محکمہ تعلیم کے تمام منصوبوں کیلئے بجٹ ریلیز ہوچکا ہے، شہرام ترکئی 

محکمہ تعلیم کے تمام منصوبوں کیلئے بجٹ ریلیز ہوچکا ہے، شہرام ترکئی 

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیربرائے ابتدائی و ثانوی تعلیم شہرام خان ترکئی نے محکمہ تعلیم حکام کو ہدایت کی ہے کہ ضلعی دفاتر سے ریلیز شدہ بجٹ پر پراگر س لیں اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کیساتھ سکولوں کے تعمیراتی کاموں کی بروقت تکمیل کے لیے وزٹ کریں۔

 

انہوں نے کہا کہ تمام منصوبوں کے لئے بجٹ ریلیز ہوچکا ہے مانیٹرنگ کا نظام مزید فعال کریں اور محکمہ تعلیم کا ہر سیکشن کو ہدایت کی کہ میٹنگ منٹس بروقت منظوری کے لیے بھیجا کریں جبکہ اس میں تا خیر کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی۔

 

انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ صوبے کے دوسرے اضلاع کی طرح نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں فرنیچر کی فوری فراہمی کے لیے اقدامات کریں۔ یہ ہدایت انہوں نے محکمہ تعلیم اے ڈی پی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم یحییٰ اخونزادہ، ایڈیشنل سیکرٹری اخلاق احمد، ایڈیشنل سیکرٹری ریفارمز اشفاق خان اور محکمہ تعلیم کے دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

 

وزیر تعلیم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیاکہ اس وقت محکمہ تعلیم میں 104 جاری اور 22 نئے منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ بجٹ میں فرنیچر کے لئے 3 ارب روپے بھی مختص ہے اسی طرح بندوبستی اضلاع میں 2ہزار کچی کلاسز اور 2ہزار پلے ایریاز جب کہ ضم شدہ اضلاع میں 733 کچی کلاسز اور 500 پلے ایریازبھی پرائمری سکولوں میں بنائے جائیں گے اور ڈیجیٹل لٹریسی کے پروگرامز بھی شروع کیے جائیں گے۔  وزیر تعلیم کو بتایا گیا کہ کرنٹ سائیڈ پر 25.3 ارب روپے نان سیلری بجٹ میں رکھے گئے ہیں۔

 

وزیر تعلیم شہرام خان تراکئی نے ایجوکیشن حکام کو منصوبوں کے 1ـPC کی بروقت تکمیل کی بھی ہدایت کی۔  انہوں نے مذید کہا کہ محکمہ تعلیم میں سزا وجزاء کا عمل جاری رہے گا اور حکام کو ہدایت کی کہ نتائج قریب ہیں ان کی روشنی میں بہترین نتائج دینے والے اساتذہ اور پرنسپلز کو انعامات دیں جبکہ خراب کارکردگی دکھانے والوں سے بازپرس ہوگی۔

 

انہوں نے ایڈیشنل سیکرٹری ریفارمز اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بہتر عوامی مفاد میں شروع کردہ منصوبے ڈبل شفٹ ایجوکیشن پروگرام فیز 2 کا عمل جلد از جلد مکمل کریں تاکہ فیز 1 سے باقی رہ جانے والے اضلاع میں بھی یہ پروگرام باقاعدہ شروع کرسکیں۔ شہرام خان تراکئی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اے ڈی پی پر ریگولر بنیادوں پر میٹنگ منعقد کریں گی جس پر پراگرس لیا جائے گا اہداف مقررہیں اور کارکردگی نہ دکھانیوالوں کے خلاف کاروائی ہوگی۔