چارسدہ کی زرعی زمینیں  ہاؤسنگ سکیموں کی نذر

چارسدہ کی زرعی زمینیں  ہاؤسنگ سکیموں کی نذر

تحریر: سید ظفر علی شاہ

ضلع چارسدہ کی زمینیں دیگر اضلاع کی نسبت زیادہ زرخیز تصور کی جاتی ہیں اور اسی صفت کی نسبت یہاں کے لوگوں کا رجحان بھی زراعت ہی کی جانب بہت ذیادہ ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا زریعہ معاش بھی زراعت سے منسلک ہے لیکن ضلع چارسدہ کی زرعی زمینیں لینڈ مافیا اور پراپرٹی ڈیلرز کی لالچ کا شکار ہیں، ہو رہی ہیں اور اگر حکومت کی جانب سے تغافل کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو شکار ہوتی رہیں گی اور خدانخواستہ ایک دن آ جائے گا کہ زرعی پیداوار کے لحاظ سے صوبے کے اہم ترین اضلاع میں سے ایک، چارسدہ فصلوں اور باغات کی بجائے تعمیرات کے حوالے سے پہچانا جائے گا۔ ضلع چارسدہ اور چارسدہ کی عوام کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کو روکنے کے لئے ایک عوام دوست اور ضلع چارسدہ کے ہمدرد وکیل  آصف علی شاہ نے عدالت کا رخ کیا۔ انہوں نے  ہاوسنگ سکیموں اور رہائشی کالونیوں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی ہے تاکہ مزید زرعی زمینیں بربادی سے بچائی جا سکیں۔ آصف علی شاہ ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر اس رٹ میں صوبائی حکومت، محکمہ زراعت، محکمہ لوکل گورنمنٹ اور محکمہ ماحولیات کے اعلی افسران سمیت ڈپٹی کمشنر ضلع چارسدہ اور ایس ایم بی آر کو فریق بنایا گیا ہے۔ رٹ میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے  کہ ضلع چارسدہ ایک زرعی ضلع ہے جس میں لوگوں کی آمدن کے ذرائع زراعت، فش فارمنگ اور لائیو سٹاک فارمنگ ہے اور ضلع چارسدہ خیبر پختون خوا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بہت ہی اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ مختلف پراپرٹی ڈیلرز اور پراپرٹی ٹائیکون نے چارسدہ کی زرعی زمینوں پر غیرقانونی رہائشی سکیمیں اور کالونیاں بنانا شروع کی ہیں جن میں سرکاری اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان کی ملی بھگت سے62  ہزار ایکڑ سے زائد زمین روبروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ قانون اور محکمہ مال کے اعلامیہ کے مطابق زرعی زمین کسی دوسری سرگرمی اور رہائشی سکیموں کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی لیکن پھر بھی ضلع چارسدہ ہی میں کیا صوبہ بھر میں جا بجا رہائشی منصوبے جاری ہیں جبکہ محکمہ مال اور ضلع انتظامیہ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، شاید ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام پراپر ٹی ٹائیکون کے اثر رسوخ کے سامنے بے بس ہیں اور اسی وجہ سے متعلقہ حکام یا ضلعی انتظامیہ ان غیر قانونی ہاوسنگ سکیموں کے خلاف کوئی کاروائی کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ اب انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان غیرقانونی سرگرمیوں کو روکے اور  عدالتی فیصلہ ہونے تک کسی کو بھی ضلع کے اندر زرعی زمین پر زراعت کے علاوہ دوسری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی اجازت کسی بھی قیمت پر نہ دے، انتقالات پر پابندی عائد کرے  اور  ہاوسنگ سکیموں کے لیے این او سی جاری نہ کرنے کے احکامات جاری کرے۔ یہ امر واضھ رہے کہ اگر بروقت سخت قسم کا ایکشن نہ لیا گیا تو ایک جانب لوگوں کے درمیان تنازعات جنم لینے کا خدشہ رہے گا جبکہ دوسری جانب لوگوں کا زریعہ معاش بھی ختم ہو جائے گا، معاش نہیں رہے گا تو ظاہر ہے کہ جرائم کی شرح میں اضافہ ہو گا۔ یہ حقیقت بھی سب کے سامنے ہے اور حکومت جس کا حال ہی میں باقاعدہ اعتراف بھی کر چکی ہے کہ خوراک کی مد میں ہمارا ملک ابھی خود کفیل نہیں ہوا اس کے باوجود زراعت کی تباہی کا کھیل جاری ہے جس سے عوام کے ساتھ ساتھ مزدور کسان طبقہ بھی براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے کر اس ضمن میں بروقت اقدامات کا آغاز کرے گی اور جو بھی حکمت عملی ترتیب دے گی اس کا دائرہ کار صرف چارسدہ نہیں صوبہ بھر تک پھیلایا جائے گا۔