سیلاب سے پہلے اور سیلاب کے بعد 

سیلاب سے پہلے اور سیلاب کے بعد 

                                                 تحریر:سید ساجد شاہ بخاری 

سیلاب ایک قدرتی آفت ہے جوا سیکنڈوں اورمنٹوں کے اندر زمین سے گھروں، عماراتوں،فصلوں ،باغات ،سڑکوں اور پلوں کا صفایا کرتا ہے، انسانی لاشوں کو سمندر کی تہہ تک پہنچا کر انسانی اقدار مال و جائیداد کو پامال کرتا ہے، دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ممالک ہو یا ترقی پذیر دونوں کے پاس اس قدرتی آفت کا علاج نہیں تاہم غریب ممالک کے پاس سیلاب کے بعد کی صورتحال دیکھ کر واقعی اپنی غربت اور مفلسی پر افسوس ہوتا ہے، غریب ممالک اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ سیلاب سے پہلے ان علاقوں کے اندر پشتے بنانے کا بندوبست کریں یا سیلاب کے بعد لوگوں کی کوئی مدد کریں، اس لئے جب سیلاب آ جائے اور لوگوں کے گھروں سے انسان، گھریلو سامان اور مال ودلت سب بہا لے جائے تو اس کا کوئی متبادل نہیں ہوتا ہمارے ہاں تو اس کے بعد عوام کو ریلیف دینے اور پھر ان کی دوبارہ بحالی بھی بڑا مسئلہ ہوتا ہے، بین الاقومی سٹینڈرڈ کے ادارے جسے  نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی بھی گنجائش نہیں کہ وہ ان قدرتی آفات کو ڈیل کر سکیں، تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائی جائے تو کئی مثالیں ملتی ہیں، چین کی تاریخ میں دو بڑے دریاوں یعنی Yellow River اور  Yangtze Riverمیں آکثر سیلاب آتے رہتے ہیں اب تک ان دونوں دریاں میں3000 کے قریب سیلاب آچکے ہیں، 1887 میں چین کی تاریخ میں خوفناک سیلاب آیا تھا یہ سیلاب چین کے صوبہ ہینان میں آیاجس سے تقریبا 9لاکھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ 4 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے اس دریا کو غموں کی دریا کا نام بھی دیا گیا ہے، اس طرح کا سیلاب ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی تاریخ میں 31 مئی   1889کو جونز ٹاون پینسلوانیا میں آیا تھا تاہم ابتدائی دنوں میں 100دن مسلسل بارشوں نے اس ٹاون کا نقشہ بدل دیا تھا اس سیلابی ریلے کی بلندی 16فٹ تھی اور پانی کا رفتار چالیس میل فی گھنٹہ رہی ، اس طرح کی سیلاب کی کہانیوں میں ایک کہانی دریائے سرخ سیلاب کی بھی ہے جو 1997 میں آیا اور جس نے کینیڈا اور امریکہ دونوں کو بری طرح متاثر کیا، اس سیلاب سے 60 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ 

