جامعہ پشاور: انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ سٹڈیز کے زیر اہتمام ''کے پی بزنس ایکسپو2021 '' کا انعقاد

جامعہ پشاور: انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ سٹڈیز کے زیر اہتمام ''کے پی بزنس ایکسپو2021 '' کا انعقاد

 سيد رسول خان بیٹنی 

صوبے میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے، نوجوان نسل کو کاروبار کی اہمیت اور ان کے اذہان کو مثبت و تخلیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کیلئے جامعہ پشاور کے انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سٹڈیز اور کے زیر اہتمام دو روزہ ''کے پی بزنس ایکسپو 2021'' کا انعقاد کیا گیا۔ بزنس ایکسپو کا عنوان پختونخوا میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کا فروغ رکھا گیا تھا جس میں کیمپس کی چاروں جامعات کے طلبہ و طالبات اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے  تعلق رکھنے والے نوجوانوں، اکیڈیمیا، ڈویلپمنٹ سیکٹر اور میڈیا کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ایکسپو کا مقصد نوجوان نسل کو معاشی لحاظ سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے، صوبے میں کاروبار کے کلچر کو  متعارف کرانے اور اس کے ساتھ ساتھ  کاروبار کی اہمیت سے آگاہ کرنا تھا تاکہ صوبے میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے اور بے روزگاری کی روک تھام کی جا سکے۔ اس کے علاوہ ایک پرامن معاشرے میں نوجوان نسل کا کردار، کاروباری اور سماجی کارکنان کو انسانی خدمات کے حوالے سے آپس میں اتفاق رائے، روابط  و ہم آہنگی پیدا کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں نوجوان نسل کو درپیش مشکلات کے حل پر غور کرنا تھا۔

 

ایکسپو کی افتتاحی تقریب میں چیف آرگنائزر اور جامعہ پشاور کے انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سٹڈیز کے استاد و کوآرڈینیٹر ٹریننگ اینڈ ڈیولپمنٹ  ڈاکٹر شکیل خان نے مہمان خصوصی صوبائی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی محمد عاطف خان، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس اور دیگر مہمان گرامی کا خیرمقدم کیا اور شرکاء کو ایکسپو کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس تعلیمی میلے میں کثیر تعداد میں طلبہ وطالبات، اساتذہ کے علاوہ کئی اہم سرکاری اور نجی شعبوں کے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی اور اپنے کردار کو اجاگر کیا۔ ایکسپو میں تین باہم مربوط سرگرمیاں جن میں بزنس پلان مقابلہ، اسٹالز کی نمائش اور بزنس ورکشاپس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکسپو  کا اصل اور بنیادی مقصد  پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ہے تاکہ وہ اپنے معاشرے کے مسائل کو پہچان سکیں اور ان کے حل کیلئے مقامی سطح پر عملی اقدامات اٹھائیں اور بعد ازاں وہ سلوشن ایک بزنس کی شکل اختیار کر سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کا انعقاد اس لئے کیا گیا ہے تاکہ وہ نوجوان جو اپنے سٹارٹ اپس شروع کر چکے ہیں وہ اپنی برانڈ اور پروڈکٹ کے بارے میں آگاہی پھیلائیں، مارکیٹ کو تعلیم دیں، نئے گاہکوں سے آمنے سامنے ملیں اور اپنی سیلز کو بڑھا سکیں۔

 

ڈاکٹر شکیل خان نے کہا کہ اس کاروباری میلے سے نوجوان طلبہ وطالبات سمال میڈیم انٹرپرائزیز کے مالکان کے ساتھ روابط قائم کریں گے جو اپنے کام کے طریقے میں انقلاب لانے کے لیے حل اور خدمات کی تلاش میں ہیں۔ ایکسپو کے دوران شرکا کو اپنی پروڈکٹس شو کرانے اور ڈیمو کی سہولیات فراہم کی گئیں تاکہ وہ صنت کاروں سے عملی طور پر ملیں اور اپنے نیٹ ورک کو بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیوں سے نوجوان نسل تعمیری اور تخلیقی سوچ کی طرف متوجہ ہو گی اور اپنے معاشرے کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرے گی جس سے لوگوں کے درمیان امن اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ ملے گا، ''پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ذمہ داریاں بہت زیادہ  ہیں کیونکہ یہاں غربت، بیروزگاری، تعلیمی پسماندگی وغیرہ ایسے مسائل ہیں جو نوجوان نسل کو براہ راست متاثر کرتے ہیں اس لئے ہم چاہ رہے ہیں کہ نوجوان نسل صنعت اور تجارت کی سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہو جائے تاکہ ملک میں معاشی استحکام ممکن ہو سکے۔''

