افغان سفیرکی بیٹی کے اغوا و تشدد کی تحقیقات کی جائیں، ایمل ولی

افغان سفیرکی بیٹی کے اغوا و تشدد کی تحقیقات کی جائیں، ایمل ولی

پشاور ( شہباز نیوز ) عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ افغان سفیرکی بیٹی کا اغوا اور ان پر تشدد تشویشناک ہے، تحقیقات کی جائیں۔یہ واقعہ ملک کا محفوظ ترین جگہ قرار دیے جانیوالے اسلام آباد میں پیش آیا ہے۔اس قسم کے واقعات ملکی و بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث بنیں گے۔

 

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ قابل افسوس اور قابل مذمت امر یہ ہے کہ ایک دن گزرجانے کے بعد بھی سرکاری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔یہ واقعات پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کے فقدان میں مزید اضافہ کرے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ دارالحکومت میں سیف سٹی کیمرے نصب ہیں، ملزمان کو فوری طور پر عوام کے سامنے لایا جائے۔اگر اسلام آباد میں ایک سفیر کے خاندان کے افراد محفوظ نہیں تو دیگر علاقوں کی صورتحال کا اندازہ آسانی کے ساتھ لگایا جاسکتا ہے۔

 

ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں جب پاکستان دعوے کررہا ہے کہ افغانستان میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے گا، ایسے واقعات کا سامنے آنا خطرناک نتائج دیں گے۔اسلام آباد پولیس، خفیہ ادارے اور وفاقی حکومت فوری طور پر ملزمان کو گرفتار کرکے انکو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔سفیر اور انکے خاندان کے افراد کو سیکیورٹی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں وہ ناکام ہوچکے ہیں۔اگر ملزمان طاقتور ہیں تو کوئی بھی سفیر اپنے آپ کو اور خاندان کے افراد کو محفوظ تصور نہیں کریں گے جو کسی بھی صورت پاکستان کے مفاد میں نہیں۔