''ہفتہ باچا خان'' باچا خان مرکز میں تقریبات کا سلسلہ جاری

''ہفتہ باچا خان'' باچا خان مرکز میں تقریبات کا سلسلہ جاری

  تحریر: ساجد ٹکر

باچا خان اور ولی خان کی برسیوں (باچا خان کی34 ویں اور ولی خان کی16 ویں برسی) کے حوالہ سے حسب روایت عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے اس سال بھی ''ہفتہ باچا خان'' عقیدت اور احترام سے منایا جا رہا ہے۔ فخر افغان باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان ایسی ہستیاں ہیں جن کو زمانے ترستے ہیں۔ ویسے تو شعور رکھنے والوں اور اپنی قوم سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں باچا خان اور ولی خان سال کے بارہ مہینے اور ہر پل زندہ رہتے ہیں لیکن اس ایک خاص موقع پر ان کو اہتمام اور انتظام سے یاد کر کے دنیا کو ان کے پیغامات پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ باچا خان وہ عظیم انسان ہیں جن کو ''عدم تشدد'' کی وجہ سے آج ساری دنیا جانتی ہے۔ اسی طرح ولی خان کو ان کی سیاست، اصول اور بے مثال جمہوری اقدار کے لئے بھی ساری دنیا پہچانتی ہے۔ اس طرح ہر برس ہم اپنے ان راہبروں کو یاد کر کے ان کے افکار جاننے کا موقع پاتے ہیں۔ 

 

اس سال بھی ہفتہ باچا خان کی تقریبات کا آغاز باچا خان مرکز پشاور میں کر دیا گیا۔ باچا خان کی 34ویں اور خان عبدالولی خان کی 16ویں برسی کی مناسبت سے ہفتہ باچا خان کی تقریبات کا باقاعدہ افتتاح صدر اے این پی خیبر پختونخوا ایمل ولی خان نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں ذمہ داران و کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں باچا خان ٹرسٹ ریسرچ سنٹر کی جانب سے شائع کی گئیں نئی کتابوں کی رونمائی بھی کی گئی۔

 

افتتاحی تقریب میں بلڈ ڈونیشن کیمپ اور مقامی مصنوعات کے سٹالز لگائے گئے ہیں۔ نامور مصوروں کی پینٹنگز اور کتابوں سمیت دیگر سٹالز بھی تقریب کا حصہ ہیں۔ تقریب میں باچا خان سکولز کے طلبہ و طالبات کی جانب سے تیار کی گئیں مصنوعات کا سٹال بھی لگایا گیا ہے۔ تقریب کا آغاز ''ننگیالے پختون'' کے سالاروں کی سلامی سے ہوا۔ اس موقع پر اے این پی کے مرکزی سیکرٹری مالیات سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، سیکرٹری ثقافت لائق باچا، سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور، صوبائی سینئر نائب صدر خوشدل خان ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک، ترجمان ثمر ہارون بلور، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری رحمت علی خان، سیکرٹری ثقافت خادم حسین، سیکرٹری مالیات مختیار خان، سیکرٹری یوتھ افیئرز طارق افغان ایڈووکیٹ اور ثناگلزار، اراکین صوبائی اسمبلی شگفتہ ملک، صلاح الدین خان، فیصل زیب خان، وقار خان، سالاراعظم خدائی خدمتگار تنظیم ڈاکٹر شمس الحق، ڈائریکٹر باچا خان ٹرسٹ ریسرچ سنٹر ڈاکٹر فضل الرحیم مروت، میئر مردان حمایت اللہ مایار، ایڈوکیٹ سلیم خان لالا اور دیگر مرکزی اور صوبائی قائدین اور ذمہ داران بھی موجود تھے۔ 



باچا خان اور ولی خان کی سیاست اپنے وسائل پر اپنے اختیار کی سیاست ہے اور ہماری بھی یہی سیاست ہے، ہماری سیاست کا مقصد حکومت نہیں بلکہ فخرافغان بابا کا نظریہ ہے، آپ دیکھیں کہ ہم پچھلے9  سال سے حکومت سے باہر ہیں لیکن پھر بھی لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ یہ نظریاتی لوگ ہیں اور یہ اس نظریہ کی برکت ہے۔ ایمل ولی خان
 



