مادہ پرستی کا دور اور سکونِ قلب کی تلاش 

مادہ پرستی کا دور اور سکونِ قلب کی تلاش 

تحریر: خیر السلام

مادہ پرستی کے اس دور میں ہر کوئی پریشان و سرگرداں ہے، کسی کو فکر معاش لاحق تو کوئی دو وقت کی روٹی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور، قانون قدرت کے سامنے ہر کوئی بے بس ہے۔ لیکن جب بات سکون قلب کی ہو تو اس سلسلے میں رب کائنات نے مختلف قوانین اور پیرایے وضع کر رکھے ہیں جنہیں اپنا کر انسان سکون اور راحت کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتا ہے اور اسے دردر کی خاک چھاننے سے نجات مل جاتی ہے۔ 

 

اطمینان قلب و بیش بہا دولت ہے جس کی تلاش میں ہر انسان مارا مارا پھرتا ہے اور جسے حاصل کرنا ہر ایک کی جہد مسلسل کا مقصود ہوتا ہے۔ سکون قلب کے لیے انسان ساری زندگی کوشاں رہتا ہے اور اس کے مل جانے کے بعد دنیا کی ہر دولت اور سکون و آسائش سے اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے۔ اگر کسی کو دنیا جہاں کی تمام نعمتیں حاصل ہوں، ہر قسم کی آسائش بھی میسر ہو تاہم دل سکون کی خاطر بے کراں ہو تو وہ کس بھی نعمت سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ یوں انسان کو میسر ہر سہولت اور متاع بے فایدہ بن جاتی ہے۔ لیکن سکون قلب اگر میسر ہو جائے تو سمجھئے کہ تمام کوششیں کارگر ثابت ہوئیں اور یوں زندگی بامقصد بن جاتی ہے۔ 
اسلام نے ہمیں ایک ایسا نظام کامل عطا کیا ہے جس میں انسان کی مادی اور روحانی پہلوؤں کی تسکین کا سامان موجود ہے۔ اسلام جہاں انسان کی حیوانی تقاضوں کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے وہاں اس کے روحانی وجود کی نشوونما بھی چاہتا ہے۔ باالفاظ دیگر ہمارا دین ایسا انسان بننے کے حق میں نہیں جس کا مقصد محض نفسانی خواہشات کی تکمیل ہو بلکہ وہ اس دنیا میں اس طرح زندگی گزارے کہ اس کی روحانی اور جسمانی واعییات کی متوازن نشوونما ہو۔ اسلام کی نظر میں انسان شتر بے مہار نہیں بلکہ وہ اس دنیا میں اس طرح زندگی گزارے کہ وہ قدرت کی تمام عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہو۔ اور ساتھ ہی اسے دائمی زندگی (آخرت) کا بھی خیال ہو جہاں انسان کو بالآخر واپس لوٹنا ہے، جہاں کی زندگی اصلی اور دائمی ہے۔ 

 

اسلام نے انسان کے لیے چند حدود مقرر کی ہیں اور ایک دائرہ کھینچ دیا ہے جس سے آگے بڑھنے کی اسے بالکل اجازت نہیں۔ زندگی کا کوئی بہی شعبہ چاہے معاش ہو یا جنس، سیاست ہو یا تجارت، ان حدود اور قوانین کی پاسداری انسان کے لیے لازمی ہے۔ ان پابندیوں کا اصل مقصد انہیں وقتی خواہشات اور عارضی کشش کے پیچھے بھاگنے سے باز رکھنا ہے۔ اگر احساس کا دامن چھوٹ جائے تو انسان سے اس کا سکون چھن جاتا ہے اور وہ اضطراب وا انتشار کا شکار ہو کر سب کچھ بھول جاتا ہے۔ انسانی دل کو زندگی میں جو اہمیت اور مرکزیت حاصل ہے وہ ہر شے پر بالکل واضح اور عیاں ہے۔ حضور پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک دل کی اہمیت کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ حدیث نبوی صلی علیہ وآلہ وسلم ہے کہ خوب سمجھ لو کہ جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب یہ ٹھیک ہوتا ہے تو سارا جسم ٹھیک ہوتا ہے اور جب یہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے اور گوشت کا وہ لوتڑا دل (قلب) ہے۔ حدیث پاک سے صاف واضح ہے کہ سارے جسم کی صحت اور بہتری کا دارومدار قلب کی درستگی پر ہے اور قلب کی خرابی سارے جسم کے بگاڑ کا باعث ہے۔ 

 

