افغان فنکار بھی انسان ہیں

افغان فنکار بھی انسان ہیں

گزشتہ سال اگست میں جب امریکہ و افغان طالبان کے دوحہ معاہدے کے نتیجے میں افغانستان سے اشرف غنی اور ان کی حکومت کو مائنس کیا گیا تو اس وقت سے لے کر آج تک افغانستان اور افغانستان کے عوام ایک غیریقینی صورتحال اور غیریقینی حالات سے گزر رہے ہیں۔ افغانستان کی نئی حکومت کو تاحال دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم کیا نا ہی مستقبل قریب میں اس طرح کے کوئی آثار دکھائی دے رہے ہیں لیکن بدقسمتی کی انتہا یہ دیکھیے کہ افغان طالبان کی حکومت اور ان کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ بھگتنے والے افغان عوام تو ایک طرف وہ لوگ جو ان حالات سے تنگ آ کر بیرون دنیا یا خصوصاً افغانستان ہجرت کر گئے ہیں ان کے حالات بھی سدھرتے دکھائی نہیں دے رہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی مشکلات میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ ان لوگوں میں فن و ادب سے وابستہ لوگ سرفہرست ہیں کیونکہ افغان طالبان نے فن خصوصاً فن موسیقی پر پابندی لگا رکھی ہے، کئی فنکاروں کو وہ گولی مار کر پیوند خاک بھی کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغان فنکاروں نے ملک چھوڑ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی لیکن ان بے چاروں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اپنا گھربار چھوڑ کر بھی انہیں جبر اور ظلم و ستم کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔ گزشتہ دنوں پشاور میں افغان فنکاروں کے ساتھ ہوا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان کی اس بات کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہیں کہ افغان گلوکاروں کے ساتھ صوبائی حکومت کا رویہ شرمناک اور ناقابل قبول ہے، (کیونکہ) ہنر اور فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اے این پی تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہنرمندوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پشاور میں افغان گلوکاروں کی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ایسے اقدامات سے صوبائی حکومت سارے پاکستانیوں باالخصوص پختونوں کو شرمندگی سے دوچار کر رہی ہے، پوری دنیا کو معلوم ہے کہ افغانستان میں طالبان کے آنے سے عام افغان عوام سمیت ہنرمند بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں، ایک جانب افغان ہنرمندوں کوطالبان سے خطرہ ہے تو دوسری جانب پختونخوا میں طالبان خان کی حکومت سے، ان ہنرمندوں کوڈی پورٹ کرنا ان کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے، طالبان نہ صرف ان کی تضحیک کر رہے ہیں بلکہ ان سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست یہاں مقیم افغان شہریوں پر کوئی احسان نہیں کر رہی ہے، افغانستان کے شہری مشکل حالات کی بدولت جنیوا کنونشن کے تحت یہاں آباد ہیں، ریاست  پاکستان کو افغان پناہ گزین کیلئے یو این ایچ سی آر سے اربوں روپے ملتے ہیں، یہ اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ یہاں ان کے بحفاظت قیام کو یقینی بنائے۔ ایمل ولی خان نے خبردار کیا کہ ریاست ہوش کے ناخن  لے اور گرفتار افغان ہنرمندوں کی باعزت رہائی کیلئے کردار ادا کرے (کیونکہ) ہنرمند ہمارے معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں، اے این پی اور باچا خان ٹرسٹ ان کو قدر اور احترام کی نظر سے دیکھتی ہے، ہم نے نا صرف پہلے ان کو مواقع فراہم کئے ہیں بلکہ مستقبل میں بھی ان کی صلاحیتوں کے مطابق باچا خان ٹرسٹ اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا، باچا خان ٹرسٹ کے زیر اہتمام انگازی پروڈکشن میں افغان گلوکاروں کے ساتھ ریکارڈنگز آخری مراحل میں ہیں جنہیں جلد ہی پشتو موسیقی کے چاہنے والوں کیلئے ریلیز کیا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان فنکاروں کو اگر حککومت کسی طرح کی سہولیات نہیں بھی دے سکتی تو نا دے لیکن کم از کم ان کے راستے میں رکاوٹیں بھی نا کھڑی کرے بالخصوص انہیں گرفتار کر کے ڈی پورٹ ہرگز ہرگز نا کیا جائے ورنہ ڈی پورٹ کئے گئے جس افغان فنکار کو خدانخواستہ طالبان نے قتل کیا تو اس کا خون خیبر پختونخوا حکومت اور یہاں کے حکمرانوں کی گردن پر ہو گا۔