افغانستان: قندھار کی امام بارگاہ میں دھماکا، 16 افراد جاں بحق

افغانستان: قندھار کی امام بارگاہ میں دھماکا، 16 افراد جاں بحق

افغانستان کے شہر قندھار کی ایک امام بارگاہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران بم دھماکے کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔

 

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی’ کے مطابق جنوبی شہر کے مرکزی ہسپتال کے ترجمان نے کہا کہ ’میرواعث ہسپتال میں 16 لاشیں اور 32 زخمیوں کو لایا گیا‘۔

 

ابتدائی طور پر دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہوسکی لیکن یہ شمالی شہر قندوز کی مسجد میں خودکش بم دھماکے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد ہوا جس کی ذمہ داری ’داعش‘ نے قبول کی تھی۔

 

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی نے کہا کہ ’دھماکے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے‘۔

 

انہوں نے کہا کہ حکام، دھماکے کی تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔

 

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں بہت سے افراد کو امام بارگاہ کے فرش پر دیکھا جاسکتا ہے جو شدید زخمی ہیں۔

 

صوبائی کونسل کے سابق رکن نعمت اللہ وفا نے کہا کہ دھماکا امام بارگاہ میں ہوا جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے، تاحال کسی تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

 

طالبان کی اسپیشل فورسز جائے وقوع پر پہنچ گئیں جبکہ لوگوں سے زخمیوں کے لیے خون کے عطیات دینے کی بھی اپیل کی گئی۔

 

واضح رہے کہ طالبان کے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے مسجد پر ہونے والا یہ تیسرا دھماکا ہے۔

 

قبل ازیں گزشتہ جمعے کو افغانستان کے شمال مشرقی صوبے قندوز کی ایک مسجد میں نماز کی ادائیگی کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 55 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