چیئرمین بلاول اور طالبان

چیئرمین بلاول اور طالبان

شمیم شاھد
پاکستان کے وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واشنگٹن امریکہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں برسر اقتدار طالبان کو تنہا نہ کرے بصورت دیگر اس کے انتہائی بھیانک نتائج برآمد آمد ہو سکتے ہیں۔ نوجوان مگر سیاسی طور پر باشعور بلاول بھٹو زرداری کے موقف کی جتنی بھی تائید اور ستائش کی جائے کم ہے، اب عالمی برادری کا فرض بنتا ہے کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کی اس تجویز کو مدنظر رکھ کر افغانستان میں  طالبان حکومت کو راہ راست پر لانے کی کوششیں شروع کر دے ورنہ افغانستان ایک بار پھر دنیا بھر کے عسکریت پسندوں، دھشت گردوں، منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ افراد کا مسکن بن جائے گا جو نہ صرف امریکہ یا روس جیسے بڑے ممالک بلکہ پاکستان، ایران، چین، ترکی ، ھندوستان اور دیگر علاقائی ممالک کے امن و استحکام کے لئے خطرات کا باعث بن سکتا ھے۔ ان حالات میں عالمی برادری کو کسی بھی طور افغانستان سے لا تعلق نہیں ھونا چاہئے اور نہ اسے1996-2001  کی طرح ایک دو علاقائی ممالک کے رحم وکرم پر چھوڑنا چاہئے کیونکہ جنگ سے تباہ حال افغانستان کے بعض مذہبی انتہاپسند عناصر اب کوئی بھی کسی بھی مقصد کے لئے ہر وقت استعمال کر سکتا ہے۔ ویسے تو اب تک افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی، سیاسی انتقام، اسلامی شریعت کے نام پر لوگوں کا قتل عام، خواتین کو شادی کے لئے بزور بندوق مجبور کرنے، لڑکیوں کے اسکولوں کو مقفل کرنے، ماورائے عدالت قتل کی وارداتیں اور بے گناہ لوگوں یرغمال بنانے کے واقعات سے دنیا آگاہ ہے۔ مگر اس کے علاوہ منشیات کے ایک عالمی سمگلر کو حال ہی میں نہ صرف ایک مغوی انجینئر کے بدلے امریکہ سے رہا کر کے کابل میں نہ صرف ایک اھم مہمان کے حیثیت سے استقبال اور بعد میں جنوبی شہر قندھار میں ہیرو جیسے عوام کے سامنے پیش کرنا یقیناً ان ممالک کے منہ پر ایک طمانچہ ھے جو کسی نہ کسی خاص مقصد کے لئے طالبان کی وکالت کر رہے ہیں۔ افغانستان کے جنوبی علاقے ہلمند سے تعلق رکھنے والے حاجی بشیر نورزئی کا شمار طالبان کے سپریم لیڈر ملا محمد عمر اخوند کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ وہ2005  میں تقریباً50  ملین امریکی ڈالر مالیت کے ہیروئن کی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار ہو کر ایک امریکی عدالت سے سزایافتہ منشیات فروش ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور کا نہیں بلکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انتہائی خطرناک مذہبی انتہاپسند مولانا محمد مسعود اظہر بھی افغانستان میں روپوش ہے جبکہ پاکستان کے مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب اور عدالتوں کے فیصلوں کے تحت اشتہاری دہشت گرد جو کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروہوں سے منسلک ہیں، وہ پہلے ہی سے افغانستان میں رہائش پذیر ہیں۔ ان افراد کے علاوہ افغانستان کے طالبان حکمرانوں نے ازخود تصدیق کی ھے کہ داعش سے منسلک پانچ ہزار سے زائد دہشت گرد افغانستان کے مختلف علاقوں میں روپوش ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وسط ایشیائی ممالک کی ازبکستان اسلامک موومنٹ، قازقستان کے اویغور عسکریت پسندوں کی تنظیم اتحاد اسلامی جہاد، تاجکستان اسلامک فرنٹ، ترکی، برطانیہ اور جرمنی سمیت کئی ایک یورپی اور مغربی ممالک کے علاوہ چین کی حزب اسلامی ترکستان کے جنگجو بھی افغانستان میں رہائش پذیر ہیں۔ ان حالات میں کسی بھی طور پر نہ تو افغانستان کو پرامن ملک سمجھنا چاہیے اور نہ اس کے حکمرانوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ اب عالمی برادری کا فرض بنتا ھے کہ وہ افغانستان کے طالبان حکمرانوں کو مجبور کرے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے وضع کردہ انسانی حقوق کا احترام کریں اور نہ صرف افغانستان کے باشندوں کو عزت و احترام کے ساتھ جینے کا حق یقینی بنائیں بلکہ افغانستان میں جمع ہونے والے تمام غیرملکی عسکریت پسندوں کو اپنے اپنے ممالک کے حوالے کر دیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں بھی افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری عالمی برادری کے لئے خطرہ قرار دیا گییا ہے۔ اس وقت طالبان افغانستان کے عوام کی حمایت اور تعاون سے عاری ہیں اور نہ صرف بزور بندوق بلکہ پاکستان کے مخصوص ذہنیت کے حامل طبقات کے تعاون سے حکومت کر رہے ہیں۔ اصل صورتحال یہ ھے کہ افغانستان سے جس کسی بھی عام بندے کو بیرونی ملک جانے کا موقع ملتا ھے وہ کسی بھی صورت میں اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ ماضی قریب میں1979  کے بعد سے جب وقتاً فوقتاً افغانستان کے اپنے باشندوں نے بیرونی ممالک جا کر وہاں سکونت اختیار کر کے اپنے گاؤں اور دیہاتوں کو کسی اور کے لئے نہیں بلکہ مقامی اور غیرملکی عسکریت پسندوں اور انتہاپسندوں کے لئے چھوڑ دیا اور نتیجے میں افغانستان کی سرزمین سے امریکی مفادات کے لئے سوویت یونین کے خلاف نام نہاد جہاد اب عالمی برادری کے لئے دہشت گردی کی صورت میں سخت خطرہ بن گیا ھے۔