ماحولیاتی تبدیلی، ہم اور ہماری سیاسی جماعتیں

ماحولیاتی تبدیلی، ہم اور ہماری سیاسی جماعتیں

   نوربادشاہ یوسفزئی

دنیا بھر میں صنعتی انقلاب کے بعد انسانون نے ماحول اور فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی بڑی مقدار چھوڑ دی ہے جس نے زمین کی آب و ہوا کو بری طرح سے متاثر کر دیا ہے، بڑھتی ہوئی گرمی، زلزلے، طوفان، پانی کی کمی، سطح سمندر میں اضافہ یا پھر کہیں کسی آتش فشاں کا پھٹنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق95%  انسانی سرگرمیاں آب و ہوا کی تبدیلی اور گرمی کی اہم وجہ رہی ہیں۔
گرین ہاؤس گیسز کیا ہیں؟
امریکہ کی ایجنسی برائے تحفظ ماحولیات کے مطابق کوئی بھی گیس جو تابکاری کو جذب اور خارج کرتی ہے وہ ''گرین ہاؤس گیس'' کہلاتی ہے۔ آبی بخارات، میتھین، اوزون، نائٹرس آکسائیڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سبھی کی درجہ بندی گرین ہاؤس گیسوں کے طور پر کی جاتی ہے۔ تاہم، تمام گرین ہاؤس گیسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ سب سے زیادہ پائی جاتی ہے جو کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل پر بحث کرتے وقت اس کی کثرت سے سامنے آنے کی ایک وجہ ہے۔2019  میں امریکہ کی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ تمام گرین ہاؤس گیسوں کا 81 فیصد بنتی ہے۔

 

کاربن ڈائی آکسائیڈ: 

رپورٹ کے مطابق انسانی سرگرمیاں اس وقت فضا میں ہر سال30  بلین ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتی ہیں۔ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تعداد میں40  فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، صنعتی دور سے لے کر تقریباً 280 حصے فی ملین(ppm)  صدی سے414  پی پی ایم2020.8  تک اضافہ ہو گیا ہے۔

 

میتھین: 

انسانی سرگرمیوں نے20 ویں صدی کے بیشتر حصے کے دوران میتھین کے ارتکاز کو صنعتی سطح سے پہلے کی سطح سے2.5  گنا سے زیادہ بڑھایا، 18ویں صدی میں تقریباً722  حصے فی بلین(ppb)  سے2019  میں1,867 ppb  ہو گیا۔
نائٹرس آکسائیڈ: 
صنعتی انقلاب کے آغاز کے بعد سے نائٹرس آکسائیڈ کی مقدار میں تقریباً20  فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں 20ویں صدی کے آخر تک نسبتاً تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ نائٹرس آکسائیڈ کی مقدار2019  میں270  پی پی بی11  کی پری صنعتی سطح سے بڑھ کر 332 پی پی بی ہو گئی ہے۔



سائنس دانوں کے مطابق95%  انسانی سرگرمیاں آب و ہوا کی تبدیلی اور گرمی کی اہم وجہ رہی ہیں




تحقیق کے مطابق گرین ہاؤس گیسیں شدید ماحولیاتی اور صحت کے مسائل پیدا کرتی ہیں۔ یہ گرمی کو فضا میں پھانس کر موسمیاتی تبدیلی کا سبب بنتی ہیں جس کے نتیجے میں پہلے سے خشک موسم میں مختلف انواع متاثر ہوتی ہیں۔ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی بھی انتہائی موسم، جنگل کی آگ، خشک سالی، ہریالی، زراعت اور خوراک کی فراہمی میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ اگر ہمارا سیارہ موجودہ شرح سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج جاری رکھتا ہے تو موسم کے مخصوص نمونے بدل جائیں گے اور بعض جانوروں کی نسلیں ختم ہو جائیں گی۔ گرین ہاؤس گیسیں فضائی آلودگی اور سموگ میں بھی حصہ ڈالتی ہیں جو سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

 

