موٹر سائیکل یا موت

موٹر سائیکل یا موت


عاصم نواز خان

انسان اگر بے صبرا ہو جائے تو وہ اپنے ساتھ خود سے جڑے لوگوں کے لیے بھی تکلیف کا باعث بن جاتا ہے۔آئے دن خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ فلاں علاقہ میں موٹر سائیکل سوار نوجوان حادثے کا شکار ہوگیا۔خود بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور کسی دوسرے کی ہڈیاں پسلیاں توڑنے کا بھی سبب بن بیٹھا۔آج سے چند عشرے پہلے موٹر سائیکل صرف شہروں تک ہی محدود تھے اور موٹر سائیکل بنانے وال کمپنیاں بھی چند ہی تھیں لیکن پھر وقت بدلا اور آج صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں ستر سے زائد کمپنیاں موٹر سائیکل بنا رہی ہیں اور اسی حساب سے موٹر سائیکل استعمال کرنے والے بھی چھ ملین کے قریب پہنچ چکے ہیںایک محتاط اندازہ ہے کہ مستقبلِ قریب میں پاکستان کا شمار موٹر سائیکل بنانے فروخت کرنے اور استعمال کرنے والے بڑے ممالک میں ہونے لگے گا۔ اب نسبتا سستے موٹر سائیکلوں اور ماہانہ تھوڑی اقساط میں انکی دستیابی کی وجہ سے شہر تو شہر دیہات کے تقریبا ہر گھر میں بھی یہ سواری موجود ہے جبکہ دو دہائی پہلے تک پورے محلے میں صرف چند لوگوں کے پاس یہ سواری ہوا کرتی تھی۔بلا شبہ موٹر سائیکلوں کے باعث متوسط طبقہ کو بہت سہولت ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ حادثات اور اموات کی شرح بھی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔اگر ان حادثات کی وجوہات پر غور کیا جائے تو ساری غلطی استعمال کرنے والوں اور والدین کی نظر آتی ہے۔

سب سے پہلی وجہ تو بے صبری یا تیز رفتاری ہے۔بندہ اپنی سہل پسندی کے باعث ہونے والی دیر پر وقت بچانے کے چکر میں صبر گنوا بیٹھتا ہے اور اس کا حل اپنی رفتار کو تیز کر کے نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔اس سارے عمل میں وہ یہ بھول جاتا ہے کہ دو پہیوں والی اس سواری کو سامنے سے اچانک آجانے والی گاڑی سے بچنے کی صورت میں اسے قابو کرنا تقریبا ناممکن ہے ۔یوں وہ خود بھی موت کو گلے لگالیتا ہے اور کسی دوسرے کی جان کے نقصان کا سبب بھی بن جاتا ہے۔رفتار کو مناسب رکھ کر حادثات پر قابو پایا جاسکتا ہے لیکن نہ جانے کیوں ہمارے معاشرے میں ہر کام کو جلدی کرنے کا عنصر بڑھ گیا ہے۔اس کے علاوہ ان حادثات کی بڑی وجہ والدین کا بے جا لاڈ پیار اور بے احتیاطی ہے۔وہ اپنے کم بچوں کو موٹر سائیکل خرید کر دیتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ بچوں کی ہر فرمائش پوری کرنا درست نہیں۔کچھ بھی ہو بچے اتنے باشعور نہیں ہوتے کہ ٹریفک کے اصولوں کو سمجھ کر ان پر مکمل طور پر عمل کر سکیںساتھ ہی یہ عمر لا ابالی ہوتی ہے اور اس میں مقابلے و دکھاوے کا رحجان بھی زیادہ ہوتا ہے۔اس لیے موٹر سائیکل پر بیٹھتے ہی وہ خود کو ممتاز کرنے کے چکر میں مقابلہ بازی  تیز رفتاری اور ون ویلنگ (سامنے کے پہیے اٹھا کر چلنا) کے بہانے ڈھونڈنے لگتے ہیں۔یوں وہ اپنی جان خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیوں سے بھی کھیلتے ہیں۔

