مگر بدلا کیا ہے؟

 مگر بدلا کیا ہے؟

تحریر: روخان یوسف زئی

خودکش دھماکے اور خودکشی میں صرف یہ فرق ہے کہ پہلے میں اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی جان لی جاتی ہے جبکہ دوسرے میں صرف اپنی جان لی جاتی ہے یہ اور بات کہ اجتماعی خودکشیاں بھی ریکارڈ پر ہیں۔ خودکش حملے کے پیچھے تو کئی محرکات وعوامل ہو سکتے ہیں لیکن نوے فیصد خودکشیوں کا بنیادی محرک بھوک اور غربت ہوتا ہے۔ اس ضمن میں کس کس کی بات کی جائے کہ جنہوں نے بھوک کی جلن سے بچنے کے لیے موت کے درد کو آخری سمجھتے ہوئے برداشت کیا ہو گا۔ آج بھی اخباروں میں ایسی خبریں ملتی ہیں جن میں موت نے بھوک کے ماروں کو نگل کر اپنی بھوک مٹائی ہو تاہم ان کا اثر شاید اس لیے کم ہو گیا ہے کہ یہ روٹین میں داخل ہو گئی ہیں اور اس کی وجہ 71 سال سے معاشی نظام کے نام پر چلنے والا وہ ''طبقاتی نظام'' ہے جس نے غربت کو مشرومز کی طرح اگایا اور سابقہ و موجودہ حکومتوں نے تو اس کو ایسی مہمیز لگائی کہ غربت تو رہی ایک طرف خط افلاس کے نیچے بھی تل دھرنے کو جگہ کیا بچی ہو گی جب کہ تین فیصد لوگوں کے لیے یہی نظام ''سونے کی چڑیا'' جیسا ہے، ایسے واقعات پورے معاشرے کے لیے  لمحہ فکریہ تو ہیں ہی لیکن انتظامی حکام کے لیے کسی زناٹے دار طمانچے سے کم نہیں، اپنی تقاریر میں حضرت عمر  کا یہ قول ''دریائے فرات کے کنارے بھوک سے مرنے والے کتے کی بازپرس بھی ہو گی'' بار بار استعمال کرنے والے اپنے ضمیر کو آخر کس طرح مطمئن کر پائیں گے؟ تقدیر بدلنے کے دعوے کس رہنما کی تقریر کا مرکز و محور نہیں ہوتے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ووٹر کی اہمیت صرف اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ووٹ نہ ڈال دے اور الیکشن کے بعد کبھی بھی اجتماعی طور پر غریبوں کے مسائل حل نہیں ہوئے اور نظر کرم چند لوگوں تک محدود رہتی ہے، نوکریوں، فنڈز اور ٹھیکوں کے دروازے صرف چہیتوں کے لیے کھلتے ہیں۔ کسی کو کچھ دینا بری بات نہیں لیکن کسی کا حق مار کر دینا یقیناً ایک ایسی زیادتی ہے جہاں سے اضطراب کی لہریں پھیلتی ہیں اور ایسے میں بھی ہم گلہ کرتے ہیں کہ تقدیر ہم پر مہربان کیوں نہیں ہوتی؟ قسمت کی دیوی ہم پر مہربان ہو بھی تو کیسے؟ جہاں ایک طرف پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے پیٹ کے ہی حصے (گُردے) کاٹ کر بیچے جاتے ہوں، جہاں والدین اپنے جگر گوشوں پر ''برائے فروخت'' کی تختیاں لگائیں، جہاں شریف گھرانوں کی بچیوں کو مجبوری بازاروں میں لے آئے، وہاں کے حکم رانوں کو یہ کیسے زیب دے سکتا ہے کہ گرمی میں ائرکنڈیشنر اور سردی میں ہیٹرکے بغیر ایک سانس بھی نہ لیں، صرف قالین پر ہی پاؤں دھریں، تفریحی دوروں پر اربوں اجاڑ دیں، جس طرح یہ کام غریبوںکا مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں کرتے اسی طرح غریبوں کا بھی اپنے سوا کسی پر بس نہیں چلتا اور پھر کہیں ٹریگر دبتا ہے تو کہیں قدم پٹڑی کی طرف اٹھتے چلے جاتے ہیں۔ اور ایسا ہر واقعہ اپنے پیچھے کئی سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے۔ نئی حکومت اب اچھی خاصی پرانی ہو چلی ہے مگر بدلا کیا ہے؟ صرف کھلاڑی، کھیل وہی جاری ہے، یعنی نئی بوتلوں میں پُرانی شراب، اسمبلیوں میں ننانوے فیصد وہی لوگ پہنچے ہیں جو موروثی سیاست دان اور جاگیردار، خان یا ریئس ہیں اور ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہو گا جس کے پاس گاڑی بلکہ گاڑیاں نہ ہوں، اس کے باوجود وزراء کو اربوں کی بلٹ پروف گاڑیاں دی جاتی ہیں آخر کیوں؟ ایک بھی ایسا نہیں ہو گا جس کے سبھی بڑے شہروں میں گھر نہ ہوں۔ ان کو بنگلے، ایم پی اے، ایم این اے ہاسٹلز اور فائیو سٹار ہوٹلز میں کمرے دیئے جاتے ہیں، آخر کیوں؟ سبھی کی مالی استطاعت انتہائی مستحکم ہے پھر ان کو بھاری تنخواہیں دینا کیوں ضروری ہے جب کہ وہ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ''ہمارا مقصد صرف اور صرف عوام کی بے لوث خدمت ہے۔'' وزیراعظم سے لے کر صوبائی وزراء تک کو ایسا پروٹوکول کہ شہر کے شہر جام ہو جائیں دینے کی آخر ضرورت کیا ہے؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کو عوام نے کندھوں پر بٹھا کر ایوانوں میں پہنچایا، اب وہ یک دم فرشتے اور عوام اچُھوت کیسے ہو گئے؟ اتنی زیادہ سیکورٹی، آگے پیچھے اسلحے سے بھری گاڑیاں مگر کیوں؟ یہ تو عوامی لیڈر ہیں، عوام سے ان کو کیا خطرہ ہے، ایسا تو صرف ان کے لیے کرنا پڑتا ہے جو غاصب ہوں اور عوام میں ان کے خلاف نفرت ہو جیسا کہ موجودہ دور حکومت میں چلتا رہا ہے، اب بھی ایسا ہی رہے تو ہم نے انتخابات سے آخر پایا کیا ہے؟ اگر کچھ شرپسند حکم رانوں کی جان کے درپے ہیں تو کیوں ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاشنے کی ضرورت ہے اور وہ وجوہات ختم کی جائیں جو خرابی کا باعث ہیں۔ مانا کہ  سفارتی تعلقات کے لیے حکام کے دورے ضروری ہوتے ہیں لیکن کیا ہر دورے کے لیے خصوصی جہاز استعمال کرنا اور سو ڈیڑھ سو لوگوں کو ساتھ لے جانا ضروری ہے اور کیا یہ اتنے ہی طویل اور تواتر سے ضروری ہیں کہ جب واپس آئیں تو ایسا لگے جیسے پاکستان کے ایک آدھ روزہ دورے پر آئے ہوں؟ اوپر گنوائے جانے والے معاملات ایسے ہیں جن کا ایک روز کا خرچہ بھی شاید کروڑوں میں ہو گا، اور کسے نہیں معلوم کہ یہ قوم کا پیسہ ہے لیکن اس کا اے ٹی ایم کارڈ ان لوگوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے کہ جن کی جیبوں میں سوئس اور جانے کس کس بینک کے کارڈ پڑے ہیں اور پھر بھی چند ہی سکّے ان کی رال ٹپکا دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ دوسرے ممالک میں بھی حکام کو ایسی مراعات حاصل ہوتی ہیں، مگر وہاں دوسری ایسی بے شمار مثبت چیزیں بھی ہوتی ہیں جو یہاں نہیں۔ وہاں اگر حکام بھرے پیٹ لیٹتے ہیں تو کوئی اور بھی خالی پیٹ نہیں سوتا، وہاں سب سے آسان کام حکومت میں شامل کسی بھی شخصیت کے گریبان پر ہاتھ ڈالنا ہوتا ہے مگر یہاں، یہاں تو اگر ایسا کوئی نکتہ اٹھایا جائے تو ''استثنیٰ'' اور اداروں کے ٹکراؤ کی وہ انتباہی قوالیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ الاماں الحفیظ، وہاں اشارہ توڑنے پر صدر و وزراء تک کے چالان ہوتے ہیں یہاں قوانین کی حیثیت ہی کانچ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ ''تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور کسی بھی حصے میں تکلیف سے پورا جسم بے چین رہتا ہے۔'' منتخب نمائندے بھی عوام کا حصہ ہیں اور عوام کے درد کا احساس انسانیت کا تقاضا ہے، آج اگر وہ یہ فیصلہ کریں کہ کچھ عرصہ کے لیے متذکرہ مراعات لینا چھوڑ دیں گے اور اس کا بجٹ براہ راست غریبوں اور بے روزگاروں کے تصرف میں لانے کے لیے کوئی شفاف پروگرام تشکیل دے دیں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ چار پانچ ماہ میں ہی صورت حال کافی بہتر ہو سکتی ہے۔ چند ماہ کی قربانی سے غربت کے ہاتھوں ''قربانیوں'' کا سلسلہ تھم جائے تو یہ سودا مہنگا نہیں۔ اگرچہ اس تجویز کے قابل عمل ہونے میں کوئی شک نہیں تاہم عمل درآمد پر ضرور شک ہے کیوں کہ آج کل حکومتی حکام بڑے ''ایشوز'' میں مصروف ہیں مگر افلاس کو بھی کوئی چھوٹا ایشو نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کی گمبھیرتا کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پیغمبروں نے بھی اس سے پناہ مانگی ہے۔ آج کل سب سے زیادہ ڈھنڈورا امن و امان کی بحالی کا پیٹا جا رہا ہے اور یہ بات تو ایک بچہ بھی سمجھتا ہے کہ جب تک معاشرے میں بے چینی، مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی رہے قیام امن ممکن نہیں ہوتا کیوںکہ اسی کی وجہ سے اکثر لوگ خطرناک گروہوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ سارے غریب خودکشیاں کر کر کے ختم ہو جائیں گے تو اسے سوائے کج فہمی کے کیا کہا جا سکتا ہے۔ آج اگر عوام کے لب پر ایسے سوالات ہیں کہ مہنگائی کی کمان سے آئے روز نت نئے تیر کیوں چھوڑے جا رہے ہیں؟ ایک بحران کے حل کا اعلان دوسرے کی نوید کیوں سناتا ہے اور مہنگائی کی روک تھام کے لیے پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں تو مہنگائی کے مکمل تدارک کے لیے کیوں نہیں؟ اگر حکام اب بھی ان سوالیہ نشانوں کو قالین کے نیچے کوڑا چھپانے کی طرح ڈیل کرتے رہے  تو ہو گا بھی وہی، جو ہو رہا ہے اور جو ہو رہا ہے اسے غلط سمجھنا درست نہیں؟
 

ٹیگس