ہفتہ باچا خان کی تقریبات26  جنوری تک جاری رہیں گی۔26  جنوری کو اتمانزئی بائی پاس چارسدہ میں عظیم الشان اختتامی جلسہ عام ہو گا، جس سے مرکزی اور صوبائی قائدین خصوصی خطاب کریں گے۔ حسب روایت صوبائی صدر اور باچا خان ٹرسٹ کے سی ای او ایمل ولی خان نے پہلے دن کے پہلے مرحلہ میں تقریبات کا آغاز کیا۔ فیتہ کاٹا گیا، دعا کی گئی اور اس کے بعد ایمل ولی خان نے مرکز میں لگے مختلف سٹالز کا دورہ کیا۔

اس کے بعد پروگرام کے سٹیج سیکرٹری عمران اشنا نے شرکا کو ہال میں آنے کی دعوت دی اور اسی طرح پروگرام کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے باچا خان ریسرچ سنٹر کی جانب سے شائع کردہ12  نئی کتب کی تقریب رونمائی باقاعدہ سٹیج پر ہوئی۔ اس کے بعد باچا خان ریسرچ سنٹر اینڈ لائبریری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فضل الرحیم مروت کو سٹیج پر آنے اور رسیرچ سنٹر اور کتابوں پر روشنی ڈالنے کے لئے دعوت دی گئی۔ پروفیسر فضل الرحیم مروت نے کہا کہ ہم بہت ہی خوش قمست ہیں کہ باچا خان اور ولی خان جیسے ہمارے راہنما ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو کتاب سے محبت تھی اور کتاب کی اہمیت بھی جانتے تھے۔ میری یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے نوجوان صوبائی صدر اور ہمارے ٹرسٹ کے ڈائریکٹر ایمل ولی خان بھی اپنے اسلاف کی طرح کتاب سے پیار کرنے والے ہیں اور مجھے کہتے ہیں بلکہ مجھ پر زور ڈالتے ہیں کہ ہم اگر روزانہ کتاب شائع کر سکتے ہیں تو کریں۔ مروت صاحب نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ایمل ولی خان کے جنوبی اضلاع کے موجودہ دورے بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان دوروں نے باچا خان اور ولی خان کی یاد تازہ کر دی۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کی اہمیت مسلم ہے اور کوئی بھی کتاب کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ کی بنیاد2002  میں رکھی گئی تھی اور آج تک86  بہترین اور قیمتی کتابیں شائع کی جا چکی ہیں۔ مروت صاحب نے نئی کتابوں بارے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ان کتابوں کو پڑھیں کیونکہ یہ ایسی کتابیں ہیں جو ہمیں حقائق سے روشناس کرا رہی ہیں۔ 

 