انسپائر کلین انرجی نامی تنظیم کے مطابق زراعت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک اور حامی ہے۔ فصلوں کی کاشت اور جانوروں کی پرورش سے کئی قسم کی گرین ہاؤس گیسیں ہوا میں خارج ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر مویشیوں کے ریوڑ جب گیس سے گزرتے ہیں تو میتھین پیدا کرتے ہیں، اور یہ میتھین کاربن ڈائی آکسائیڈ سے  گنا زیادہ طاقتور ہے۔ کسانوں کی طرف سے استعمال ہونے والی فصل کی کھادوں میں نائٹرس آکسائیڈ ہوتی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ سے تقریباً تین سو گنا زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض تنظیموں کی جانب سے سرخ گوشت، دودھ کی مصنوعات کو کم کرنا پر زور دیا جاتا ہے۔

 

جنگلات کی کٹائی اس وقت ہوتی ہے جب درختوں کو زراعت یا چرنے کا راستہ بنانے کے لیے کاٹا جاتا ہے یا لکڑی کو ایندھن، مینوفیکچرنگ اور تعمیرات کے لیے استعمال کرنے کے لیے کاٹ دیا جاتا ہے۔ جنگلات میں ایسے درخت ہوتے ہیں جو قدرتی طور پر ہمارے ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکال کر ذخیرہ کرتے ہیں۔ ان درختوں کو کاٹنے کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ تیزی سے جمع ہوتی ہے کیونکہ اسے جذب کرنے کے لیے کہیں درخت نہیں ہیں۔ جب ہم انہیں جلاتے ہیں تو درخت اس کاربن کو بھی چھوڑ دیتے ہیں جو وہ ذخیرہ کر رہے تھے، اس لیے نقصان اور بھی شدید ہوتا ہے۔



رپورٹ کے مطابق انسانی سرگرمیاں اس وقت فضا میں ہر سال30  بلین ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتی ہیں۔ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تعداد میں40  فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے



ماحولیاتی تبدیلی دنیا بھر کی معیشت، تجارت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ بے روزگاری اور نقل مکانی بڑھ رہی ہے۔ خشک سالی، سطح سمندر میں اضافہ اور قدرتی آفات دنیا کے مستقبل کیلئے ایک سوالیہ نشان بن گئی ہیں، اور اس ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ غریب ممالک متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ غریب ممالک کے پاس اس سے نمٹنے کیلئے کوئی خاص پروگرام نہیں ہے۔ اور سب سے اہم بات عوام میں آگاہی اور شعور پھیلانا ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں شعور اور آگاہی کے نام پر عالمی اداروں سے فنڈنگ وصول کرنے والے سرکاری او غیرسرکاری تنظیموں کی کارکردگی صرف اور صرف فوٹو سیشن یا سوشل میڈیا میں چند پیج اور بلاگ تک محدود ہے، عملی طور پر میدان میں کچھ کام نہیں ہو رہا ہے۔
افریقن ماہر اقتصادیات بیسٹ بریکر کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے سب سے واضح نتائج میں سے ایک سمندر کی سطح میں اضافہ ہے۔ جیسے جیسے عالمی اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے، گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا میں قطبی برف کے ڈھکن، قطبی خطوں میں سمندری برف اور دنیا کے اونچائی والے حصوں میں گلیشیئرز اور برف پگھل رہی ہے، جس کی وجہ سے سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اور عنصر یہ ہے کہ گرم پانی کا حجم ٹھنڈے پانی سے زیادہ ہوتا ہے۔ صدی کے آخر تک سطح سمندر میں اضافے کا تخمینہ60  سے220  سینٹی میٹر تک ہے، اس بات پر منحصر ہے کہ انسانیتCO2  کے اخراج کو کم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو گی۔ پہلی نظر میں یہ اضافہ اب بھی محدود لگتا ہے لیکن اس کے بڑے نتائج ہیں۔ امریکی ریسرچ گروپ کلائمیٹ سنٹرل کے حساب سے2050  تک اوسطاً سال میں ایک بار سیلاب آنے کا خطرہ ہے جس سے  کم از کم300  ملین لوگوں کے مسکن متاثر ہوں گے۔ صدی کے آخر میں200  ملین لوگوں کا مسکن مستقل طور پر سطح سمندر سے نیچے ہو گا، اس کا انحصار ساحلی دفاع کی تعمیر یا آبادی کی نقل مکانی پر ہے۔ تقریباً110  ملین میں سے بہت سے لوگ جو پہلے ہی سطح سمندر سے نیچے والے علاقوں میں رہتے ہیں، حکام کو انہیں بھی محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔

 

سطح سمندر میں اضافے سے لاحق خطرہ ایشیائ، بحرالکاہل اور کیریبین میں خاص طور پر متعلقہ ہے۔ یقیناً اس کا تعلق ساحلی علاقوں کی بلندی سے ہے، لیکن ساحلی کمک کی اونچائی اور معیار بھی موجود ہے۔ مشین لرننگ تکنیکوں کے ساتھ ایک نام نہاد ڈیجیٹل ایلیویشن ماڈل کا استعمال کرتے ہوئے تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ چین، بنگلہ دیش، بھارت، ویت نام، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے ساحلی علاقے مل کر مذکورہ300  ملین افراد میں سے تقریباً75  فیصد ہیں جن کی رہائش30  سال کے اندر خطرے سے دوچار ہے۔

 


یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا، یونیورسٹی آف ایکسیٹر اور گلوبل کاربن پروجیکٹ کے محققین کے نئے اندازوں کے مطابق عالمیCOVID-19  لاک ڈاؤنوں کی وجہ سے جیواشمCO2  کے اخراج میں2020  کے دوران اندازتاً2.4  بلین ٹن کی کمی واقع ہوئی جو ماحولیاتی تبدیلی کی اس ڈراؤنی صورتحال میں کم از کم ایک اچھی خبر ہے۔ 

 

جس طرح پوری دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کا سامنا ہے اسی طرح پاکستان بھی اس کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہے۔ ہم نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا، بلوچستان میں اس بارے میں ایک آن لائن سروے کیا ہے، لوگوں کو شدید گرمی، پانی کی قلت، بارشوں کی کمی اور طوفانوں کا سامنا ہے اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں، اور ماحولیاتی تبدیلی کی یہ تشویشناک صورتحال کسی بھی عالمی تنظیم کی توجہ کا مرکز نہیں ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔

 

ہماری آن لائن سروے میں سوات گلی باغ سے ذاکر خان کا کہنا تھا کہ ہمارا گاؤں دریائے سوات سے تھوڑے فاصلے پر ہے مگر زندگی میں پہلی بار گھر کے کنویں میں پانی کم پڑ رہا ہے، رواں سال گندم، پیاز ، پھل بھی پہلے جیسے نہیں اگائے گئے ہیں، دریائے سوات میں پانی کم پڑ گیا ہے، اور کھیتوں کیلئے وافر مقدار میں پانی نہیں ہے۔ 

 

دیر سے فرہاد خان کا کہنا تھا کہ علاقے میں پانی کی شدید کمی، بارشیں نہ ہونے کے برابر ہے، رواں سال گندم کی فصل انتہائی کمزور حالت میں تیار ہوئی، جنگلات بھی کاٹے گئے ہیں اور اہلیان علاقہ کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اس حوالے سے کسی کو پرواہ نہیں۔

 

شانگلہ جیسی سرسبز وادی کے خورشید اقبال اور فرحت عباس کا بھی یہی شکایت رہی کہ علاقے میں پچھلے سالوں کے مقابلے میں گرمی بڑھ رہی ہے، خشک سالی کا سامنا ہے اور پہاڑوں پر پہلے کی نسبت برف کم پڑ رہی ہے اور مستقبل میں علاقے میں پانی کم پڑ سکتا ہے۔
مراد علی خان کے مطابق ضلع چارسدہ، تنگی، ہریچند، مندنی اور عمرزئی کو ماحولیاتی تبدیلی نے ہلا کر رکھ دیا ہے، علاقے میں شدید گرمی اور خشک سالی ہے جو پچھلے سالوں کی بہ نسبت زیادہ ہے، علاقے میں ہر طرف گندگی کی بھرمار ہے، کسی کو ماحول کی پرواہ نہیں۔

 

