انتخابی اصلاحات کیلئے حکومت کی من مانی قبول نہیں کرینگے، حیدر ہوتی 

انتخابی اصلاحات کیلئے حکومت کی من مانی قبول نہیں کرینگے، حیدر ہوتی 

اسلام آباد(شہباز نیوز )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ صاف 'شفاف انتخابات کا انعقاد انتخابی اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں لیکن اصلاحات کیلئے موجودہ حکومت کی من مانی کسی صورت قبول نہیں' حکومت یہ توقع کیسے کرسکتی ہے کہ انکی من مانی کو الیکشن کمیشن اور اپوزیشن جماعتیں تسلیم کریں گی'

 

انہوں نے کہا کہ حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کرانتخابی اصلاحات کیلئے راہ ہموار کرنا ہوگی اور الیکشن کمیشن نے ای وی ایم بارے جو حدشات ظاہر کئے ہیں حکومت کو اس بارے وضاحت دینا ہوگی۔

 

الیکشن کمیشن بارے حکومتی رویئے کی مذمت کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ای وی ایم پر اعتراضات اٹھانا الیکشن کمیشن کا اختیار اور ذمہ داری ہے' جب تک فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں آرہا تھا الیکشن کمیشن ٹھیک ٹھاک تھا لیکن جب الیکشن کمیشن نے حکومتی من مانی کو رد کیا تو حکومتی توپوں کا رخ الیکشن کمیشن کی طرف ہوگیا' اے این پی الیکشن کمیشن بارے حکومتی رویئے کی مذمت کرتی ہے اورالیکشن کمیشن کے قانونی اختیار کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ کھڑی ہے۔

 

اسلام آباد میں مرکزی کابینہ اور مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے دیگر رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹی خبروں کی روک تھام کے نام پر میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش اور سازش کی جارہی ہے جو لوگ میڈیا کو زنجیروں میں جھکڑنا چاہتے ہیں ان کو اس مقام تک میڈیا نے ہی پہنچایا ہے' جھوٹی خبروں نے جتنا نقصان اے این پی کو پہنچایا ہے، کسی دوسری سیاسی جماعت کو نہیں پہنچایا ہے اور ایک مخصوص وقت میں اے این پی کے خلاف ایک منظم میڈیا کمپین چلائی گئی۔

 

انہوں نے کہا کہ اے این پی آزاد صحافت پر یقین رکھتی ہے اگر میڈیا آزاد نہیں ہوگا تو سیاست اور جمہوریت آزاد نہیں ہوگی' اے این پی جھوٹی صحافت کے حق میں نہیں لیکن حکومت جو طریقہ کار اختیار کررہی ہے قابل قبول نہیں' اے این پی سمجھتی ہے کہ قانون سازی کیلئے میڈیا اور پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے' پاکستان میں میڈیا پوری طرح آزاد نہیں، قانون سازی کرکے حکومت میڈیا پرمزید قابض ہوناچاہتی ہے' میڈیا کی آزادی اور قدغنوں کے خلاف جدوجہد میں میڈیا اکیلا نہیں، اے این پی اس جدوجہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

 

حکومت کی معاشی پالیسیوں بارے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے قبل پی ٹی آئی کے دعوے محض جھوٹ پر مبنی تھے' بہترین ٹیموں کی دعویدار پی ٹی آئی نے آج ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے ' ناکام معاشی پالیسیوں کی بدولت مہنگائی عروج پر ہے اور کوئی طبقہ برے اثرات سے محفوظ نہیں رہا' سلیکٹڈ حکومت کی بدولت ملک میں بدانتظامی کی صورتحال یہ ہے کہ گرمیوں میں بھی گیس لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے' آئی ایم ایف کی شرائط پر معیشت سے کھلواڑ کیا جارہا ہے حکومت انتظامات چلانے کیلئے دن بدن قرضے لے رہی ہے جو تباہی کے سوا کچھ نہیں 'مہنگے داموں ایل این جی خریدنا اور وقت پر معاہدوں کی تجدید نا کرنا حکومت کی ناکامی ہے' مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر پہنچ چکی ہے اور عوام رل رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی نجکاری کی جارہی ہے'حکومت معاملات کو ٹھیک کرنے کی بجائے بگاڑنے پر تلی ہوئی ہے' میڈیا، وکلا، طلبا، مزدور اور ڈاکٹرز سمیت پورا پاکستان سراپا احتجاج ہے لیکن حکومت اب بھی کہہ رہی ہے کہ سب اچھا ہے اور آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

 

خطے اور افغانستان کی صورتحال بارے انہوں نے کہا کہ اے این پی کا افغانستان میں کوئی ذاتی مفاد اور پسند ناپسند نہیں' اے این پی افغانستان میں دیرپا امن اور خوشحالی کی خواہاں ہے' افغانستان کے معاملات اور قسمت کا فیصلہ افغانستان کی عوام نے کرنا ہے کسی دوسرے فریق کو کوئی حق نہیں کہ افغانستان کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ کرے' امن کے قیام اور حالات کو سدھارنے کیلئے افغانستان میں عبوری حکومت میں تمام طبقات کو نمائندگی دینا ہوگی، عبوری نظام اگر مخصوص ہوگا تو مشکلات مزید بڑھیں گی۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ،افغانستان کی صورتحال کا واحد حل باہمی مذاکرات ہے' اگر جنگ مسئلے کا حل ہوتا توچالیس سال میں فیصلہ ہوچکا ہوتا' چالیس سال قبل ہمارے اکابرین کی بات مان لی جاتی تو نوبت یہاں تک نہیں آتی' افغانستان میں امن اور استحکام تب ہی ممکن ہے جب وہاں کے عوام باالخصوص عورتوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ہر قیمت پر لسانی بنیادوں پر تقسیم سے بچانا ہوگا لسانی بنیادوں پر تقسیم ہوگی تو حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے' اے این پی توقع رکھتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف اور تمام پڑوسی ممالک کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی'دنیا سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نازک صورتحال میں دنیا نے اگر افغانستان کو تنہا چھوڑا تو یہ غلطی ہوگی' دنیا کو افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا اور مداخلت سے گریز کرنا ہوگا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کا دوبارہ منظم ہونا تشویشناک ہے' ملک بھر باالخصوص خیبر پختونحوا اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ لوگوں کو بھتے کیلئے کالیں کی جارہی ہیں، پولیس، عام عوام اور سیکورٹی اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایک دفعہ اذیت سے گزر چکے ہیں، ملک دوبارہ دہشتگردی کا متحمل نہیں ہوسکتا' ریاست اور حکومت کو درست وقت پر واضح پالیسی اپنانا ہوگی اور پارلیمان کو اعتماد میں لینا ہوگا۔

 

ون بیلٹ ون روڈ وژن منصوبے بارے گفتگو کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اے این پی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا خیر مقدم کرتی ہے لیکن تحفظات کو دور کرنا ہوگااس سے پہلے سی پیک میں خیبر پختونخوا کو جتنا فائدہ ملنا چاہیئے تھا اتنا نہیں ملا کچھ قوتیں اس منصوبے کے خلاف ہیں حکومت اور ریاست کو بروقت فیصلے لینے ہوں گے'ممکنہ خطرات اور خراب صورتحال کو ذہن میں رکھ کر اقدامات کرنا ہوں گے۔

 

پارٹی میں اختلافات کی تردید کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی میں اندرونی اختلافات کی باتیں پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں ' عوامی نیشنل پارٹی پہلے سے زیادہ متحد اور ایک پیج پر ہے، عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