اس کے بعد باچا خان ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل خان کو باچا خان پر گفتگو کرنے لئے دعوت دی گئی۔ ڈاکٹر سہیل خان نے کہا باچا خان پر بہت زیادہ کام ہو چکا ہے اور مزید بھی ہوتا رہے گا کیونکہ ان کی شخصیت، ان کی جدوجہد اور ان کا نظریہ بہت ہی ہمہ گیر اور وسیع ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تک باچا خان پر149  کتابیں لکھی گئی ہیں۔4  ان پر پی ایچ ڈیز کی گئی ہیں اور اسی طرح کئی ایم فل مقالے بھی ان پر لکھے جا چکے ہیں۔ ڈاکٹر سہیل خان نے کہا کہ باچا خان کی زندگی پر چار مختلف بین الاقوامی دستاویزی فلمیں بھی بنائی جا چکی ہیں جن میں کہ ایک کو آسکر ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان کی کتاب ''زما ژوند او جدوجہد'' بہت زیادہ اہمیت کی حامل کتاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان نے اپنی کتاب میں ایک جگہ اپنے بچپن کے کھیلوں بارے بہت ہی قیمتی باتیں کی ہیں۔ ہم اگر ان کو پڑھیں تو بہت کچھ سمجھ سکتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ باچا خان نے اپنے بچپن کے کچھ ایسے کھیلوں بارے بات کی ہے جن میں کہ ایک قدر مشترک ہے اور یہ ہے کہ ان گیمز میں کبھی بھی ایمپائرز کی ضرورت نہیں ہوتی تھی یعنی بچوں کے یہ سارے کھیل ایسے تھے کہ ان میں سارے فیصلے اصولوں کی بنیاد پر پوتے تھے۔ یہ عجیب بلکہ سوچنے کی بات ہے۔ مزید انہوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پختونوں نے اپنے فیصلے ہمیشہ سے اصولوں اور جہموری روایات کے مطابق کئے ہیں اور ان کو کبھی بھی ایمپائر یا تھرڈ پرسن کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ ان کھیلوں میں ''انگئی''، ''پٹ پٹونے''، ''پٹہ کنجکہ'' وغیرہ شامل ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان کھیلوں میں انڈجنس وزڈم یعنی علاقائی فہم ہوتا تھا یعنی ایک قسم کی شناسائی ہوتی تھی۔ ڈاکٹر سہیل خان نے کہا کہ آج وقت کی ضروت ہے کہ ہم باچا خان کی کتاب ضرور پڑھیں۔ 

 

اس کے بعد عوامی نیشل پارٹی کے مرکزی سینئر راہنما ایڈوکیٹ سلیم خان لالا کو ولی خان کی شخصیت پر روشنی ڈالنے کے لئے سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے سب سے پہلے یہ ٹپہ سنا دیا:
ستا د شائست گلونہ ڈیر دی
جولئی می تنگہ زہ بہ کوم کوم ٹولومہ
سلیم لالا نے کہا کہ ولی خان محکوم اقوام کے لئے جدوجہد کا ایک استعارہ ہیں۔ ان کے تذکرے کے بغیر اس سارے خطے کی سیاست ادھوری ہے۔ ولی خان کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ انہوں نے  ایک بہت ہی گندے ماحول میں بہت ہی صاف اور شفاف سیاست کی تھی اور ہر قسم کے الزامات سے اپنا دامن بچا کے رکھا تھا۔ ان کے ساتھ مخالفین نے اختلاف ضرور رکھا ہے لیکن کوئی بھی ان پر مالی بدعنوانی کا الزام لگانے کی جرات نہیں کر سکا ہے۔ ولی خان کی شخصیت اتنی بڑی ہے کہ ان پر مہینوں کیا سالوں ہم بات کر سکتے ہیں۔ وہ مجسم اصول تھے۔ یہ ان کی تربیت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہمارے ملی مشر اسفندیار ولی خان اٹھ کر ببانگ دہل کپتان عمران خان کو للکارتے ہیں کہ اگر مجھ پر ایک روپے کا کرپشن ثابت کر سکے تو سیدھا پھانسی پر لٹکا دینا۔ یہ کوئی آسان بات نہیں۔ ایسی بات صرف وہ کرسکتے ہیں جن کا دامن صاف ہو۔ سلیم لالا نے کہا کہ ولی خان نے بہت کم سنی یعنی صرف16  سال کی عمر میں1933  میں سیاست شروع کی تھی اور جرنیل نصرتی کاکا کے ہاتھ پر تحریک میں شامل ہو گئے تھے اور ان کے حکم پر سرخ وردی میں پریڈ کرتے تھے۔ ولی خان خان بہرام خان کے پوتے اور عظیم خدائی خدمتگار باچا خان کے بیٹے تھے لیکن تربیت ان کی ایسی ہوئی تھی کہ بچپن ہی سے اصول کے پکے تھے۔ ابھی ان کی عمر بمشکل25/26  برس ہی تھی کہ ان کی تنظیمی صلاحیتوں نے پولیس اور پشاور کے انگریز ڈپٹی کمشنر کو ناکوں چنے چبوایا تھا۔ پولیس جلسوں پر ایک جگہ پہرہ دیتی اور ناکام بنا دیتی تو ولی خان کسی اور جگہ سے جلوس لے کر نمودار ہو جاتے تھے اور پولیس ان کو پکڑنے میں بے بس تھی۔ اس لئے1942  میں پشاور کے ڈپٹی کمشنر نے ولی خان کو گرفتار کرنے کے لئے5000  روپے انعام کا اعلان کر دیا تھا۔ اسی طرح45/46  کے انتخابات میں ولی خان کی انتخابی صلاحیتوں کی وجہ سے صوبہ بھر میں بھاری کامیابی ملی تھی۔ سلیم خان لالا نے کہا کہ وقت کم اور ولی خان کی شخصیت کی جہات بہت زیادہ ہیں تاہم  انہوں نے کہا کہ ولی خان کا جتنا زیادہ مطالعہ کیا جاتا ہے ان کی نئی جہتیں کھلتی ہیں۔ وہ انتہائی اصولی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی دلیر اور نڈر انسان بھی تھے۔ جب1970  کے الیکشن کے بعد شیخ مجیب الرحمن نے ڈھاکہ میں اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اعلان کر دیا تو ادھر مغربی پاکستان میں مرحوم بھٹو صاحب نے دھمکی دی کہ اگر کوئی وہاں گیا تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔ سارے مغربی پاکستان سے کوئی بھی جانے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ صرف ایک ولی خان تھے جنہوں نے جانے کا اعلان کر دیا اور جب کراچی ائیر پورٹ پہنچے تو ایک صحافی نے ولی خان سے پوچھ لیا کہ آپ تو ڈھاکہ جا رہے ہیں لیکن بھٹو صاحب نے ٹانگیں توڑنے کی دھمکی ہے۔ اس پر ولی خان نے صحافی کو جواب دیا کہ بھٹو صاحب سے کہو کہ ولی خان کی ٹانگیں بہت لمبی ہیں اور کسی کا باپ بھی ان کی ٹانگیں نہیں توڑ سکتا۔ اسی طرح ان کی دو کتابیں ''باچا خان او خدائی خدمتگاری'' اور ''فیکٹس آر فیکٹس'' بہت ہی قیمتی خزانے ہیں اور ہر پختون کو یہ دونوں کتابیں پڑھ لینی چاہئیں۔ 



