افغانستان: حکومت سازی میں تاخیر سے مشکلات بڑھ رہی ہیں

افغانستان: حکومت سازی میں تاخیر سے مشکلات بڑھ رہی ہیں

  عزیز بونیرے

افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے دو ہفتے بعد بھی طالبان افغانستان کے نئے سربراہ کے نام پر متفق نہ ہو سکے۔ طالبان کے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد وہاں پر امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہونے کی وجہ سے وہاں پر تجارتی مراکز، بینک، تعلیمی ادارے اور سرکاری محکمے بھی تاحال فعال نہ ہو سکے جس کی وجہ سے بداعتمادی کی فضا ختم نہ ہو سکی۔ اشرف غنی دور حکومت میں مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاری کرنے والے مقامی اور بین الاقوامی بیشتر سرمایہ کار افغانستان کی موجودہ صورتحال کے باعث ہی محفوظ ممالک منتقل ہو چکے ہیں، طالبان نے افغانستان کی عبوری حکومت میں تمام نسلوں اور قبائلی رہنماؤں کی نمائندگی کا عندیہ دیا ہے اور طالبان افغانستان میں شراکت داری پر مبنی عبوری حکومت بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایک درجن رہنماؤں کے نام اس وقت نئی عبوری حکومت کیلئے زیرغور ہیں۔

 

 اس حوالے سے طالبان ذرائع نے بھی بتایا کہ نئی عبوری حکومت تمام نسلوں اور قبائلی رہنماؤں پر مشتمل ہو گی جس کے لئے (حکومت سازی کیلئے) طالبان نے سپریم لیڈشپ کونسل کا اجلاس بھی بلا لیا، طالبان ذرائع کے مطابق عبوری حکومت کا دورانیہ اس وقت واضح نہیں تاہم نئی عبوری حکومت میں تاجک اور ازبک قبائلی رہنماؤں کے بیٹوں سمیت نئے چہرے شامل ہوں گے۔ نئی عبوری افغان حکومت کی سربراہی طالبان کے امیرالمومنین کریں گے، آئندہ حکومت کی ہیئت اور وزرا کی نامزدگی کیلئے سپریم لیڈرشپ کونسل بلا لی گئی ہے جبکہ وزراتی نامزدگیوں میں عدلیہ، داخلی سکیورٹی، دفاع، خارجہ امور، فنانس، انفارمیشن اور کابل کیلئے خصوصی تقرری شامل ہے۔ 



طالبان ذرائع کے مطابق عبوری حکومت کا دورانیہ اس وقت واضح نہیں تاہم نئی عبوری حکومت میں تاجک اور ازبک قبائلی رہنماؤں کے بیٹوں سمیت نئے چہرے شامل ہوں گے۔ نئی عبوری افغان حکومت کی سربراہی طالبان کے امیرالمومنین کریں گے، آئندہ حکومت کی ہیئت اور وزرا کی نامزدگی کیلئے سپریم لیڈرشپ کونسل بلا لی گئی ہے



ایک طرف افغان طالبان افغانستان میں نئی عبوری حکومت کیلئے مختلف سیاسی لیڈرشپ سے بات چیت کر رہے ہیں تو دوسری جانب طالبان کی طرف سے سابق افغان صدر حامد کرزئی اور سابق چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو گھر میں نظر بند کرنے کی رپورٹ بھی میڈیا پر سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت طالبان کی قیادت بھی افغانستان کے نئے سربراہ کے نام پر متفق نہیں ہے، ملا برادر اور ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب بھی اس وقت کابل میں حکومت سازی کیلئے مشاورت میں مصروف ہیں تو دوسری جانب حقانی نے بھی کئی سیاسی رہنماؤں سے افغان عبوری حکومت کے قیام کے سلسلے میں ملاقاتیں کی ہیں۔ طالبان کی جانب سے دو ہفتوں میں نئے سربراہ کا اعلان نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگ بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ کہیں افغانستان میں نئے سربراہ پر اختلافات کی وجہ سے ایک نئی جنگ شروع نہ ہو جائے جس میں سب سے زیادہ عام لوگ ہی متاثر ہوں گے۔ 

 

پندرہ اگست کو افغان طالبان افغانستان کے مرکزی شہر کابل میں داخل ہوئے جس کے بعد افغانستان میں نئی حکومت کیلئے افغان طالبان نے دوحہ قطر اور افغانستان کے اندر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں شروع کر دیں۔ افغانستان کے قریباً تمام صوبوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان کی قیادت بھی کھل کر سامنے آ گئی اور مختلف سیاسی رہنماؤں کے ساتھ نئی حکومت کے لئے مشاورت شروع کی۔ طالبان قیادت نے سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ، انجینئر گلبدین حکمتیار، پاکستان میں سابق افغان سفیر عمر زاخیلوال سے ملاقاتیں کیں مگر تاحال حکومت سازی پر دونوں جانب سے اتفاق رائے سامنے نہ آ سکا۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی نئی حکو مت کے حوالے سے میڈیا کو بتایا ہے کہ افغانستان کے نئے حکمران طالبان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا کو اکتیس اگست تک ہی تمام غیرملکیوں کا انخلا مکمل کرنا ہو گا اور اس تاریخ میں توسیع نہیں ہو گی۔