اس ضمن میں والدین کا اولین فرض بنتا ہے کہ عمر بھر کے پچھتاوے سے پہلے ہی احتیاط برتیں۔اس کے علاوہ بڑوں چھوٹوں سب کو چاہیے کہ سڑک پر نکلتے ہوئے ایک سے زائد سواری نہ بٹھائیں اور سر پر ہیلمٹ پہننے کو بھی ترجیح دیں۔دنیا کے اکثر ممالک میں اوور ٹیکنگ اور بغیر ہیلمٹ سواری پر جرمانے اور سزائیں دی جاتی ہیں مگر اس مملکتِ خداداد میں الٹی ہی گنگا بہتی ہے۔غلط اوور ٹیکنگ اور بغیر ہیلمٹ سواری کے باعث روزانہ سینکڑوں حادثات ہوتے ہیں۔پاکستان کی روزانہ اموات کا تین فیصد حصہ صرف اور صرف موٹر سائیکل کے جان لیوا حادثات ہیں اور پوری دنیا میں ایسے حادثات میں اموات کی بدولت پاکستان پچانوے (95) نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ہمارا ٹریفک کا نظام اتنا بیکار ہے کہ حادثات کی شرح پچہتر (75) فیصد تک پہنچ چکی ہے۔اک رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں اسی (80) فیصد افراد پندرہ اور چونسٹھ برس عمر کے افراد ہوتے ہیں۔اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے سخت رویہ کی ضرورت ہے۔رفتار میں کمی اور ہیلمٹ کے استعمال سے حادثات پر ستر سے اسی فیصد قابو پایا جا سکتا ہے۔اس لیے اگر حکومت قوانین پر عمل کروانے میں سختی کرے تو روک تھام آسانی سے ہوسکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ دیہات کے گلی کوچوں میں بھی موٹر سائیکلوں کی تیز رفتاری پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ تنگ گلیوں میں گھروں کے دروازوں سے بچوں اور خواتین کے نکلنے پر موٹر سائیکل حادثات پیش آنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔اسی طرح  اس سواری میں بیاحتیاطی کے باعث غریب لوگوں کے پالتو جانور بھی موٹر سائیکلوں کی زد میں آکر مر یا زخمی ہو جاتے ہیں جوکہ کسی غریب کیلیے کم نقصان قطعا نہیں۔اس سلسلے میں گلی محلوں کی سطح پر ایسی کمیٹیاں بناء جانی چاہییں کہ جو اس تناظر میں حفاظتی اقدامات کریں تاکہ حادثات پر قابو پایا جا سکے۔المختصر زندگی سے بڑھ کر کوء چیز قیمتی نہیں۔اک چالیس پچاس ہزار کا موٹر سائیکل خریدا جا سکتا ہے تو دو ڈھاء ہزار کا ہیلمٹ خریدنا کوء مشکل کام نہیں۔سکولوںمسجدوںحجروں اور گھروں کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی احتیاط سے زندگی گزارنے کی آگاہی اجاگر کرنے کی اولین ضرورت ہے۔حکومت کو بھی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانے میں کسی قسم کی رعایت نہیں کرنی چاہیے۔ اگر رفتار پر قابوہیلمٹ کا استعمال دائیں بائیں دیکھ کر سڑک پار کرنا اور موڑ مڑتے وقت ہارن دیتے ہوئے رفتار آہستہ رکھنے کا رواج پڑ جائے تو موٹر سائیکل موت نہیں سہولت بانٹے گا۔بس یہ بات سمجھ میں آنا ضروری ہے کہ مرنے کے مقابلے میں دیر سے پہنچنا بہتر ہے،آخر میں دعا ہے کہ اللہ ہمیں ہدایت دے تاکہ ہم اپنے اور دوسروں کیلیے مشکلات کے بجائے سہولت و آسانی کا سبب بنیں،آمین ۔