 پاکستان میں ہر کسی کو سیاست کرنے کا حق  حاصل ہے لیکن سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کا استعمال غیرآئینی کام ہے۔ سردار حسین بابک



اس کے بعد اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور صوبائی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار حسین بابک کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ سردار حسین بابک نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ہماری سیاست واضح ہے، ہمارا نظریہ واضح ہے اور ہمارا بیانیہ بھی واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل بھی مشکلات تھیں اور آج بھی ہیں۔ جن حالات میں باچا خان نے جدوجہد کی وہ بے مثال ہے۔ ان کی تعلیم کے لئے کام بے مثال بلکہ دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔ بابک صاحب نے کہا کہ آج سے100  سال پہلے باچا خان نے اپنی قوم کے اچھے اور روشن مستقبل کے لئے آزاد مدرسوں کی بنیاد رکھی تھی اور صوبہ بھر میں کوئی130  مدرسے قائم کئے تھے۔ باچا خان اپنی قوم کو تعلیم کا زیور دینا چاہتے تھے لیکن انگریز سرکار کو باچا خان کی جدوجہد پسند نہیں آئی، کیوں؟ کیونکہ پختونوں میں شعور آ رہا تھا، تعلیم سے آگاہی پھیل رہی تھی اور سوال جنم لے رہا تھا۔ اس لئے انگریزوں نے ہمارے ملنگ بابا کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور ان کے خلاف پروپیگنڈے شروع کر دیئے گئے۔ باچا خان کی جدوجہد عین اسلام کے مطابق تھی۔ اسی طرح امن کے لئے ان کی کوششیں بھی بے مثال ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے آ رہے ہیں کہ کچھ لوگوں کے کاروبار کے لئے امن نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس لئے تب باچا خان کی مخالفت ہوئی اور آج ہماری بھی مخالفت ہو رہی ہے۔ ان تمام برائیوں کے خاتمہ کے لئے ہم چاہتے ہیں کہ سیاست عام ہو جائے کیونکہ سیاست عوام کی آواز ہے۔ سیاست کے نتیجے میں عوام کی حکومتیں بنتی ہیں جن کی وجہ سے قومیں ترقی کرتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے آج بند کمروں میں حکومتیں بنتی ہیں، بند کمروں میں فیصلے ہوتے ہیں۔ سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ آج اس ملک میں74  برسوں میں جمہوریت نہیں آئی اور یہی وجہ ہے کہ نہ تعلیم ہے نہ امن ہے اور نہ ترقی ہو رہی ہے۔ آج اس ملک میں پارلیمنٹ کی تضحیک اور سیاست کو بے توقیر کیا جا رہا ہے۔ آج عدالتیں آزاد نہیں ہیں۔ آج اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔ آج یہاں پابندیاں ہیں، میڈیا آزاد نہیں، یہاں دخل اندازی ہو رہی ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری تجارت بھی آزاد نہیں ہے اور راستے بند ہیں۔ بابک صاحب نے کہا کہ یہاں عجیب کھیل کھیلا جا رہا ہے، باچا خان پر الزام تھا کہ ہندوؤں کا ساتھ ہے، ولی خان پر الزام تھا کہ روسیوں کا ساتھی ہے جبکہ اسفندیار ولی خان پر الزام لگا کہ امریکیوں کا ساتھی ہے، لیکن آج تک کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکا۔ ان لوگوں کو جھوٹ بولنے پر شرم کیوں نہیں آتی۔ بابک صاحب نے کہا کہ پاکستان میں ہر کسی کو سیاست کرنے کا حق حاصل ہے لیکن سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کا استعمال غیرآئینی کام ہے۔ 

 

سردار حسین بابک کے بعد عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر  اور باچا خان ٹرسٹ کے سی ای او ایمل ولی خان کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ ایمل ولی خان نے اپنے مخصوص انداز میں سارے شرکا اور تمام پختونوں کا شکریہ ادا کیا کہ کس ولولے کے ساتھ ہفتہ باچا خان ساری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج باچا خان بابا اور ولی خان بابا کو ان کی عظیم جدوجہد کے لئے عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔ ایمل خان نے کہا کہ آج پختون قوم کو سب سے زیادہ ضروت باچا خان کے نظریہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پختونوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ ساری دنیا کی ملی بھگت سے ہوا۔ آج بھی جنگ دو ہاتھیوں کی ہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ہاتھی بدل گئے ہیں۔ آج بھی حالات بدلے نہیں ہیں، آج بھی حالات سخت ہیں۔ ہمارے اکابرین نے بھی سخت حالات کا مقابلہ کیا تھا اور آج ہم بھی میدان میں کھڑے ہیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ میں آج یہاں یہ واضح کر دوں کہ ہم نہ جھکنے والے ہیں اور نہ پیچھے ہٹنے والے ہیں۔ ہماری پارٹی باچا خان اور ولی خان کے بتائے گئے اصولوں پر پوری طرح گامزن ہے۔ ہم اگر چاہتے تو آج ہم بھی حکومت میں ہوتے لیکن ہم نے اپنے نظریہ پر سودا نہیں کیا۔ آج یہاں یہ بھی بتا دوں کہ ہماری سیاست میں ملک کے ساتھ بے وفائی نہیں ہے، بلکہ ہماری جنگ اپنے وسائل کی ہے۔ باچا خان اور ولی خان نے ہمیشہ اپنی قوم کے وسائل اور حقوق کی بات کی ہے اور آج ہم بھی اپنے وسائل اور حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ آج تو یہ عالم ہے کہ ہمیں ہمارے حقوق نہیں دیئے جا رہے، تجارتی راستے بند ہیں، حکومت اپنا ہی جی این فارمولہ نہیں مان رہی۔ ہمیں تو بدقسمتی سے یہ بھی اجازت نہیں کہ وہ آلہ لگائیں جس سے کہ ہم معلوم کر سکیں کہ پنجاب کو کتنی بجلی جا رہی ہے۔ باچا خان اور ولی خان کی سیاست اپنے وسائل پر اپنے اختیار کی سیاست ہے اور ہماری بھی یہی سیاست ہے۔ ہماری سیاست کا مقصد حکومت نہیں بلکہ فخرافغان بابا کا نظریہ ہے۔ آپ دیکھیں کہ ہم پچھلے9  سال سے حکومت سے باہر ہیں لیکن پھر بھی لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ یہ نظریاتی لوگ ہیں اور یہ اس نظریہ کی برکت ہے۔ 
ایمل ولی خان نے ٹرسٹ بارے بتایا کہ ٹرسٹ کی چھتری کے نیچے پختونوں کی ہر قسم کی خدمت جاری رہے گی، کتابیں چھپتی رہیں گی، کلچر پر کام ہوتا رہے گا اور باچا خان بابا کے افکار پھیلتے رہیں گے۔ انہوں نے کہ ''انگازی'' پروڈکشن پر ہمارے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا لیکن اگر نیت صاف ہو تو خدا ساتھ ہوتا ہے، آج دیکھیں کہ انگازی کی آواز دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہی ہے، لوگوں نے باتیں بنائیں اور ہم نے کام کیا۔