اس وقت ملک کے اندر  خطرناک سیلاب کے بعد موجودہ صورتحال انتہائی نا گفتہ بہہ ہے، ماحولیاتی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ مستقبل میں اس سے زیادہ خطرناک سیلابی ریلے آئینگے اگر خدا نخواستہ اس طرح کی مصیبت مستقبل میں عام ہوگئے تو کیا بنے گا پاکستان کا، اس کے علاوہ ایسی صورتحال میں ہمارا مستقبل کا پلان کیا ہو گا یعنی ہم مستقبل میں کس طرح قدرتی آفات اور بلخصوص سیلاب سے نمٹیں گے، پچھلی کئی دہائیوں سے ملک کے اندر قدرتی اور مصنوعی آفات نے ہماری زندگی تلخ بنا رکھی ہے، زلزلہ ہو یا سیلاب،طوفان ہو یا برف باری ،اندھی ہو یا دیگر کوئی آفت، ہمارے پاس اس سے نمٹنے کیلئے کوئی پلان نہیں ہوتا اس لئے ہر سال جب سیلاب آتے ہیں تو نیشنل ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی صوبائی پی ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر اس حوالے سے تھریٹ الرٹ جاری کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ محکمہ موسمیات نے جو نشاندہی کی ہے اس سے نمٹنے کیلئے ضلع بھر کے ڈی سیز اور دیگر محمکے تیار رہیں، ایک کنٹرول سنٹر صوبے میں قایم کرنے کے بعد معلومات شیئر ہوتے ہیں اور بس، چونکہ ان آفات میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اس لئے جو لوگ مشکل میں ہوتے ہیں ان تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا اس کے علاوہ رسپانس اور ریلیف کے سارے ادارے پہلے سے مفلوج ہوتے ہیں، ان کے پاس نہ کوئی فنڈز ''ان کے مطابق'' ہوتا ہے اور نہ کوئی وسائل و اوزار، اس لئے صرف پاکستان آرمی کے جوان ان مشکل حالات میں پہنچ جاتے ہیں مگر متاثرہ علاقہ بہت زیادہ وسیع ہوتا ہے اور ان کی تعداد کم ہوتی ہے۔ 

اس وقت جولائی کے مہینے سے شروع ہونے والی مون سون بارشوں نے تباہی مچھائی ہے ملک کے اندر530 اموات ہوئیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں جبکہ صرف بلوچستان کے اندر 300 اموات ہوئیں اس وقت بلوچستان کے اندر سیلاب کا پانی جمع ہے، لوگ بارش کے بعد اب پانی میں پھنسے ہوئے ہیں، ہر طرف سناٹا چھایا ہوا ہے، بلوچستان کے50 گائوں صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں، 14000 گھر مسمار ہو چکے ہیں، 23000 مویشیاں ہلاک ہو چکے ہیں، 670 میل کا مظبوط روڈ پانی میں بہہ چکا ہے،16 پل یعنی رابطہ پلٹوٹ چکے ہیں، لوگ بلوچستان کے انتہائی دور افتادہ علاقے میں بری طرح پھنس چکے ہیں، جہاں پہنچنا انسان کی بس کی بات نہیں اور پھر لوگوں کو خوراک،تازہ پانی اور ادوایات پہنچانا بھی مشکل ٹاسک ہے۔ اس لئے لوگوں کی اموات بڑھ رہی ہیں، سیلاب کے بعد وباء اور باالخصوص انتڑیوں اور پیٹ کی بیماریاں عام ہو جانے سے اموات میں اضافے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا جس سے بلخصوص بوڑھے، بچے اور خواتین متاثر ہوتی ہیں۔ اس وقت ہیلی کاپٹر سروس بھی دور افتادہ علاقوں کے اندر امدادی کاموں میں مصروف ہیں لیکن پھر بھی تمام امور تعطل کا شکار ہیں کیونکہ ایک طرف سے سخت ہوا اور دوسری طرف سے اندھیرا چھانے کے بعد امدادی کاموں میں رکاوٹیں آرہی ہیں جبکہ مزید بارشوں کی وجہ سے امدادی کام متاثر ہیں۔ 

