چلڈرن ہسپتال اہم پیشرفت، بچوں کا علاج مفت ہونا چاہیے

چلڈرن ہسپتال اہم پیشرفت، بچوں کا علاج مفت ہونا چاہیے

خیبر انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال کے قیام پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے متعلقہ حکام کو منصوبے کا پہلا مرحلہ اگلے سال جون تک مکمل کر کے اسے ہر صورت فعال بنانے کیلئے تمام ممکنہ ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تاکہ عوام بغیر کسی تاخیر کے سہولت سے مستفید ہو سکیں، دیگر ہسپتالوں پر بڑھتے بوجھ کی وجہ سے بچوں کی سہولت اور ان کے مسائل بروقت حل کرنے کیلئے حکومتی اقدامات لائق تحسین ہیں۔ منصوبے کو صوبے کے عوام کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے وزیراعلی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے اس اہم منصوبے کی تکمیل کے سلسلے میں مالی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائے گا۔ منصوبے کی تکمیل پر پیش رفت کے بارے میں اجلاس کو بتایا گیا کہ تین حصوں میں ہسپتال کو مکمل کیا جائے گا۔ ایڈمنسٹریشن، ایمرجنسی اور او پی ڈی بلاک اور پتھالوجی، سائیکوتھراپی، فارمیسی کے شعبوں کے علاوہ60  بستروں پر مشتمل وارڈز پر تعمیراتی کام کا 90 فیصد حصہ مکمل کیا جا چکا ہے جسے اگلے سال جون2022  تک فعال کر دیا جائے گا۔ یہ اس منصوبے کا پہلا حصہ قرار دیا گیا ہے، دوسرے حصے کی تکمیل کے لئے2022  ہی کے ماہ دسمبر تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے، اس منصوبے کے تحت120  بستروں پر مشتمل وارڈز، چھ آپریشن تھیٹرز، سرجیکل آئی سی یوز، کیتھ لیب اور پرائیویٹ رومز کے علاوہ ریڈیالوجی کے شعبے قائم کئے جائیں گے۔ منصوبے کا تیسرا مرحلہ جون تا ستمبر2023  مکمل کیا جائے گا جس میں نرسنگ ہاسٹل، بیچلرز ہاسٹل، ڈاکٹرز فلیٹس، ایڈیٹوریم،70  بستروں پر مشتمل وارڈز کے علاوہ پرائیویٹ رومز کی تعمیر شامل ہے۔ ان تینوں مرحلوں کی تکمیل پر مزید2.29  ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ ان اہم منصوبوں کی تکمیل کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں کو بھی اپنا کردار بھرپور انداز سے ادا کرنا ہو گا تا کہ عوام کی سہولت کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات بروقت پایہ تکمیل کو پہنچ سکیں۔ عوام کی مشکلات کے پیش نظر وزیراعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام مکمل ہوتے ہی اسے ہر لحاظ سے فعال بنانے کے لئے درکار افرادی قوت کی بھرتیوں پر ابھی سے کام شروع کیا جائے تاکہ عین موقع پر کسی قسم کی افرادی قوت کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس قسم کے حکومتی اقدامات کو سراہا جاناچاہئے جس سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے، اس اہم ہسپتال کی تعمیر سے جہاں عوام کو علاج معالجہ کی سہولت میسر ہو سکے گی وہیں اس سے روزگار کا ایک بڑا مسئلہ بھی حل کیا جا سکے گا تاہم ابھی تک یہ بات واضح نہیں کی جا سکی ہے کہ اس میں علاج معالجہ کی سہولت مفت فراہم کی جائے گی یا اس کیلئے بھی دیگر ہسپتالوں کا طرز عمل اختیار کیا جائے گا۔ امید تو اس بات کی ہے کہ یہاں بھی صحت کارڈ پر سہولت فراہم ہو گی۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مناسب غذا کی عدم موجودگی کے باعث غریب طبقہ میں بچوں کی بیماریوں کی کثرت ہوتی ہے اور ان کو مفت معالجہ کی سہولت نعمت غیرمترقبہ سے کم نہ ہو گی، حکومت کو چاہیے کہ عوام کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے جلد از جلد ہسپتال کی تعمیر ممکن بنائے اور اس میں بچوں سے متعلق تمام بیماریوں کا بھرپور انتظام کیا جائے جو عوام کا دیرینہ مسئلہ بھی ہے۔