 

مہمان خصوصی عاطف خان  نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی ملک وقوم کا حقیقی سرمایہ اور اثاثہ ہوتی ہے، قوموں کی تاریخ میں نوجوان نسل کا کردار نہ صرف مثالی رہا ہے بلکہ ملکوں کی ترقی میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ''آج کے جدید دور میں نوجوان نسل کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ  بہتر تعلیم وتربیت حاصل کریں تاکہ وہ کل ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں، آج جامعہ پشاور کی اس پروقار تقریب میں روایتی نہیں بلکہ دلی خوشی ہو رہی ہے، دنیا میں ترقی صرف وہی قومیں کرتی ہیں جو ٹیکنالوجی میں آگے ہوں، پاکستان کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جامعات میں زبردست اور اعلی درجے کی ریسرچ تو ہوتی ہے لیکن طلباء اور سکالرز کے اس کام کو مارکیٹ نہیں کیا جاتا، حکومت ایک لاکھ طلبہ وطالبات کو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تربیت دینے کے لیے تقریباً آٹھ ارب روپے مختص کرے گی، جس میں انٹرنیٹ آف تھنگز(IoT) ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور الیکٹرانک کامرس شامل ہیں، ملک کی ترقی کیلیے تین اداروں کے آپس میں مضبوط روابط ناگزیر ہیں، جن میں حکومتی ادارے، جامعات اور انڈسٹریز شامل ہیں، جامعات میں حکومت کے تعاون سے ریسرچ کی جاتی ہے اور انڈسٹریز اس ریسرچ کی برانڈنگ اور مارکیٹنگ کرتی ہیں۔''

 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس نے پروگرام کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ جامعہ پشاور اپنے طلبا کو بزنس علوم دینے کے ساتھ ساتھ بزنس کے عملی طور طریقوں سے بھی روشناس کرانے تاکہ طلباء ڈگریاں لینے سے قبل اس قابل ہوں کہ وہ اپنا بزنس انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے شروع کر سکیں، ''جامعہ پشاور میں نیا بزنس انکیوبیشن سنٹر قائم ہو چکا ہے جس میں طلباء کو اپنا بزنس پلان پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے جامعہ پشاور چھ مہینے تک مکمل فری سہولیات میسر کرے گی، اس دورانیے میں طلباء کو درپیش مسائل جامعہ کے اپنے مایا ناز پروفیسرز کی زیر نگرانی حل کئے جائیں گے۔'' جامعہ پشاور کے انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سجاد احمد خان اپنے خطاب میں کہا کہ اس ایکسپو کا مقصد مقصد مختلف اسٹیک ہولڈرز کو ایک دوسرے سے ملوانا اور ایک علامتی تعلق کو فروغ دینا ہے، ''نوجوان نسل کو ایک ایسے تعلیمی اور تخلیقی سمت کی طرف لانا ہے تاکہ وہ منفی سرگرمیوں میں اپنی توانائی صرف کرنے کی بجائے تعمیری اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول ہو سکیں اور مملکت خداداد کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں، سٹوڈنٹس  نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیل کود، ثقافتی تقریبات اور تنقیدی مباحثوں میں بھی شرکت کیا کریں تاکہ آپ لوگ ہر طرح کے حالات اور واقعات کا مقابلہ کر سکیں، اس جیسے ایکسپوز اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے مستقبل کے رہنماء اور سکالرز پیدا کرنا مقصود ہے جو کہ بنیادی طور پر معاشرے کی ترقی و امن کی بحالی اور علاقائی سالمیت کے لئے اپنے اپنے حلقوں میں بھرپور کام کر سکیں۔'' 

 

ایکسپو کے پہلے روز کے آخری سیشن کے مہمان خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وتجارت عبدالکریم نے کہا کہ اس ایکسپو سے جامعہ پشاور کے طلبہ و طالبات کو اپنے علاقوں میں  اپنے بزنس آئیڈیاز پر کام کرنے کا موقع ملے گا بلکہ آگے جا کر اپنے پروفیشنل کرئیرز میں دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر پروجیکٹس پر کام کریں گے اور ایک بہترین معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گے،'' موجودہ حکومت نوجوانوں کے لیے بہت سارے انٹرسٹ فری لون اور دیگر پیکج دے رہی ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔'' انہوں نے ایکسپو کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیوں  سے نوجوانوں کو نہ صرف کام کرنے کا موقع ملے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ معاشرے میں ایک چینجر کے طور پر بہترین ماحول کو جنم بھی دیں گے۔