طالبان کی قیادت بھی افغانستان کے نئے سربراہ کے نام پر متفق نہیں ہے، ملا برادر اور ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب بھی اس وقت کابل میں حکومت سازی کیلئے مشاورت میں مصروف ہیں تو دوسری جانب حقانی نے بھی کئی سیاسی رہنماؤں سے افغان عبوری حکومت کے قیام کے سلسلے میں ملاقاتیں کی ہیں



افغان طالبان نے افغانستان کے نئے سربراہ کے نام کے اعلان کے بغیر اب تک کچھ مخصوص سیٹوں کیلئے اپنے نمائندوں کی تقرری کا عمل شروع کر دیا ہے جس میں اب تک نئے وزیر خزانہ، قائم مقام وزیر تعلیم، قائم مقام وزیر داخلہ اور انٹیلی جنس چیف سمیت مرکزی بینک کے سربراہ کی تقرر ی شامل ہے۔ طالبان نے گل آغا شیرزئی کو افغانستان کا وزیر خزانہ، صدر ابراہیم کو قائم مقام وزیر داخلہ اور نجیب اللہ کو انٹیلی جنس چیف، ملا شیریں کوکابل کا گورنر اور حمداللہ نعمانی کو دارالحکومت کا میئر، حاجی محمد ادریس کے نام سے مشہور ملا عبدالقہار کو مرکزی بینک کا قائم مقام سربراہ بنایا گیا ہے جب کہ ہیمت اخوندزادہ قائم مقام وزیر تعلیم مقرر کیے گئے ہیں۔ 

 

طالبان کے سیاسی ونگ کے سربراہ اور نائب امیر ملاعبدالغنی برادر بھی بیس سال بعد افغانستان پہنچ گئے ہیں اور انہیں افغانستان میں طالبان کی ممکنہ حکومت میں اہم ذمہ داری سونپے جانے کا امکان ہے۔ طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر میں موجود قیادت دوحہ سے امریکی طیارے میں پہنچانے کے بعد اب کابل میں نئی حکومت سازی کیلئے مشاورت میں مصروف ہے۔ ملا عبدالغنی برادر نے افغانستان روانگی سے قبل قطری وزیر خارجہ سے ملاقات کی جس میں  افغانستان کی سیاسی اور سکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل میں اقتدار کے خلا کے باعث ملا برادر کو فوری طور اہم ذمہ داری دیے جانے کا امکان ہے۔ طالبان ذرائع کے مطابق قطر سے آنے والے وفد کا پہلے کابل ائیرپورٹ اترنے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن کابل ائیرپورٹ پر امریکی فوج کی موجودگی پر وفد کو قندھار اترنے کا کہا گیا۔



دو ہفتوں میں نئے سربراہ کا اعلان نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگ بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ کہیں افغانستان میں نئے سربراہ پر اختلافات کی وجہ سے ایک نئی جنگ شروع نہ ہو جائے جس میں سب سے زیادہ عام لوگ ہی متاثر ہوں گے



ملا عبدالغنی برادر امارت اسلامی افغانستان کے نائب امیر ہیں، فروری2020  میں امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط بھی ملا عبدالغنی برادر نے کیے تھے۔ ملا عمر کے انتہائی قابل اعتماد کمانڈروں میں سے ایک، ملا عبدالغنی برادر کو2010  میں پاکستان کے شہر کراچی سے سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا تھا جنہیں2018  میں رہا کیا گیا جس کے بعد وہ قطر چلے گئے تھے۔

 

افغانستان سے لوگ طالبان کے خوف کی وجہ سے فرار ہونے کی کوشش میں ہیں یا یہ اقتصادی مہاجرت ہے؟ اس بارے میں حقائق جاننے کی خاطر ان دونوں عوامل کا تجزیہ ناگزیر ہے۔ دراصل خوف خوشحال زندگی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہوتا ہے۔ اچھے مستقبل یا معاشی و معاشرتی خوشحالی کے لیے لوگ مغربی ممالک جانے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ یہ وہ بیانیہ ہے، جسے دیگر ترقی پذیر خطوں کی طرح جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔ اس وقت کابل ایئرپورٹ پر ہزاروں افغان جمع ہو چکے ہیں تاکہ وہ کسی نہ کسی طرح ملک سے نکل سکیں۔ افغانستان سے امریکہ نے اب تک19  ہزار سے زائد لوگوں کو نکال دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ایک ترجمان نے ٹویٹ میں آگاہ کیا کہ14  اگست سے اب تک امریکہ نے امریکی فوجی اور اتحادی ممالک کی پروازوں کے ذریعے82  ہزار300  افراد کو وہاں سے نکالا ہے، جولائی کے اواخر سے اب تک افغانستان سے نکالے گئے افراد کی کل تعداد87  ہزار900  ہو چکی ہے۔ کابل ایئر پورٹ پر تین دھماکوں کے بعد امریکہ نے کابل سے امریکی افواج کے انخلا میں پاکستان سے مد د طلب کی ہے، اب امریکی افواج کو کابل سے پاکستان منتقل کیا جائے گا جس کے بعد انہیں اپنے ملک روانہ کیا جائے گا۔ امریکی افواج کے انخلا کیلئے کراچی اور اسلام آباد میں تمام انتظامات بھی مکمل کر لئے گئے ہیں۔ 

