سے ترقیاتی امور کی انجام دہی کو بھی سویلین اداروں کے بجائے دفاعی محکمہ کے دائرہ اختیار میں دیا گیا تھا۔ اکتوبر 2019 میں اس ماورائے ریگولیشن کو پشاور ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا کیونکہ گورنر صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ریگولیشن کے اجرا کا اختیار نہیں رکھتا۔ ساتھ ہی فاٹا میں جب یہ جاری ہوا تھا اس وقت آئین کے آرٹیکل247  کے تحت صدر مملکت اس ریگولیشن کے اجرا کا مجاز تھا مگر ایف سی آر کے کے خاتمے کے ساتھ وہ سب امتیازی دفعات ختم ہو گئی تھیں مگر اپنی خفت مٹانے اور غیرجمہوری قوتوں کی رضا کی خاطر اس کے فوراً بعد پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں سٹے آرڈر لیا۔ بدقسمتی سے یہ ریگولیشن2009  سے سابقہ فاٹا میں فوجی آپریشنوں کے جواز کیلئے جاری کیا گیا تھا۔ فاٹا انضمام کے بعد جب یہ علاقے قانون کی عملداری اور آئین کے تحت آئے تو ماورائے آئین مقاصد کے حصول کیلئے بقول افراسیاب خٹک لاقانونیت کو دوام بخشنے کیلئے پورے صوبہ پختونخوا  کو اس غیرآئینی ریگولیشن کے اجرا سے  فاٹا میں ضم کر دیا گیا اور پی ٹی آئی نے اس ریگولیشن کو پورے صوبے کیلئے بطورِ قانونچہ  جاری کیا۔ بدقسمتی سے اس کا عملی نفاذ صرف پختونخوا کے نئے اضلاع میں مقصود تھا جو ہنوز جاری ہے۔ یہاں کے لوگ آئے روز چیختے ہیں کہ ہمارے لاپتہ لوگ کہاں ہیں، ایف سی آر کے خاتمے کے بعد ان کو عدالتوں میں کیوں پیش نہیں کیا جاتا، بدامنی کے واقعے کے بعد ایف سی آر کے دور کی طرح پورے علاقے کو کیوں اجتماعی ذمہ داری کے نام پر اٹھایا جاتا ہے، پورے علاقے کو سب جیل قرار دیا جاتا ہے مگر درحقیقت نئے اضلاع کے ساتھ یہ امتیازی سلوک پی ٹی آئی کے غیرجمہوری قوتوں کے ساتھ سابق دور میں مداہنت کا نتیجہ ہے۔ اب پی ٹی آئی کی قیادت دفاعی ادارے سے شاکی ہے، غلامی کے خاتمے کی بڑھکیں مار رہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ آگر آپ حقیقی آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں، سول سپریمیسی/جمہور کی بالادستی کا نام لیتے ہیں، دفاعی محکمہ کو آئین کے اندر نیوٹرل رہنے کا کہتے ہیں  تو اب بھی صوبہ میں آپ حکمران ہیں، پورے پختونخوا کے وسائل کو وفاق کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، اس غریب صوبہ کو ذاتی لڑائی کی خاطر وفاق کے مقابل کھڑا کیا گیا ہے، پشتونوں کے جذبات کو اپنی انتقامی سیاست کیلئے بڑھکایا جا رہا ہے، یہ سب منظور ہے مگر بسم اللہ کیجئے! پہلے اپنے اس غیرآئینی ریگولیشن کے عملی نفاذ سے فقط انکار ہی کر دیں، پختونخوا میں سویلین اداروں کی بالادستی کیلئے قدم بڑھائیں تاکہ آپ کے بیانیہ کے قول و فعل میں موجود تضاد کا خاتمہ ہو سکے اور عوام کو آپ کی موہوم آزادی کے نعرے کی کچھ تفہیم بھی ہو سکے۔ جولائی2011  کو خیبر پختونخواکے سیکرٹری داخلہ نے  صدارتی حکم نامے کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت ملاکنڈ ڈویژن میں9  حراستی مراکز قائم کئے گئے تھے، 12 اگست 2011 کو سیکرٹری داخلہ نے دوسرا نوٹیفکیشن  ایکشن اینڈ ایڈ سول سول آف پاور ریگولیشن کے نام سے جاری کیا جس کے تحت قبائلی اضلاع میں 34 حراستی مراکز قائم کئے گئے، قبائلی اضلاع میں پولیٹیکل ایجنٹ کے لاک اپس اور ایف سی کے تمام قلعوں کو حراستی مراکز کا درجہ دیا گیا تھا جس کے بعد وہاں گرفتار افراد کو رکھا جاتا تھا، صدارتی ریگولیشن کے تحت ایک انٹرنمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی، جو گرفتار افراد کے متعلق فیصلہ کرے گی، اس قانون کے تحت تمام انٹرنمنٹ سنٹرز کو نوٹیفائی کیا گیا، ایک اوورسائیڈ بورڈ قائم کیا گیا جس میں دو سویلین اور دو فوجی افسران کیسز کے متعلق فیصلہ کرتے تھے۔ ایف سی آر کے خاتمے کے بعد اس لاقانونیت کو صوبائی حکومت کے ذریعے تھوپا گیا ہے۔