سی پیک کے لیے افغان سرزمین دستیاب ہے، ذبیح اللہ مجاہد

سی پیک کے لیے افغان سرزمین دستیاب ہے، ذبیح اللہ مجاہد

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ انہوں نے پاکستان سے سرحدیں کھولنے کا مطالبہ کیا کیونکہ اس سے تاجروں اور مریضوں سمیت عام افغانوں کو مسائل درپیش ہیں۔

 

پاکستانی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ جنرل فیض کے حالیہ دورہ کابل کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’اس سکیورٹی وفد نے ملاقاتوں میں افغان جیلوں سے بھاگے ہوئے قیدیوں کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا کہ سرحد کھولنے سے وہ اسے پار کرسکتے ہیں، تاہم ہم نے انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔‘

 

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی اور مشرق وسطیٰ کی مدد سے کابل ائیرپورٹ کی بحالی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امید ہے کابل ائیرپورٹ بہت جلد پروازوں کے لیے بحال ہو جائے گا۔

 

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے ان کے شکر گزار ہیں۔ پاکستانی وفد نے ہم سے سیکیورٹی اور دیگر معاملات پر بات کی۔پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ افغانیوں کے لیے سرحدوں کے دروازے کھلے رکھے۔

 

ترجمان طالبان نے کہا، 'چین نے ہمیں معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ افغانستان عالمی برادری سے تجارتی تعلقات استوار رکھنا چاہتا ہے۔ چین کی اقتصادی منصوبوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ کاسا منصوبے میں طالبان کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ سی پیک میں حصہ دار بننے کے خواہاں ہیں۔ چاہتے ہیں اقتصادی منصوبوں میں شراکت دار بنیں۔ سی پیک کے لیے افغان سرزمین دستیاب ہے، حالات سازگار ہیں۔ چین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے۔'

 

طالبان ترجمان نے مزید بتایا کہ ’متحدہ عرب امارات اور عمان کے طیارے بین الاقوامی امداد لے کر پہنچے ہیں اور مزید امداد بھی آرہی ہے۔ کابل ایئرپورٹ کی مرمت کے بعد مزید تیزی آئے گی۔ ہم دیگر ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ افغانستان کے عوام کی مدد کریں۔‘

 

ان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں تجارت واپس معمول کی جانب لوٹ رہی ہے اور بینکوں کے کاروبار میں بھی دن بدن بہتری آ رہی ہے۔‘

 

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ صوبہ پنج شیر پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے، جہاں احمد مسعود کی سربراہی میں ’مزاحمتی فرنٹ‘ طالبان کے خلاف برسر پیکار تھا۔

 

دوسری جانب انہوں نے نئی حکومت کے اعلان کا کوئی وقت بتانے سے پھر انکار کیا۔

 

کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا، ’اب ملک مزید جنگ اور فائرنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا، اب چاہیے کہ لوگ اپنی معمول کی زندگی کی جانب لوٹ جائیں۔‘

 

ذبیح اللہ مجاہد نے پنج شیر کے لوگوں کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’چند افراد جنگ کی بات کر رہے تھے وہ لاپتہ ہوگئے ہیں۔ ایک رپورٹ جس کی میں تصدیق نہیں کر سکتا ہے کہ امراللہ صالح تاجکستان چلے گئے ہیں۔ ہماری ان سے اپیل ہے کہ ایسے افراد واپس لوٹ آئیں، انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا، بس انہیں مزید شر پھیلانے سے رکنا ہوگا۔‘

 

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پنجشیر میں امن کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں،انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے ہم نے کوششیں کیں۔جرگوں اور مذاکرات سے کامیابی نہ ہوئی تو پنجشیر میں طاقت کا استعمال کیا۔

 

افغانستان میں کئی جگہوں سے اسلحہ کر پنجشیر میں رکھا گیا تھا تاہم اب ہم پنجشیر میں فتح کے بعد امن کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم نئی حکومت کی طرف جائیں گے اور ہمارا مقصد پر امن افغانستان ہو گا۔ہماری خواہش تھی پنجشیر میں لڑائی اور فائرنگ سے گریز کریں لیکن ہمیں مزاحمت کرنا پڑی۔

 

اس سے قبل ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں پنج شیر کے لوگوں کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ان کے ساتھ کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ’سب ہمارے بھائی ہیں۔ ایک ملک اور ایک ہدف کے لیے مل کر جدوجہد کریں گے۔‘

 

انہوں نے مزید کہا تھا، ’اس فتح کے ساتھ تمام ملک جنگ سے نکل آیا ہے، لہذا اب ہم آزادی، خودمختاری اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے۔‘