اداکارہ مارلن منرو کی خودکشی

اداکارہ مارلن منرو کی خودکشی

تحریر: ڈاکٹرسردار جمال

ایک مشہور ترین اداکارہ مارلن منرو نے خودکشی کر لی اور ماہرین نفسیات اس کے اسباب کھوج رہے تھے کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ وہ حسین ترین عورت تھی۔ وہ سب سے زیادہ کامیاب تھی۔ امریکہ کا صدر کینیڈی اس سے محبت کرتا تھا۔ اس کے چاہنے والوں کی تعداد ہزاروں لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں تھی۔ جتنا زیادہ سے زیادہ کوئی شخص کر سکتا ہے اس سے بھی زیادہ کی حامل تھی۔ ہر شے تھی اس کے پاس۔ لیکن وہ عوامی تھی اور وہ اس سے آگاہ تھی حتی کہ اپنی محبت کی خلوت گاہ میں جب وہ صدر کینیڈی کے ساتھ تھی تو وہ اسے ”مسٹر پریذیڈنٹ“ کہہ کر بلا رہی تھی، گویا وہ کسی انسان سے محبت نہ کر رہی ہو بلکہ ایک ادارے سے محبت کر رہا تھا! وہ ایک ادارہ تھی۔ رفتہ رفتہ اسے معلوم ہوا کہ اس کی تو کوئی شے نجی نہیں رہی ہے۔ کھلی ننگی، کوئی نجی ذات نہیں ہے۔ میرے خیال میں تو اس نے اس لئے خودکشی کر لی تھی کہ یہی وہ واحد شے ایسی بچی تھی جسے وہ نجی طور پر کر سکتی تھی۔ ہر شے عوامی عوامی تھی، یہی واحد شے تھی جو وہ اپنے ساتھ کر سکتی تھی، تنہا، کوئی شے مطلق طور پر گہری اور خفیہ۔ عوامی شخصیات اس لئے ہمیشہ خودکشی کی طرف مائل ہوتی ہیں کیونکہ صرف خودکشی کے ذریعے اس حقیقت کا جلوہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہ کون ہیں؟ وہ سب جو حسین ہے داخلی ہوتا ہے اور داخلی کا مطلب ہے نجی۔ اگر آپ نے عورت کو محبت کرتے ہوئے دیکھا ہو تو وہ  ہمیشہ آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ اسے کسی شے کا علم ہے۔ اندھیرے میں ہر ایک شے معدوم ہو جاتی ہے کیونکہ کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ صرف اور صرف حواس وہاں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام اچھے ریستورانوں میں روشنی سے گریز کیا جاتا ہے، تیز روشنی سے گریز کیا جاتا ہے۔ وہاں شمعوں کی روشنی ہوتی ہے۔ جہاں کہیں کسی ریستوران میں شمعیں روشن ہوتی ہیں، ذائقہ بڑھ جاتا ہے، خوب کھایا جاتا ہے اور خوب مزہ آتا ہے۔ خوشبو بندے کو گھیر لیتی ہے۔ اگر وہاں بہت تیز روشنی ہوتی تو مزہ نہ ہوتا۔ ہر ایک شے کو عوامی بنا دیتی ہے۔ داخل میں جانا چاہئے تاکہ باہر مزید ثروت مند ہو جائے اور مفلس نہ رہے۔ اور ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب کبھی تم تھکن اور پژمردگی محسوس کرو تو توانائی کا سر چشمہ اندر ہوتا ہے۔ آنکھیں بند کر لو اور اندر جاؤ۔ خارجی تعلقات استوار کرو، بالکل خارجی تعلقات لازمی ہوتے ہیں۔ ہم دنیا میں گھومتے پھرتے ہیں، کاروباری تعلقات ہوں گے لیکن انہیں کو سب کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کردار ضرور ہوتا ہے لیکن ضرور کوئی شے مطلق طور پر خفیہ اور نجی ہونی چاہئے، کوئی ایسی شے جس کو اپنا کہا جاتا ہے۔ داخلی تعلقات بھی قائم رکھنے چاہئیں۔ مالن منرو کے ہاں اسی شے کی کمی تھی۔ وہ ایک عوامی عورت تھی، کامیاب، تاہم مکمل طور پر ناکام۔ وہ اپنی کامیابی اور شہرت کے عروج پر تھی جب اس نے خودکشی کر لی۔ جینے کے لئے اس کے پاس سبھی کچھ تھا، زیادہ شہرت، زیادہ کامیابی، زیادہ کرشمہ، زیادہ حسن و جمال، زیادہ صحت کا تصور، اس کے پاس ہر ہر شے موجود تھی اور پھر بھی کسی شے کی کمی تھی جو اس کا داخل، اس کا اندر کھوکھلا تھا۔ اور وہ تھا عوامی ہونا۔ جبکہ عورت کی نفسیات یہ ہے کہ وہ عوامی نہ بنے بلکہ صرف اور صرف ایک مرد کی توجہ کا مرکز بنی رہے مگر جوانی میں لڑکیاں بھٹک جاتی ہیں اور وہ شہرت پانا چاہتی ہیں اس لیے شہرت پانے کے لئے عوامی ہونا پڑتا ہے۔ عوامی ہونے کے بعد شہرت تو مل جاتی ہے لیکن داخلی خالی پن محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس وقت مسئلہ یہ درپیش آتا ہے کہ عورت جیون ساتھی تلاش کرتی ہے جبکہ معاشرہ عوامی لڑکی سے نفرت کرتا ہے اس لئے مشہور سے مشہور عورت کو بھی خودکشی کرنا پڑتی ہے۔