چہرے نہیں نظام کو بدلیں

چہرے نہیں نظام کو بدلیں

  تحریر: ظاہر

جمہوری نظام میں چہروں سے نہیں نظام سے تبدیلی آتی ہے اور جمہوریت کو بنایا بھی اس لئے گیا تھا کہ فرد نہیں نظام کی طاقت چلے گی مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں شخصیت پرستی ہے جو کسی زہر سے کم نہیں۔ جمہوریت کے اندر کوئی بھی قوم اس وقت تک پنپ نہیں سکتی جب تک اُس قوم اور ریاست کے ادارے مضبوط نہ ہوں لیکن ہمارے ملک میں المیہ یہ ہے کہ یہاں سیاست دان جمہوریت کی بنیادی تعریف تک کو چھو بھی نہ سکے، چھونا تو دور کی بات ہوا تک بھی نہیں لگی، جہاں ناممکن کو ممکن بنانا تھا وہاں ہمارے ہاں ممکنات کو ناممکنات میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جو نالائقی کا ثبوت اور کم فہمی کی انتہاء ہے، جو 72سال سے جاری و ساری ہے اور عوام اس کے نتائج بھگت رہے ہیں، پتا نہیں آگے کتنے بھگتیں گے، کس حد تک برداشت کریں گے؟ جو مورثیت ہے، بددیانتی ہے، بے اعتمادی ہے، نالائقی ہے، غلط سلیکشن ہے، دو نمبری ہے جس نے ہمارے نظام کو کینسر کی طرح چاٹ لیا، پتا نہیں اُمید بھی ہے، اس مرض کے ٹھیک ہونے کی، جو لاعلاج اور ناممکن ہوتا جا رہا ہے اور ہم کمزور، بے بسی اور لاچاری کی دنیا میں گم ہوتے جا رہے ہیں، جو انتہائی خطرناک اور حیران کن نتائج پیش کرے گا۔ اشرافیہ روز بروز مضبوطی کے عمل سے گزرتا ہے جو بدقسمتی سے ہماری 72 سالہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود ہم یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ کیسے اس مورثی اور کینسرزدہ نظام کا علاج کیا جائے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا، اقوام عالم کی نظروں میں گرایا، بدنما تصویر بنایا جو دیکھنے کے بھی قابل نہیں۔ وہ قومیں جو ہم سے بعد میں معرض وجود میں آئی تھیں وہ کہاں ہیں اور ہم کہاںکھڑے ہیں، اُن کی رفتار اور ہماری رفتار کا موازنہ کیا جائے تو ہم غلاموں کی طرح ان کا پیچھا کرنے والے نظر آئیں گے جو ایک ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ حسن صاحب کا یہ جملہ ''اس نظام کو تیزاب کے ساتھ غسل دیا جائے '' تاریخ کی حقیقت پر مکمل طور پر فِٹ ایک تلخ حقیقت کی طرح نظر آتا ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا بلکہ غور اور فکر کر کے کسی نتیجے پر پہنچ کر ازالہ کیا جائے جس میں ہم بھیڑیوں کی طرح رہ رہے ہیں۔ جمہوریت میں چہرے اس لئے اہم نہیں ہوتے کہ چہرے مر جاتے ہیں، نظام باقی رہتا ہے۔ کہاں گئے وہ لوگ جنہوں نے جمہوریت کو دریافت کیا تھا؟ لوگ اُن کے چہرے تو کیا ناموں کو بھی بھول گئے۔ ہم اپنی تاریخ میں اگر دیکھ لیں قائد اعظم جیسی شخصیت بھی نہیں رہی، اصول پسند ڈیمو کریٹک، کہاں ہے ذوالفقار علی بھٹو جس کے قدم روشنیوں سے تیز تھے؟ ملک معراج خالد جیسے ہانسٹ نہیں رہے اس لئے یہاں شخصیات کو نہیں نظام کو حیات حاصل ہے۔ ہمیں اس نظام کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا کر مستقبل کی لکیر بنا کر ٹریک پر لانا ہو گا جو مزید مفلوج ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ دور میں چین کے صدر جب اقتدار پر براجمان ہوئے تو ٹرانسپرنسی کی ساری رپوٹو ں کا مطالعہ کر کے عملیات کی دنیا میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کے ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ بھی داغ دیا، ترقی کی اس رفتار سے دنیا بھی حیرت زدہ ہوئی۔ افیون زدہ قوم جو نشے میں نمبر ون سے کم نہیں تھی ایک مثال کے طور پر ابھری، یہی ہوتی ہے زندہ قوموں کی تعریف! ہمارے حکمرانوں کو بھی بیسٹ ڈیمو کریٹک نظام سٹڈی کر کے ایمپلمینٹ کر نا چاہیے ورنہ آوے کا آوابگڑا رہے گا۔ اگر جاپان دس سال میں دوبارہ پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے تو کیا اسلامیہ جمہوریہ پاکستان اس قابل نہیں ہے؟ ترقی یافتہ ممالک کی شخصیات نہیں
 ادارے مضبوط او ر طاقتور ہوتے ہیں جو صدیوں کا پلان بناتے ہیں۔ امریکا کو 74 ادارے چلا رہے ہیں، پاکستان کے 170 سے زائد ادارے ہیں اور حال دیکھیں! سب اداروں کو مضبوط کرنا ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