اے این پی نے خیبر بینک میں اقربا پروری کیلئے ترمیم کا حکومتی منصوبہ مسترد کر دیا۔سردار حسین بابک

اے این پی نے خیبر بینک میں اقربا پروری کیلئے ترمیم کا حکومتی منصوبہ مسترد کر دیا۔سردار حسین بابک


عوامی نیشنل پارٹی نے بینک آف خیبر کی بندربانٹ کیلئے ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ اے این پی ایسے کسی بھی اقدام کا راستہ روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گی،

 

 اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے کے واحد مالیاتی ادارہ بینک آف خیبر پرترامیم کی صورت میں حملے کر رہی ہے ،پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صوبے میں عددی اکثریت کی بنا پر خیبر پختونخوا کے اثاثے من پسند افراد میں بانٹنے میں لگی ہے اور دیگر وسائل میں اقربا پروری کے بعداب بینک آف خیبر کے ایم ڈی کی تعیناتی کا اختیار اور انتظامی امور ایک نجی ادارے کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،

 

 انہوں نے کہا کہ گزشتہ نو سال سے قابض حکمران جماعت بینک آف خیبر کے زیادہ شیئر ز ہونے کے باوجود مسلسل بینک ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے سیاسی اور ذاتی بنیادوں پر من پسند لوگوں کو نوازنے میں مصروف ہے ،

 

انہوں نے یاد دلایا کہ سابق وزیراعلی پرویز خٹک کے دور حکومت میں بھی بینک اثاثوں پر حملہ کیا گیا تھا لیکن اس وقت بھی عوامی نیشنل پارٹی کے ممبران اسمبلی نے مخالفت کے ذریعے اس کا راستہ روک لیا تھا،

 

سردار حسین بابک نے کہا کہ اب صوبائی حکومت ایک بار پھر بینک آف خیبر کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی اور انتظامی اختیار صوبے سے لیکر پرائیویٹ شیئرز ہولڈ رکے حوالے کرنے پر تلی ہے ، زیادہ شیئرزہونے پر صوبائی حکومت کس حیثیت میں ترامیم لاکر صوبے کی ملکیت ایک پرائیویٹ ادارے کے حوالے کر رہی ہے ،

 

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اس سے قبل بھی خیبر بینک کے منیجنگ ڈائریکٹرکی تعیناتی کیلئے ذمہ داری سونپی تھی تاہم ایم ڈی کی تعیناتی ضرورت کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے اسے مسترد کر دیا گیا تھا اور اب دوبارہ  پاکستان تحریک انصاف اور صوبائی وزیر خزانہ کی ذاتی دلچسپی سے فرم کو تبدیل کرکے من پسند ایم ڈی کی تعیناتی کیلئے دوسرے ادارے کی خدمات حاصل کرلی گئیں جبکہ اپنے من پسند شخص کو نوازنے کیلئے ماہانہ تنخوا45لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے،جبکہ دیگر الاؤنسز کی مد میں ایک بھاری رقم بھی بینک کے ذریعے ادا کئے جائیں گے،

 

 انہوں نے کہا کہ بینک آف خیبر کی زیادہ مالیت خیبر پختونخوا کی ہونے کے باوجود بینک انتظامیہ اور صوبائی وزیر خزانہ کی ملی بھگت سے اسے اسلام آبادمنتقل کیا جارہا ہے، 

 

پشاور میں بینک ہیڈ آفس کیلئے بڑی عمارت ہونے کے باوجود اسلام آباد گلبرگ گرین میں لاکھوں روپے کرائے پر جگہ حاصل کی گئی ہے،جس میں بینک کا آئی ٹی سسٹم پہلے سے منتقل کردیا گیا ہے اور اب بینک اس کیلئے 160 افراد کو بھرتی کریگا جو اس صوبے کے حقوق پر ڈاکہ ہے ،

 

انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت گزشتہ9سال سے صوبے کے وسائل کی بندر بانٹ میں مصروف ہے لیکن اے این پی اس بار بھی خیبر بینک کو بچانے کیلئے میدان میں ہوگی۔