 

آرٹ،کلچر اور سیاحت کی صنعتوں میں کاروباری مواقع کے موضوع پر منعقدہ سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد چترالی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسی سرگرمیوں سے نوجوان نسل تعمیری اور تخلیقی سوچ کی طرف متوجہ ہوگی اور اپنے معاشرے کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرے گی جس سے لوگوں کے درمیان امن اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ ملے گا، ''پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں نوجوانوں کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں، یہاں غریبی، بیروزگاری، تعلیمی پسماندگی وغیرہ ایسے مسائل ہیں جہاں سماجی بہبود کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے، ان تمام مسائل کے پیش نظر اس شعبے کی اہمیت بتدریج بڑھ رہی ہے، مثبت سماجی رویوں کو سماجی تبدیلی میں بدلنا ایک چیلنج ہے جس کیلئے تیار رہنا ہو گا، اگرچہ ہماری حکومت اور ریاستی ادارے نوجوانوں کی بات تو بہت کرتے ہیں اور دعوی کیا جاتا ہے کہ ان کو اپنی مختلف پالیسیوں کی مدد سے قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے گا لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا، تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کی حقیقی سیاسی طاقت ہی نوجوان طبقہ ہے اور اس طبقہ کو عمران خان اور ان کی حکومت سے بہت زیادہ سیاسی توقعات وابستہ ہیں۔''

 

دو روزہ ''بزنس ایکسپو 2021'' میں خیبر پختوانخوا سے کے مختلف شعبہ جات سے منسلک ماہرین  نے نوجوان طلبہ وطالبات کے ساتھ مختلف سیشنز میں کاروبار کی اہمیت، معاشرے کی ترقی میں نوجوان نسل کا کردار، بزنس پلان مقابلے، بزنس ڈیولپمنٹ، سیاحت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، یوتھ ڈیولپمنٹ، کمیونٹی ڈیولپمنٹ  اور معاشرتی ترقی کے مختلف موضاعات پر لیکچرز اور سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔ 
شعبہ نباتات جامعہ پشاور کی طالبہ مہ پارہ سید ایکسپو میں شرکت کرنے کے حوالے سے بتایا کہ اس ایکسپو  میں ''بزنس پلان ڈیولپمنٹ'' کے بارے میں مجھے کافی آگاہی ملی، ''میں نے ایکسپو کے مختلف سیشنز میں بزنس ڈیویلپمنٹ، مثبت تنقیدی سوچ کی اپنائیت اور سوشل ایکشن پروجیکٹس کے بارے میں سیکھا، ماہرین نے انتہائی خوبصورت اور پرمغز لیکچرز دیئے جن میں سیکھنے کیلئے بہت کچھ تھا، مجھے اس پہلے معلوم نہیں تھا کہ ہم نوجوان اتنی اہمیت کے حامل  ہیں اور ہم بھی اپنا کاروبار شروع کر سکتے ہیں، ایکسپو میں ڈیویلپمنٹ سیکٹرز کے ریسرچرز نے بزنس ڈیولپمنٹ اور سماجی بہبود کے حوالے سے مشاہدات اور تجربات شیئر کئے جس سے طلبہ وطالبات کو نیا کاروبار شروع کرنے میں بڑی مدد ملے گی، اس تربیت سے نوجوانوں کو اپنے مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل بارے آگاہی ملے گی جو کہ علاقے میں امن کی دوبارہ بحالی میں کام آئے گی۔''

 