بونیر سلارزئی سو افسر افغان، زاہد بونیری اور دیگر کا کہنا تھا کہ علاقے میں پانی کی انتہائی کمی، ہر دسواں درخت سوکھ رہا ہے، ماربل کارخانے، کیمیکل، کانوں میں بلاسٹنگ (بارود) کی وجہ سے پوری علاقے میں پانی کے چشمے تقریباً ختم ہو گئے ہیں، جنگلات کی کٹائی جاری ہے اور سب سے زیادہ خطرناک بات، کانوں میں بارود کی بلاسٹگ کی وجہ سے علاقے میں شوگر، بلڈ پریشر، کینسر اور دیگر خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں مگر حکومت کی جانب سے اس تشویشناک صورتحال میں کوئی خاطر خواہ ایکشن نہیں لیا جا رہا ہے۔
اس آن لائن سروے میں باجوڑ، صوابی، مردان، بونیر، ملاکنڈ، پیشاور، بنوں، کرک، لکی مروت، زرمک، وزیرستان سمیت پختونخوا کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے اپنے علاقے کے مسائل بیان کئے، سب کا ماننا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے پختونخوا بری طرح سے متاثر ہے اور آئندہ سالوں میں مزید خشک سالی، قحط کا امکان ہے۔

 

الف ارمان کے نام سے ایک سوشل میڈیا اکٹیوسٹ نے اس سروے میں سب سے خطرناک بات یہ بتائی کہ بلوچستان حکومت نے ضلع لورالائی میں پانی کی کمی کی وجہ سے گزشتہ چار روز سے ایمرجنسی لگا رکھی ہے۔ پانی کی کمی وجہ سے باغات کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ اسی طرح قلعہ سیف اللہ، زیارت، سنجاوی، دکی اور کوئٹہ بھی پانی کی قلت، بارشوں کی کمی اور شدید گرمی کا شکار ہیں۔

 

پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی، ماحولیاتی تبدیلی اس وقت کسی بھی سیاسی پارٹی کی سیاست کا محور نہیں، ٹیلویژن، ریڈیو، اخبار میں ہر طرف سیاسی حریفوں کے خلاف بیانات، الزامات اور ٹاک شوز، پیار محبت کے ڈرامے وغیرہ ہی ملک کا سب کچھ ہے، کسی کو ماحول کی خطرناک حد تہ تبدیلی کا کوئی احساس نہیں اور نہ ہی ماحولیاتی تبدیلی کو کسی سیاسی پارٹی نے اپنی پارٹی کی ترجیحات میں شامل کیا ہے، جو کہ افسوسناک ہے۔ یورپ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں کئی سیاسی پارٹیز ''ماحول'' کے نام پر سیاست کر رہی ہے کہ کس طرح گرین ہاؤس گیس، آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے قدرتی آفات پر قابو پایا جا سکے۔ اگر پاکستان میں بھی کوئی سیاسی پارٹی اس کو اپنی ترجیحات اور پالیسی کا حصہ بنائے تو مستقبل میں بیرونی ممالک کی ماحول دوست سیاسی پارٹیوں سے مل کر اس بارے میں کافی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں جن میں بیرونی ممالک کی سیاسی پارٹیوں کے مالی امداد کے زریعے اپنے علاقوں میں درخت لگانا، مائننگز میں بلاسٹنگ، کارخانوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسز، نکاسی آب اور آلودگی کے خلاف مل کر کام کرنا شامل ہیں۔ جو کہ آنے والی نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے نہایت ہی ضروری ہے۔

 

موجودہ صورتحال میں عوامی نیشنل پارٹی ماحولیاتی تبدیلی میں سنجیدہ کردار ادا کر سکتی ہے اگر پارٹی مرکزی، صوبائی، ضلعی اور یونین کونسل کی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے مہم کا آغاز کرے، پمفلٹ، پوسٹر، کتابچے، جلسے، اجلاس میں ماحول کے حوالے سے موضوع اور آگاہی کو شامل کیا جائے جس سے بیک وقت ہزاروں، لاکھوں لوگوں کو پیغام پہنچ سکتا ہے۔ اور یہی ایک پارٹی ہے جو وطن، مٹی کے نام پر سیاست کرتی آ رہی ہے، اب اس مٹی کا یہ بھی حق بنتا ہے کہ آنے والے سالوں میں یہاں پانی کی قلت، زراعت کے شعبہ، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل کو بچانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

 