 

افغانستان میں طالبان کی جانب سے حکومت سازی نہ ہونے کی وجہ سے اور بینکوںکی بندش سے کاروباری سرگرمیوں میں 80%  کمی آئی ہے۔15  اگست کو افغان طالبان کے افغانستان میں کنٹرول سے تمام سرگرمیاں معطل رہیں جس کی وجہ سے مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاروں کو ملین ڈالرز نقصان اٹھانے کا سامنا رہا۔ طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کردہ رہائشی فلیٹ اور کمرشل پلازے دو ہفتوں کے اندر ویران ہو گئے جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم افغانی اور بیرونی سرمایہ کار موجودہ صورتحال کے پیش نظر افغانستان سے منتقل ہوئے۔ گزشتہ دس سالوں میں افغانستان امن و امان کی بہتر صورتحال کی وجہ سے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ میں ہوئی ہے۔ اب طالبان کے فغانستان پر کنٹرول کے بعد سب کچھ زیرو پر آ گیا ہے، اب نہ تو یہاں پر سرمایہ کار موجود ہیں اور نہ ان کا سرمایہ، بینکوں کی بندش کی وجہ سے یہاں پر لوگ مختلف بینکوں میں موجود اربوں روپے کا سرمایہ چھوڑ کر اپنی جان بچانے کیلئے دوسرے ممالک منتقل ہونے میں کامیاب ہوئے۔ افغانستان میں ان رہائشی اورکمرشل پلازوں سے سرمایہ کاروں کو ماہانہ کروڑوں روپے کی آمدنی ہو رہی تھی، موجودہ صورتحال میں عام لوگوں اور سرمایہ کاروں کے افغانستان سے منتقل ہونے کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کاروبار میں ستر سے نوے فیصد کمی آئی ہے، کابل میں دو ہزار سے تین ہزار روپے ماہانہ کرائے کے مکان اور دفاتر مکمل طور پر خالی ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو اربوں روپے نقصان کا سامنا رہا۔ اب افغانستان میں نئی حکومت میں مزید وقت لگنے سے افغانستان کو بجلی، پٹرول اور خوراکی اشیاء کی قلت کا سامنا رہے گا۔



موجودہ صورتحال میں عام لوگوں اور سرمایہ کاروں کے افغانستان سے منتقل ہونے کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کاروبار میں ستر سے نوے فیصد کمی آئی ہے، کابل میں دو ہزار سے تین ہزار روپے ماہانہ کرائے کے مکان اور دفاتر مکمل طور پر خالی ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو اربوں روپے نقصان کا سامنا رہا۔ اب افغانستان میں نئی حکومت میں مزید وقت لگنے سے افغانستان کو بجلی، پٹرول اور خوراکی اشیاء کی قلت کا سامنا رہے گا



افغانستان کے اندر اپنی بجلی کی پیداوار اکتیس میگاواٹ ہے جبکہ باقی بجلی کی ضرورت وہ ازبکستان سے پوری کرتا ہے۔ اب اگر حکومت سازی میں مزید وقت لگ گیا تو ازبکستان سے بجلی معاہدے میں مشکلات کا سامنا ہو گا، کسی بھی وقت ازبکستان سے بجلی کی فراہمی معطل ہو سکتی ہے جبکہ پٹرول کی زیادہ تر ضرورت ایران سے پوری کی جاتی ہے، ایران نے تو طالبان کو تیل کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے مگر جب تک افغان حکومت کی جانب سے ان بنیادی اشیاء کی قیمت نہیں ادا کی جاتی تو کب تک یہ ممالک طالبان کے ساتھ تیل اور بجلی کی مد میں مدد کریں گے؟ اس وقت افغانستان میں تیل کا بڑا ذخیرہ موجود ہے مگر جس رفتار سے طالبان کی جانب سے گاڑیوں کے استعمال پر تیل خرچ کیا جا رہا ہے تو ایک ماہ کے اندر اندر طالبان کو تیل کی مشکل کا بھی سامنا کرنا ہو گا۔