چشمہ رائٹ کینال پروجیکٹ !  حقائق اور قومی بے حسی 

چشمہ رائٹ کینال پروجیکٹ !  حقائق اور قومی بے حسی 

تحریر: مولانا خانزیب

اگر موجودہ آئین میں ملکی آبی وسائل کے حوالے سے  تسلیم شدہ صوبائی حقوق کی بنیاد پر پختونخوا صوبہ کو بجلی ،پانی اور صرف ،تیل وگیس ،کی  رائلٹی کی مد میں وفاق کے ذمہ 1500 ارب  روپیہ ادا کیا جائے معاہدہ آب برائے 1991ء کے تحت صوبوں کو پانی کی تقسیم کے تحت صوبوں کیساتھ انصاف کیا جائے اور ارسا کے ذریعے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے  تو 21 ویں صدی کے جدید سائنسی اصولوں کے تحت تمام پختونخوا کی ستر فیصد بنجر زمین کو اپنے سولہ دریاؤں کے پانی کی برکت سے جدید نہری نظام کے تحت  بشمول ،چشمہ رائٹ بینک کینال پروجیکٹ ، تک دو سال کے اندر اندر پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے دوسال بعد پختونخوا حقیقی مادی جنت ہوگا ہر سمت ہریالی ہی ہریالی ہوگی۔ 
عالمی سطح کے معیار کے مطابق ایک صاف ستھری گھریلو زندگی گزارنے کے لیے فی فرد کو ایک دن کے لیے 40 گیلن یا 125 لٹرز پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمارے پاس دریاؤں میں دستیاب پانی 180 ارب کیوبک میٹر ہے۔ اس کے مطابق اگر پورے پاکستان کی آبادی کو ایک صاف ستھری زندگی گزارنے کے لیے پانی فراہم کیا جائے تو اس کی مقدار 15 ارب کیوبک میٹر ہوگی اسے دو گنا بھی کرلیں تو بھی یہ مقدار 30 ارب کیوبک میٹر بنتی ہے، مطلب یہ ہوا کہ آپ کے پاس پھر بھی 150 ارب کیوبک میٹر پانی بچتا ہے اور اس میں 100 کیوبک پشتونوں کی حق ملکیت ہے۔
پختونخوا صوبہ کو اگر اس کے قدرتی وسائل کی مد میں موجودہ ملکی معاہدوں کے تحت ،گیس ،بجلی ، پانی ، اور دیگر وسائل آئینی طور پر تسلیم شدہ حقوق ملکیت دے تو بھی اس پسماندہ صوبہ کے بنیادی مسائل کے حل میں کافی حدتک کمی آسکتی ہے۔
بجلی کی سالانہ رائلٹی کی مد میں 2022 میں پختونخوا کے سالانہ حساب سے منافع 152 ارب روپیہ اور مجموعی قرضہ 800 روپیہ سے تجاوز کرگیا ہے واپڈا اس منافع کے دینے سے اب منکر ہورہا ہے۔ 
پختونخوا 1991 کے آبی وسائل کی ظالمانہ تقسیم کے تحت ملک کی مجموعی آبی پیداوار میں سات فیصد حصے کا حقدار ہے ہمارا حصہ مجموعی ملکی آبی وسائل میں 78/ 8 ملین کیوسک بنتا ہے   جبکہ ہم پاکستان کو مجموعی آبی پیداوار میں 69/80 فیصد دے رہے ہیں اس آٹھ فیصد پانی میں بھی ہمارے ساتھ نہری نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے پنجاب اور سندھ ہمارے حصے کے پانی سے  تین میلین ایکڑ پانی مفت میں  استعمال کررہے ہیں جسمیں آئین کے آرٹیکل کے تحت 1991 کے بعد سے ابتک پختونخوا کے کوئی آٹھ  سو ارب روپیہ بقایا ہیں پانی کی مد میں ایک روپیہ بھی صوبہ کو  آج تک نہیں دیا گیا ہے نہ ہی یہ مسئلہ کسی فورم پر حکمران طبقہ اٹھاتے ہیں۔
گیس وتیل کی رائلٹی کی مد میں پشتونخوا کا 190 ارب روپیہ بقایا ہے اور یہ ہرسال بڑھ رہا ہے۔
