کپتان سیاستدان بنیں مل و قوم کی بدنامی کا باعث نہیں

کپتان سیاستدان بنیں مل و قوم کی بدنامی کا باعث نہیں

عمران خان اس وقت صرف ایک سیاستدان بن کر ہی سوچ رہے  ہیں جن کا کام دوسرے سیاسی مخالفین کے خلاف صرف بیان بازی کرنا ہے اور کسی بھی جگہ پر غلط قسم  کی بیان بازی کرنے سے باز نہیں آ رہے جبکہ ان کے برعکس نوجوان قیادت ایمل ولی خان پختگی، دانشمندی اور بردباری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کپتان نے خاتون جج کے خلاف نازیبا الفاظ کہے، پھر سائفر کے حوالے سے غلط قسم کی گفتگو اور اس کے بعد پشاور کے ایک تاریخی درسگاہ، ایڈورڈز کالج میں خطاب کے لیے پہنچ گئے جہاں  ان کی تقریر انتہائی متنازعہ تھی۔ سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے یونیورسٹی میں بھی تعلیم اور اس کی اہمیت پہ خطاب کرنے کی بجائے سیاست پہ گفتگو شروع کر دی اور انھوں نے سربراہ جمعیت علما اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان اور اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان سمیت اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف نازیبا الفاظ اور تضحیک آمیز زبان استعمال کی۔ عمران خان جوش سیاست میں بھول گئے کہ وہ کہاں اور کیا  بول رہے ہیں، اخلاقیات اور اصول ضوابط کو پس پشت ڈال کر صرف اپنے  آپ کو اچھا کہلوانے کی کوشش میں لگے ہیں۔ انتظامیہ کا خیال تھا کہ عمران طلبہ سے تعلیم اور قیادت کے حوالے سے بات کریں گے اور ایک سیاسی رہنماء ہونے کی حیثیت سے لیڈرشپ کے بارے میں طلبہ کو سمجھائیں گے ان کے متنازع بیان نے انتظامیہ کے ساتھ طلبہ کو بھی شدید مایوس کیا۔ ان کے ایسے بیان پر معاشرے کے کئی حلقوں کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا جبکہ انتظامیہ کے مطابق انھوں نے عمران خان کو مدعو بھی نہیں کیا تھا۔ کالج انتظامیہ کے مطابق وہ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور ان کی کسی سیاسی جماعت سے کوئی وابستگی نہیں اور عمران خان کو دعوت انھوں نے نہیں دی۔ عمران خان نے اپنی تقریر سے ایڈورڈز کالج کا ماحول خراب کر دیا۔ اس متنازع بیان نے ان کی منفی سوچ کا پرچار کیا ہے اور تعلیمی میدان کو سیاسی اکھاڑہ بنا دیا۔ نوجوان طلبہ پر برا اثر پڑا ہے۔ عمران نے خان نے بالکل نہیں سوچا کہ ایسے بیان سے نئی نسل قیادت اور سیاست دانوں کے بارے میں کیا سوچے گی؟ انھوں نے خود کو اچھا ثابت کرنے کے چکر میں دوسرے سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالی اس سے طلبہ اور عوام تک  کتنا منفی پیغام پہنچایا، عوام کے ساتھ ساتھ انھوں نے تعلیمی ادارے کو بھی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ سیلاب زدہ علاقوں میں جا کر ان کی داد رسی کرتے اور دوسرے سیاستدانوں کے ساتھ مل کر قوم کی المناک ناگہانی آفت کا تدارک کرنے کی بجائے سیاست چمکانے میں لگے ہیں۔ دوسری جانب ایمل ولی خان نے پشتون روایات کا پاس رکھتے ہوئے کالج کا جرگہ قبول کیا اور ایڈورڈز کالج کے اپنے دورے کا اعلان واپس لیا جس پر کافی حلقوں کی جانب سے انہیں سراہا جا رہا ہے۔ بہرحال ان کے بیانات خود ان کے لیے ہی مصیبت بن سکتے ہیں، انہیں چاہیے کہ سیاستدان بنیں مگر ملک اور قوم کی بدنامی کا باعث نہ بنیں، اور اپنی زبان کو کنٹرول کریں، دوسروں کو برا کہہ کر آپ اچھے نہیں بن سکتے اور غلیظ زبان بولنے کے بعد معافی مانگتے رہنے سے بہتر ہے کہ سوچ سمجھ کر بولا جائے۔ حکمران اور سیاستدان نئی نسل کو عمدہ قیادت سکھانے کی بجائے انھیں مخالفین پر کیچڑ اچھالنا سکھا رہے ہیں۔ سیلاب کی تباہی نے بھی سیاستدانوں کو کچھ نہیں سکھایا  تو یہ نئی نسل کو کیا سکھا سکتے ہیںکم از کم تعلیمی اداروں کو تو چھوڑ دیجیے تاکہ  پاکستان کو نئی نسل میں سے اچھے حکمران اور سیاستدان نصیب ہو سکیں۔ وزارت تعلیم کو چاہیے کہ  تعلیمی اداروں میں سیاسی رہنماؤں کے دورے پر مستقل پابندی لگائی جائے۔