جسم اور نفس کا باہمی تعلق ایک مسلمہ اور اٹل حقیقت ہے۔ یوں ان دونوں کا ایک دوسرے پر اثرانداز ہونا بھی امرمسلمہ ہے۔ بگڑے ذہن سے جسم متاثر ہوتا ہے جو کہ صحت کی خرابی کا باعث بنتا ہے، بالکل اسی طرح جسم کی اندرونی کیفیت ذہن پر اثرانداز ہوتی ہے جس سے ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔ اگر دل بے چین اور بے سکون ہو تو ذہن اور جسم دونوں کو اطمینان ملنا ممکن نہیں۔ فطری طور پر انسان قلب و روح کے سکون کا طالب ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے کہ ہم نے نوع انسانی کو دو حصوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے  تاکہ وہ ایک دوسرے سے سکون و راحت حاصل کریں۔ بھلا کون سا شخص ایسا ہے جسے سکون قلب کی اہمیت اور ضرورت سے انکار ہو یہی وجہ ہے کہ انسان اطمینان قلب کی خاطر ہر قسم کی جسمانی اور مادی تکالیف کو ہنسی خوشی برداشت کر لیتا ہے لیکن یہاں اس امر کی جانب توجہ دلانا ضروری ہے کہ سکون کی اہمیت اور نوعیت یکسر اضافی شے ہے۔ اس کی مثال کچھ اس طرح ہے کہ ایک کثیر العیال شخص کو ہمیشہ اپنے روزگار اور معاش کی فکر لاحق رہتی ہے جس کی وجہ سے اسے اپنے بال بچوں کے ساتھ پیار و محبت سے بیٹھنے کا موقع بھی ہاتھ نہیں آتا۔ دوسری جانب ایک دوسرے شخص کو مال و دولت کی فراوانی کے باوجود اولاد کی نعمت سے محروم رکھا گیا ہو، یوں دونوں کو سکون قلب کی تلاش ہے۔ ایک کو مال و دولت حاصل لیکن وہ اولاد کی نعمت سے محروم جبکہ دوسرے شخص کو بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کی لیے جس سکون کی ضرورت ہے وہ اسے حاصل نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ سکون قلب کسی خاص چیز سے وابستہ نہیں بلکہ یہ مسرت اور شادمانی بالکل اضافی شے کا نام ہے۔ 

 

سکون قلب کی بہترین صورت یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی کی قدرت پر یقین کامل رکھیں اور دل کو اپنی خواہشوں اور خوشیوں کے برعکس اللہ تعالی کی رضا جوئی سے وابستہ کر لیں۔ جب انسان اللہ تعالی کی خوشنودی کو مقدم سمجھنے لگتا ہے تو اس کو ہر تکلیف اور دکھ درد راحت معلوم ہوتی ہے اور وہ رب راضی تو سب راضی کے مصداق ہر حال میں خوش رہتا ہے اور اسی کا نام دراصل سکون قلب ہے۔ سکون قلب کو چیر پھاڑ کرنے والی چیز مایوسی اور ناامیدی ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ایک مایوس انسان ہمیشہ اطمینان قلب سے محروم ہوتا ہے۔ ناامیدی بے اطمینانی کو جنم دیتی ہے جس سے سکون غارت ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس امید کامل دل کی بڑھوتری کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں مایوسی کو کفر کرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ سبق بھی دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت سے کھبی ناامید نا ہوں۔ مایوسی آدمی کو عمل سے دور کرتی ہے اور یہی چیز مزید مایوس کو جنم دیتی ہے۔ 

 

ایک بے عمل انسان عمل کے ثمرات سے محروم رہتا ہے جس کی وجہ سے یاس و ناامیدی مزید بڑھ جاتی ہے۔ بسااوقات توکل اور اطمینان قلب کی غلط توجیح کی جاتی ہے کہ انسان ہاتھ پے ہاتھ دھرا بیٹھا رہے اور سب کچھ اللہ تعالی پر چھوڑ دے۔ یہ توکل نہیں بلکہ نامردی اور بے ہمتی ہے۔ توکل یہ ہے کہ انسان اپنے تئیں کوشش کرے اور نتائج کو اللہ تعالی کے بھروسے پر چھوڑ دے اور اچھے نتائج کی امید کامل رکھے۔ اطمینان قلب کے لیے خدا اور آخرت پر ایمان کے ساتھ ساتھ سعی و عمل بھی لازمی ہے۔ عمل سے خالی ایمان اور جدوجہد سے عاری ایقان انسان کو اطمینان قلب نہیں دے سکتے۔ اللہ تعالی کی ذات پر ایمان جتنا پختہ ہو گا دل کا اطمینان اتنا ہی مستحکم ہو گا۔ 

 

اسلام ہمیشہ زندگی میں توازن کا درس دیتا ہے یعنی انسان کو دنیا کی آسائشوں میں غرق پڑے رہنے کی بجائے اخروی زندگی کو سنوارنے کی فکر کرنی چاہیے۔ عام مشاہدے کی بات ہے کہ بندہ بشر جتنا صوم و صلوة کا پابند ہوتا ہے اسلامی شعار اپنانے میں اسیکس قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور ایسا شحص سکون قلب کی دولت سے سب سے زیادہ مالامال ہوتا ہے۔ سکون قلب کے لیے مجرب نسخہ ذکر و اذکار کا ورد ہے جس سے دل کو سکون اور روح کو طمانیت ملتی ہے۔