 اب بات کرتے ہیں پشتونخوا کے جنوبی اضلاع کے 85 فیصد سونا اگلتی زرعی زمین کی جو پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے بنجر پڑی ہے۔
اگر پختونخوا کے بجٹ میں نئے جدید نہری نظام کیلئے ایک روپیہ بھی نہ رکھا جائے اور قدرتی وسائل کی رائلٹی کی مد میں پختونخوا کا وفاق کے ذمے ، بجلی ،پانی ،تیل گیس ، کا 1000 ارب سے زیادہ قرض وصول کیا جائے اور اسکو ،مانسھرہ  ڈویژن، ملاکنڈ  ڈویژن، پشاور ڈویژن ،  نئے اضلاع میں صرف اور صرف نئے جدید نہری نظام اور چھوٹے چھوٹے زرعی ڈیموں پر ایک طویل المدتی منصوبہ کے ذریعہ لگایا دیا جائے تو نہ صرف یہ ،چشمہ رائٹ بینک کینال  ،کا منصوبہ دوسال میں مکمل ہوجائیگا بلکہ ہماری ستر فیصد قابلِ کاشت پڑی بنجر زمین بھی سونا اگلنا شروع کردیگی ہمارا صوبہ نہ صرف گندم میں خود کفیل ہو جائیگا بلکہ ہم برآمد کرنے کے بھی قابل ہو جائیں گے۔
چشمہ رائٹ کینال پروجیکٹ جیسے پروجیکٹ تمام جنوبی اضلاع کا حق ہے مگر چالیس سال پہلے اس پروجیکٹ کو صرف ،ٹانک ،اور ڈی آئی خان ،تک محدود کیا گیا اس پر وقتاً فوقتاً کام بھی ہوتا رہا کئی بار افتتاح بھی ہوئے پرویز خٹک کے وقت میں ،65 فیصد وفاق ،اور  ،35، صوبہ کے بجٹ سے بنانے کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل تک ہوئی مگر اونٹ ٹیڑھا ہی ٹیڑھا رہا اور آج تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا  علی امین گنڈاپور صرف سلطان راہی کی طرح ڈیرہ والوں نے بڑھکیں مارنے اور شراب کی بوتل میں شہد پینے کیلئے اسمبلی بیجھا ہے۔
چشمہ رائٹ کینال پروجیکٹ اگر بنتا ہے تو  نہر کی لمبائی کچھ 582 میل ہوگی جنوبی اضلاع کے زمینوں کیلئے جدید نہری نظام کے ذریعے  11000 کیوسک پانی درکار ہے مگر اس نہر کے ذریعے صرف تین ہزار کیوسک کی گنجائش ہوگی اس نہر سے ،چشمہ  سے لیکر ، رمک ،تک  246240 بنجر اراضی کو سیراب کیا جاسکے گا۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے اضلاع میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 86 ہزار ایکڑبنجر زمین کو قابل کاشت بنانے میں مدد ملے گی۔
آئین کے  آرٹیکل 161/2 کے تحت صوبوں کو  بجلی کے خالص منافع کا حق،آرٹیکل 182/3  کے تحت گیس کے ذخیروں  میں حق شراکت اور مساوی ملکیت کا  حق، آرٹیکل 158 کے تحت گیس میں  میں صوبہ کو پہلا حق استعمال اور ، آرٹیکل 161/1 میں خام تیل کی مد میں ایکسائز ڈیوٹی اور آئل ریفائنریز کا اس مقامی علاقے میں بنانا کے حقوق عملاً حوالہ کئے جائے تو کافی حد تک ہم خودمختاری کی طرف جائیں گے۔
اب مسئلہ کیا ہے اور حل کیا ہے ؟ چونکہ اقتصادی ترقی کو آپ سیاسی شعور سے  علیحدہ نہیں  کرسکتے ہم قومی مسائل کی نشاندھی کریںگے حل بتائیں گے عمل عوام کا کام ہے اور اس کیلئے قوم نے اپنے حقیقی قومی جرائت مند نمائندوں کو پالیسی ساز اداروں تک پہنچانا ہیں ان سیاسی رہنماؤں اور قومی جماعتوں کے پیچھے کھڑا ہونا ہے جو آپ کے حقوق کیلئے لڑتے مرتے ہیں !  نہیں تو سراب ہی سراب رہیگا۔