افغان سفیر کی بیٹی کا اغوا ایک شرمناک حرکت 

افغان سفیر کی بیٹی کا اغوا ایک شرمناک حرکت 

افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد سے خطے کی صورتحال اور اس سے پڑوسی ممالک پر پڑنے والے اثرات جن کا پہلے سے ذکر کیا جاتا رہا ہے نمایاں ہونے لگے ہیں۔ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نامعلوم افراد نے افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی صاحبزادی سلسلہ علی خیل کو اغوا کر کے ان پر وحشیانہ تشدد کیا اور بعد ازاں ان کو ایف سیون کے قریب جہاں ان کی رہائش گاہ ہے چھوڑ دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو باندھا گیا تھا۔ مجروحہ ہسپتال میں زیرعلاج ہیں جہاں ان سے تفتیش کی گئی لیکن وہ زیادہ معلومات فراہم نہ کر سکیں۔ افغان وزارت خارجہ کی جانب سے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے شرمناک فعل قرار دیتے ہوئے اپنے سفارتکاروں، ان کے خاندان کے ممبران اور دیگر سٹاف کی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور ان کی حفاظت کیلئے بین الاقوامی قوانین کے مطابق اقدامات اٹھانے اور واقعہ کی تحقیقات اور ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے پر زور دیا گیا۔ اغوا اور تشدد واقعہ کے فوراً بعد اسلام آباد پولیس اور دیگر تفتیشی و قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آ گئے اور کسی بھی لائن آف ایکشن سے پہلے مجروحہ سے ابتدائی معلومات لینے ہسپتال پہنچ گئے لیکن وہ زیادہ معلومات فراہم نہ کر سکیں۔ وزیراعظم عمران خان نے افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا اور تشدد کے واقعے کا نوٹس لے کر وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو ہدایت کی ہے کہ جلد از جلد ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور اگلے 48 گھنٹوں میں حقائق سامنے لا کر ملزمان کو سزا دلوائی جائے۔ واقعہ کے بارے میں افغانستان کی وزارت خارجہ نے بھی اپنا حصہ ڈالتے ہوئے کابل میں پاکستانی سفیر منصور احمد خان کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا اور انہیں کہا گیا کہ یہ احتجاج پاکستانی وزارت خارجہ اور ریاست کو پہنچایا جائے اور افغان وزارت خارجہ پاکستان سے اس ناقابل معافی حرکت کے پیچھے ملوث مجرموں کو فوراً گرفتار اور سزا دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ایسے واقعات کا رونما ہونا حقیقتاً شرمناک ہے کیونکہ اس سے دونوں برادر ممالک کے مابین کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کے سدباب کیلئے جس قدر جلد ممکن ہو سکے اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ آئندہ کسی کو بھی ملک کا وقار مجروح کرنے کی ہمت نہ ہو سکے۔