صحافی ہونا کوئی جرم نہیں

صحافی ہونا کوئی جرم نہیں

تحریر: کاشف کوکی خیل

آپ لکھتے کیوں ہیں؟ آپ بولتے کیوں ہیں؟ آپ سوال کیوں کرتے ہیں؟ یہ تین سوالات مجھ سے دو گھنٹے ریمانڈ میں بار بار پوچھے گئے۔ بندہ ناچیز بار بار کہہ رہا تھا کہ وہ جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کا سٹوڈنٹ ہے، وہ فری لانس جرنلسٹ ہے، اس کے لکھنے، بولنے اور سوال کرنے پر کوئی شک ہے تو آپ عدالت جا کر چیلنج کر سکتے ہیں لیکن یہ مار پیٹ، تھپڑ اور گندی گندی گالیاں دے کر آپ مجھے لکھنے بولنے اور سوال اٹھانے سے منع نہیں کر سکتے۔ یہ قصہ ہے میری صحافت سے پریشان جمرود پولیس کے ایس ایچ او اور دیگر افسران کے ظلم و جبر کا، مجھے جمعرات کے دن 12 بجے زرائع سے پتہ چلا کہ جمرود پولیس آپ کو گرفتاری کر رہی ہے، میں ششدر رہ گیا۔ زرائع سے وجوہات معلوم کیں تو پتہ چلا کہ میری کچھ رپورٹس سے ایس ایچ او اور دیگر افسران کو سخت پریشانی ہو رہی ہے ۔ تقریباً رات10  بجے میں خود دوستوں کے ہمراہ ان کے پاس خود کو حوالہ کرنے گیا کیونکہ میں بذات خود مطمئن تھا کہ چور نہیں تو ڈرنا کیسا؟ جونہی ایس ایچ او کو میرے آنے کا پتہ چلا تو پندرہ بیس لوگوں کے ساتھ انتہائی تیزی سے مجھ پر حملہ آور ہوئے، تھپڑوں کی بارش شروع کر دی، لاتیں مارنا شروع کر دیں، گندی گندی گالیاں دینا شروع کیں، یہ تشدد انتہائی سنگین تھا کیونکہ بحیثیت صحافت و قانون کے طالب علم کے، میں نے سیکھا تھا کہ پولیس حراست میں تشدد نہیں کر سکتی۔ میں نے سمجھا تھا پولیس والے ہمارے اپنے ہیں، گالیاں نہیں دے سکتے لیکن جو ان کے منہ و لب پہ آ رہا تھا ناقابل برداشت و ناقابلِ یقین تھا۔ ایک تھپڑ اور ایک یاداشت، مثلاً آپ نے شاہ کس جمرود میں فلانی ویڈیو کیوں بنوائی، آپ منشیات پر سوالات کیوں کھڑے کرتے ہیں، آپ میرے خلاف کیوں لکھتے ہیں؟ یہ باتیں سن کر مجھے مزید دکھ ہوا کہ آپ کا پالا تو ایک جاہل ایس ایچ او سے پڑا ہے، اب اس کو کون اور کیسے سمجھائے کہ سوال کرنا، تنقید کرنا میرا آئینی، قانونی، اخلاقی اور صحافتی حق ہے۔ بہرحال تشدد پر جب ایس ایچ او کا کلیجہ ٹھنڈا پڑا تو اپنے گنرز سے کہا کہ اس کو جیل میں ڈالو، مزید اس کو سبق سکھاتے ہیں۔ واقعی! میں نے سبق سیکھا۔ حوالات گیا تو پانچ چھ لوگ اور تھے جن میں دو ہیروئن و آئیس کے عادی تھے۔ ایک ماچس لگا کر آئیس پیتا رہا، دوسرا چرس پی رہا تھا، عجیب ماحول تھا۔ ایک طرف منشیات پر نا لکھنے کا کہا جا رہا تھا دوسری جانب حوالات میں منشیات دستیاب تھی۔ رات کے تقریباً12  بج چکے تھے، ایس ایچ او کی جانب سے کمپرومائز کے جرگے آنا شروع ہوئے۔ ایس ایچ او نے میرے دوستوں سے کہا میں اس کو رہا کروں گا لیکن بدلے میں وہ لکھ کے دے گا کہ وہ ''لکھنا چھوڑ دیں گے۔'' جونہی پیغام حوالات لایا گیا تو شدید درد و تکلیف میں اس مطالبے پر ہنسی آئی۔ مجھے پکا یقین ہو گیا کہ ایس ایچ او نالائق ہے، اس کو آئین و قانون کا پتہ نہیں۔ قانون مجھے اظہارِ رائے کی بھی آزادی دیتا ہے اور پبلک آفس ہولڈر کو بھی شہری کے سوال کا جوابدہ بناتا ہے۔ میں نے مطالبہ ماننے سے کھلا انکار کر دیا۔ پھر2  بجے رات کو ایف آئی آر کاٹی گئی۔ مجھے ایف آئی آر سے پہلے پکڑا تھا، تشدد کیا اور بعد میں ایف آئی آر کاٹی۔ قانون کی دھجیاں بکھیرنا اور کیسے ہوتا ہے؟ ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے میری گرفتاری کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی لیکن ریاست نے ایس ایچ او سے ریاستی وقار نچلا لانے پر سوال تک نہیں پوچھا۔ یہ وہ اصل خرابی ہے جہاں اختیارات طاقت کا رخ اختیار کر لیتے ہیں اور کل کسی اور کاشف کے خلاف اس طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ مجھے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ریاست پاکستان میں لکھنے اور بولنے پر پابندی کے خلاف آج تک کوئی موثر اقدام نہیں اٹھایا گیا اس لیے تو بی بی سی پر6  جولائی کو نشر ہونے والی رپورٹ میں وزیراعظم پاکستان کو ''پریڈیٹر آف پریس فریڈم'' کہا گیا ہے یعنی آزادی صحافت کا دشمن۔ اس ظلم و جبر پر خاموش رہنے کی وجہ سے پاکستان کو صحافیوں پر تشدد، ظلم و جبر، بڑھتی قدغنیں اور بندشیں اور زبان بندی کے عمل نے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس نے180 ممالک میں 145ویں نمبر پر کر لیا ہے۔ ایک طرف ملک خداداد کو خارجی و داخلی سطح پر شدید مشکلات و مسائل کا سامنا ہے تو دوسری طرف صحافیوں پر جبر و تشدد مزید مسائل میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ واقعات ایسے ہی بڑھتے ہیں، آج ایک معمولی ایس ایچ او سے نہیں پوچھا گیا، اس کو مزید طاقت ملی، کل وہ کسی صحافی کو اغوا بھی کر سکتا ہے، مار بھی سکتا ہے۔ خدارا! ریاست اور ریاستی ملازموں کو یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ آئین سپریم ہے، آئین نے جو حقوق دیئے ہیں وہ قابل قبول اور قابل عمل ہیں، ہر کسی کو لکھنے بولنے کی آزادی ہے، آپ اس آزادی کو سلب کریں گے تو دنیا آپ کو آزادی صحافت کا دشمن ڈیکلیئر کریں گی۔ اب اس مملکت خداداد کے حکمرانوں کو مل بیٹھ کر ان ناجائز اختیارات و طاقتوں کا حل ڈھونڈنا چاہیے اور صحافی کو تمام تر حقوق کی ضمانت دینی چاہیے تاکہ مملکت خداداد کو آزادی صحافت کے دشمنوں میں شمار نہ کیا جائے اور علی الاعلان بتایا جائے ''صحافی ہونا کوئی جرم نہیں۔'' صحافت کو زنجیروں سے آزاد کر لینا چاہیے اسی میں ملک کی بھلائی ہے۔
 

ٹیگس