تبدیلی میں تبدیلی

تبدیلی میں تبدیلی

تحریر: ڈاکٹر سردار جمال

اِدھر سب کچھ ممکن ہے اس لئے اگر آپ کو ''تبدیلی میں تبدیلی'' جیسے الفاظ دیکھنے کو مل گئے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ اگر آپ کو 'کچ سے مچ' نکالنا ہو تو آپ کو ذرہ پیچھے جانا ہو گا مگر پاکستانی ترقی پسند قوم ہے وہ لگا تار آگے بڑھ رہے ہیں، اگر وہ پیچھے جانے کی زحمت کرتے تو اتنی جلدی بھول نہ جاتے تھے۔ کئی پرانی باتوں میں سے ایک یہ بات بھی پرانی ہو چکی ہے یعنی اتنی پرانی جتنا پرانا پاکستان ہے، وہ الگ بات ہے کہ عمران خان اینڈ کمپنی نے پھونک مار کر پرانے پاکستان کو نیا پاکستان بنا دیا۔ بدقسمتی مانیں یا خوش قسمتی مگر اس قِسم کی پھونک مملکت خداداد پر پیدائش کے چند ماہ بعد بھی ماری گئی تھی جس سے یک دم اکثریت سے حکومت بھاگ کر اقلیت کے دامن میں گِر پڑی تھی اور اس وقت سے لے کر اب تک تبدیلی کے مزے عوام لے رہے ہیں جس دن سے مملکت نے جنم لیا ہے اس دن سے لے کر اب تک یہ خوش نصیب قوم کئی قِسم کی تبدیلیوں کے مزے لے چکی ہے جن میں روٹی،کپڑا اور مکان سے لے کر قرض اتارو ملک سنوارو وغیرہ تک سب تبدیلیاں نرالی اور پرکشش تھیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بعض حضرات شریعت محمدی کے نام پر بھی عجیب عجیب کرتب دکھا چکے ہیں۔ انصاف، مساوات اور روزگار کے نام پر جتنی بے انصافی، اقربا پروری اور لوٹ کھسوٹ جو ہوئی ہے تو اس کا تو نام نہ لینا بہتر ہی ہو گا۔ یہی وجہ تھی جب جمہوریت کے نام پر بیڑا غرق ہو چکا تو بیرکوں والوں نے مزید اچھے انداز میں عوام کو ڈبو دیا۔ زیادہ نہیں بلکہ صرف ستر سال جب عوام خوب گھسیٹے گئے تو ایک کھلاڑی نے میدان میں چھلانگ لگا دیاور دعوی کیا کہ میں ایسا گھڑسوار ہوں کہ بس شہسوار ہوں اور میں ڈوبی ہوئی معیشت کو الہ دین کے چراغ  کی مدد سے باہر نکال سکتا ہوں۔ بات وہ ہے کہ نابینا اور کیا چاہتا ہے؟ صرف دو آنکھیں! اور اس نے کرتب دکھانے کے لئے  صرف چند دن کی مہلت مانگی یعنی صرف اور صرف سو دن! بلکہ پیر کے ان اندھے مقلدوں میں سے ایک مقلد نے تو صرف دوسرے دن ہی باہر جا کر باہر کے ممالک میں پڑی ہوئی دولت لے کر واپس آنا تھا اور آدھی رقم آئی ایم ایف کے منہ پر پھینکنا اور آدھی رقم ملک کے خزانے میں پھینکنا تھی جس سے وہ غربت ختم کر دیتا اور عوام کو ہوا کے گھوڑے پر سوار کر کے آسمان تک لے جاتا مگر قسمت نے ساتھ نہیں دیا اور اس محترم کو ایک بھی خالی تھیلا نہ مِل سکا جو وہ لعل و جواہر سے بھر کر غریب عوام کے خالی پیٹ میں پھینک دیتا۔ چلو آگے بڑھتے ہیں، گزری ہوئی لہریں بھول جاتے ہیں، جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اب تبدیلی کے مزے لے لیتے ہیں بلکہ تبدیلی میں تبدیلی کے مزے لیتے ہیں کیونکہ تبدیلی تو ہم دیکھتے آئے ہیں۔ اس تبدیلی میں تبدیلی کے مزوں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں، تو ہوا یہ کہ اس سے پہلے جو سیاسی مداری گزر چکے ہیں تو ان حضرات اور موجودہ حضرت میں فرق یہ ہے کہ وہ جو سبز باغ دکھاتے تھے تو وہ باغ سرے سے موجود ہی نہیں تھے، وہ جو وعدے کرتے تھے تو وہ ادھورے رِہ جاتے تھے مگر موجودہ مداری نے تو کمال کر دکھایا یعنی جو کچھ بولا کرتا تھا تو اقتدار ملتے ہی اس کے خلاف چلا گیا، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ پیچھے چلے جانے یعنی یوٹرن کو حکمت اور دانش سمجھا گیا۔ یہ واحد بندہ ہے کنٹینر پر لگائے گئے نعروں اور موجودہ طریقہ کار میں جس کے سو فی صد تضاد تو چھوٹی بات ہے بلکہ اپنے نعروں اور ایجنڈوں کے سو فیصد خلاف جا رہا ہے اور حیرانگی نہیں بلکہ دیوانگی کی بات یہ ہے کہ پیر صاحب اور ان کے مرید تمام کے تمام اپنے پیر کے جھوٹ کو سچ سے زیادہ معتبر سمجھ رہے ہیں اور پتہ نہیں کہ کس لاجک کے تحت ان کے پیروکار اپنے پیر کے جھوٹ کو سچ ثابت کر نے کے لئے ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ہاں سب سے عجیب ترین بات یہ ہے کہ ایک طرف پیر اور ان کے بیعت یافتہ گمراہ عاشقان کامیاب حکومت کے شوشے چھوڑ رہے ہیں اور لب کشاں ہیں کہ خان کا سٹائل نرالہ ہے، بعض عاشقان چھلانگیں لگا رہے ہیں کہ خان نے چور پکڑے  ہوئے ہیں اور بعض مقلدین بغلیں  بجا رہے ہیں کہ مہنگائی اور بے روزگاری ملک کے آگے طرف جانے کی واضح علامات ہیں۔ اِن تمام حرافات کے باوجود اپنی ہی حکومت میں جس میں پیر اور ان کے پیروکار اعلی کارکردگی کے دعوے  بھی کر رہے ہیں مگر دوسری طرف عوام کا سامنا کر نے کی تاب بھی نہیں رکھتے ہیں اس لئے بلدیاتی الیکشن سے مسلسل بھاگنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ پہلے تو الیکشن کے بارے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے لیکن الیکشن کمیشن سے مجبور ہونے کے بعد عدالتوں کا رخ کیا اور جب ادھر بھی دال نہیں گلی تو پھر اپنے انتخابی نشان ''بیٹ'' سے مسلسل بھاگ رہے ہیں۔ یہ تمام مناظر دیکھ کر ہم بے بس عوام تو پہلے دن سے تبدیلی دیکھتے آ رہے ہیں مگر اس دور حکومت میں ''تبدیلی میں تبدیلی'' بھی دیکھ رہے ہیں اور وہ ہے اپنے آپ سے بھاگنا یعنی وہ نشان جو سب پر بھاری تھا اور وہ  نشان جو اوپر اللہ اور نیچے بلا تھا مگر اس وقت یہ بلا ایک بلا بن چکی ہے جس سے وہ سب بھاگ رہے ہیں لہذا اس خوش قسمت یا بدقسمت قوم نے ''تبدیلی میں تبدیلی'' بھی دیکھی، اور امید رکھیں گے کہ باقی بھی مزید تبدیلیوں سے دوچار ہوتے رہیں گے کیونکہ اس مصیبت تلے ہم ایک ہیں۔