 

ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ اس سے آگے ٹرسٹ کی چھتری کے نیچے ہمارا اب سٹیج، ڈرامہ اور فلم پلیٹ فارم بنانے کا ارادہ ہے جس کے ذریعے پختون مشاہیر، ادبا اور ہیروز کی زندگیوں کو محفوظ کریں گے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ ہماری نیت صاف اور عزم پکا ہے اور انشاء اللہ جیت بابا کے پیروکاروں اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی ہو گی۔  

 

عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے زیراہتمام باچا خان کی 34ویں اور خان عبدالولی خان کی 16ویں برسی کی مناسبت سے ہفتہ باچا خان کا آج چوتھا دن ہے۔ پہلے روز نئی شائع شدہ کتابوں کی رونمائی کی گئی۔ بلڈ ڈونیشن کیمپ، مقامی مصنوعات کے سٹالز لگائے گئے ہیں۔ ہفتہ باچا خان کے دوران باچا خان مرکز میں7  روز تک پینٹنگز، کتابوں سمیت دیگر سٹالز بھی موجود رہیں گے۔ ہفتہ باچا خان کے دوسرے روز باچا خان سکولز کے طلبہ و طالبات کی جانب سے تقریب منعقد کی گئی۔ تیسرے روز انگازی پروڈکشن کی جانب سے اکابرین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جس میں صوبہ کے چکمتے اور نامور فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ چوتھے روز یعنی آج اتوار کے دن ملگری لیکوالان کی جانب سے باچا خان امن مشاعرہ اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا ہے۔

 

پانچویں روز یعنی کل پیر کے دن ''اعتدال پسندی، انتہاپسندی اور خدائی خدمتگار تحریک'' کے عنوان سے سیمینار کا اہتمام کیا گیا ہے۔ سیمینار میں نامور صحافی حامد میر، طلعت حسین، سلیم صافی، عادل شاہ زیب اور دیگر بھی شرکت کریں گے۔ اسی سیمینار میں اخترمینگل، میاں رضا ربانی، خواجہ محمدآصف، جاوید ہاشمی سمیت دیگر سیاسی قائدین بھی شرکت کریں گے۔ ہفتہ باچا خان کے چھٹے روز پی ایس ایف کے زیراہتمام یونیورسٹی کیمپس میں سیمینار ہو گا۔ اسی روز خدائی خدمتگار آرگنائزیشن کے زیراہتمام باچا خان مرکز پشاور میں خدائی خدمتگار تحریک کے اراکین کے بچے اور ورثا شرکت کریں گے۔ ساتویں روز اتمانزئی بائی پاس چارسدہ میں عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا جس میں ہزاروں کی تعداد میں کارکنان اور ذمہ داران شرکت کریں گے۔