بلوچستان کا صوبہ ویسے بھی سیاسی، سماجی اور معاشرتی پس منظر میں کافی پسماندہ ہے یہ وہ صوبہ ہے جہاں کے مکین اکسویں صدی میں اپنے جانوروں کے ساتھ اس تالاب میں بارش کا پانی پیتے ہیں، سیاسی طور پر یہ صوبہ وڈیروں کے درمیان تقسیم ہے جبکہ بلوچستان نیشنل فرنٹ راء کی ایما پر ملک دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، بلوچستان کے اندر ناانصافی کی بنیاد اور لوگوں کے ساتھ ظالمانہ رویہ عرصہ دراز سے جاری ہے، اس وقت وہ تمام کلپس سوشل میڈیا پر موجود ہیں جن کے اندر صوبہ بلوچستان کی محرومیوں کا ذکر کرنے کے بعد غیر ملکی ایجنٹ اور ملک دشمن عناصر اسے کیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت بلوچستان کی تباہ کاری کا سروے بھی ممکن نہیں کیونکہ بارش ابھی تک تھمی نہیں تاہم اب تک نقصان کا اندازہ 4 بیلن سے زیادہ ہے، پانی کے کھڑا ہونے اور اس کے بعد کئی فٹ کیچڑ زرخیز مٹی کو بنجر بنا سکتی ہے اور بلوچستان کے اندر زرخیز زمین کی کمی اور صحرا کا مزید بڑھنا لوگوں کیلئے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ بارش اور بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کا طریقہ ہمارے پاس نہیں کیونکہ پاکستان ایک پسماندہ ملک ہے، ہمارے پاس کوئی ٹیکنالوجی نہیں اور نہ ہی کوئی اوزار یا سسٹم ہے کہ ہم سیلاب کے موقع پر نقصانات کو کم کر سکیں، ہمارے پاس کوئی شارٹ یا لانگ ٹرم پالسیی بھی نہیں نہ ہی ہمارے ملک کے حکمران اتنے وضع دار یا مخلص ہیں کہ وہ ان بد قسمت اور بے چارے لوگوں کی مدد کر سکیں جو سیلاب سے متاثر ہوتے ہیں یا دیگر آفات سے ہمارے پاس اگر چہ سیلاب کے بعد 1973کے بعد فلڈ کمیشن موجود ہے جس کا کام کسی بھی سیلاب کے آنے سے پہلے نشان دہی کرنا اور سیلابی علاقوں کے اندر پشتے تعمیرکرنا ہوتا ہے، اس طرح NDMA,PDMA کا کام ایمرجنسی کی صورت میں ان مقامات تک پہنچ کر نقصانات کے جائزے کے ساتھ ساتھ امدادی کام اور اس کی نگرانی کرنا ہوتا ہے اور کسی بھی حادثے سے پہلے لوگوں کیلئے محفوظ مقامات کی نشان دہی،گروپ لیڈر کا انتخاب، ادوایات سمیت ، محفوظ لائف جیکٹس کی موجودگی اور مشکل وقت میں بھگدڑ مچانے کے بجائے  سیف وے ایگزیٹ سے لوگوں کی زندگی بچانا ان اداروں کا کام ہے۔ پاکستان میں ہر سال سیلاب آتے رہتے ہیں مگر ہم نے کیا کرنا ہے صرف آہ و بکا یا چیخنا چلانا، ہمارے پاس مربوط نظام کوئی نہیں مگر اس موسمیاتی تغیر پزیری کی وجہ سے مستقبل قریب میں جب پاکستان کے اندر خدا نخواستہ کوئی تباہی ہو گی تو ہم سب لوگ نظارہ کرینگے؟ حکومت تماشائی بنے گی۔ اس میں شک نہیں کہ اس وقت ملک کے اندر سیاسی کشمکش میں اقتدار کی کرسی حاصل کرنا سب سے اہم ہے مگر کیا کسی کو پتہ ہے کہ بلوچستان کے اندر اب بھی سوگ کا سماں ہے، پانچ دن سے بہت سارے لوگوں کے پاس پانی اور خوراک نہیں پہنچی جبکہ کھلے آسمان تلے بچے اور خواتین و بوڑھے زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، مچھروں اور بیماریوں کے ساتھ مقابلے نے ان کی توانائی اور طاقت کو ختم کر دیا ہے، تمام روڈز ٹھوٹ پھوٹ کا شکار ہیں مواصلات کا نظام درہم برہم ہے، ایمرجنسی کے نام پر مزید عوام کو مروانا کسی جبر سے کم نہیں تمام حکمرانوں، اداروں اور عوام کو اس مشکل کی ساعت میں ان لوگوں کی مدد کیلئے پہنچنا چاہیے کیونکہ انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