حکومت کو اساتذہ، طلبا، کالج تنظیموں، ریڈیو اور ٹیلویژن پروگرام کے زریعے ملک بھر ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے مہم چلانے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں ایک ایسے محکمے کے قیام کی ضرورت ہے جو شہروں، یونین کونسل اور گاؤں کی سطح پر کچرا اٹھانے کیلئے گاربیج سسٹم، گاڑیوں کا انتظام کریں، پلاسٹک کیلئے راستوں اور بازاروں میں بڑے بڑے ڈسٹ بین لگائیں تاکہ پلاسٹک پھیلانے میں کم از کم کمی تو آ جائے کیونکہ پلاسٹک زمیں کیلئے زہر ہے، او زرعی زمینوں پر فصل کو شدید متاثر کرتا ہے، ایسے ایک محکمے کے قیام سے آلودگی سے بچاؤ کافی حد تک ممکن ہے، اور یہ ایک ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ عوام کو صاف ستھرا اور ایک صحت مند ماحول فراہم کرے۔

 

خدانخواستہ اگر ہم ماحولیاتی تبدیلی کو سنجیدہ نہیں لے رہے یا اس کو قسمت کا کھیل سمجھ رہے ہیں تو آئندہ چند سالوں میں ہم پر کسی معاشی پابندی یا دشمن کے حملے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم خود گرمی، بھوک، خشک سالی، پانی کی قحط کا سامنا کریں گے ، اور یہی سب وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے انسان ہزاروں سال سے نقل مکانی کر رہے ہیں، مگر اس بار انسان نقل مکانی کہاں کریں گے؟ کیونکہ پوری دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی کا سامنا ہے، لیکن فائدے میں وہ ہیں جو کم از کم صورتحال پر قابو پانے کیلئے کچھ اقدامات کریں۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہر جنگلات، پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر صدیقی کے مطابق ہم پھر بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو جذب کرنے کیلئے اپنے ماحول میں درخت لگا سکتے ہیں، خیبر پختونخوا میں شیشم، دیودار، پاپولر، کیکر، ملبری، چنار اور پائن ٹری لگائے جائیں، کیونکہ یہ درخت خیبر پختونخوا کے ماحول اور آب و ہوا کے حساب سے موزوں ہیں۔ اگر کوئی سکول کالج یا پارک میں درخت لگا رہا ہے تو درخت ایک قطار میں لگے گیں اور ان کے درمیان کا فاصلہ دس سے پندرہ فٹ ہونا چاہیے۔ گھر میں لگاتے وقت دیوار سے دور لگائیں۔ آپ بنا مالی کے بھی درخت لگا سکتے ہیں۔ نرسری سے پودا لائیں، زمین میں ڈیڑھ فٹ گہرا گڑھا کھودیں۔ نرسری سے بھل (آرگینک ریت مٹی سے بنی) لائیں اور گڑھے میں ڈالیں، پودا اگر کمزور ہے تو اس کے ساتھ ایک چھڑی باندھ دیں۔ پودا ہمیشہ صبح یا شام کے وقت لگائیں، دوپہر میں نہ لگائیں اس سے پودا سوکھ جاتا ہے۔ پودا لگانے کے بعد اس کو پانی دیں۔ گڑھا گہرا کھودیں تاکہ وہ پانی سے بھر جائے۔ گرمیوں میں ایک دن چھوڑ کر جبکہ سردیوں میں ہفتے میں دو بار پانی دیتے جائیں۔

 

پودے کے گرد کوئی جڑی بوٹی نظر آئے تو اس کو کھرپے سے نکال دیں۔ اگر پودا مرجھانے لگے تو گھر کی بنی ہوئی کھاد یا یوریا فاسفورس والی کھاد اس میں ڈالیں لیکن بہت زیادہ نہیں ڈالنی چاہیے۔ زیادہ کھاد سے بھی پودا سڑ سکتا ہے۔ بہت سے درخت جلد بڑے ہو جاتے ہیں، کچھ بہت وقت لیتے ہیں۔ سفیدہ، پاپولر، سنبل اور شیشم جلدی بڑے ہو جاتے ہیں جبکہ دیودار اور دیگر پہاڑی درخت دیر سے بڑے ہوتے ہیں۔ گھروں میں کوشش کریں شہتوت، جامن، سہانجنا، املتاس، بکائن یا نیم لگائیں۔