ایکسپو کے دوسرے اور آخری روز کے پہلے سیشن کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر برائے صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعات میں بزنس ایکسپو جیسی سرگرمیاں روزگار کے مواقع بڑھانے میں کارآمد ثابت ہوتی ہیں کیونکہ ایسکپوز میں آئیڈیاز جنم لیتے ہیں جو کہ بڑے بڑے پروجیکٹس کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ طلبہ و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے تیمور جھگڑا نے بتایا کہ اکیڈیمیا اور انڈسٹری کا چولی دامن کا ساتھ ہے، دونوں کا ربط ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے، ایک اچھا آئیڈیا ہی میچور ہوکے بڑے بزنس کا روپ دھارتا ہے، آپ کے اپنے سٹارٹ اپس دیگر لوگوں کیلئے وسیلہ روزگار ثابت ہوگا، بزنس میں ناکامی سے آپ کو تجربہ حاصل ہوتا ہے جو آپ کے بہتر کل کا سرمایہ ہوتا ہے، طلبا کو پبلک کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر میں اپنا کرئیر بنانا چاہیے، ٹیکنالوجی کی مدد سے ای کامرس جیسے مواقع میسر آئے ہیں، مجھے سرکاری نوکری کا موقع ملا لیکن میں نے پرائیویٹ سیکٹر میں نوکری اختیار کی، دنیا کی سب سے بڑی کنسلٹنگ کمپنی میں کام کرنے کا موقع ملا، پاکستان میں چھ سال تعلیم پر کام کیا، بزنس کی دنیا بہت وسیع ہے اس میں کوئی حدود وقیود نہیں۔ 

 

وزیر صحت نے جامعہ میں واقع انکیوبیشن سنٹر اور آئی ایم ایس بزنس سنٹر کا دورہ بھی کیا۔ آخر میں وائس چانسلر جامعہ پشاور ڈاکٹر ادریس نے انتظامیہ کی جانب سے وزیر صحت و خزانہ کو اعزازی شیلڈ پیش کی۔ ایکسپو میں شریک ''دی مرر آف سوسائٹی'' نامی سٹارٹ اپ کے بانی طارق شاہ نے اپنے سٹال بارے بتایا کہ یہ ایک ادبی سوسائٹی ہے جو کہ معاشرے کے اندر اچھے ادبی ذوق کے حامل لوگوں کو ادبی اظہار کا موقع فراہم کرتی ہے، ''میری خواہش ہے کہ اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے نوجوان نسل کی تربیت کر سکوں اور ان کے اذہان کو ایک مثبت تبدیل کی طرف لے جا سکوں، ہمارا مقصد ہے کہ نوجوانوں کو کتابوں میں ملنے والی کہانیوں کے بارے میں بات کرنے کی ہمت پیدا ہو جائے اور وہ آرٹیکلز اور فیچرز کے ذریعے اپنا اظہار خیال کر سکیں، اس وقت ہم طلبہ وطالبات کی رکن سازی کا عمل شروع کر چکے ہیں جس کیلئے ہم نے ایکسپو میں سٹال لگایا ہے تاکہ شرکا کو اپنی پراڈکٹ کے بارے میں بتاؤں اور ان کی رہنمائی کر سکوں۔''

 

ایکسپو کے آخری روز اختتامی سیشن کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم کامران بنگش نے اپنے خطاب میں جامعہ پشاور کے انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سٹڈیز کے اساتذہ کو کامیاب ایکسپو کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قلیل مدت میں اس طرح کا بڑا ایونٹ آرگنائز کرنا قابل تحسین ہے، ''پختونخوا اور سابقہ قبائلی جات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے دہشت گردی کی لہر نے قبائلی نوجوانوں کو کافی زیادہ نقصان پہنچایا اور ان کی ذہنی نشونما پر گہرے اثرات چھوڑے تھے، اب قبائلی اضلاع میں امن بحال ہو چکا ہے جس کا سب زیادہ فائدہ وہاں کی نوجوان نسل کو ہی ملے گا۔''

 

ماہر امور نوجوانان اور جامعہ پشاور کے شعبہ کیمسٹری میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر رسول خان داؤدزئی نے کہا کہ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی و معاشی طاقت نوجوان طبقہ ہے کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی نکتہ نوجوان نسل کی ترقی سے جڑا ہوتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ ریاستی و حکومتی سطح پر زیاد ہ سے زیادہ مواقع اور سازگار ماحول کو یقینی بنا کر ان کی ترقی کو ممکن بنایا جا سکے لیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ جب ریاستی و حکومتی سطح پر نوجوان طبقہ ان کی سیاسی ترجیحات کا حصہ ہو، ''عمومی طور پر ہماری سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتیں نوجوان طبقہ کو اپنے سیاسی حق میں ایک بڑے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ سیاسی سطح پر اہل سیاست کے ہاتھوں سیاسی استحصال کا بھی شکار ہوتا ہے، ریاست اور حکومت کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کیلئے تکنیکی مہارتوں کا بندوبست کریں تاکہ وہ اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو سکیں اور ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار بخوبی سرانجام دے سکیں۔ اس طرح کے ایکسپوز میں نوجوانوں کو صنت کاروں کے ساتھ انٹریکشن کا موقع ملتا ہے۔''