کالم کہانی (تیسری قسط)

کالم کہانی (تیسری قسط)

تحریر: ڈاکٹر ہمایوں ھما

ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ستر ہزار جانوں کی قربانی دی، وہ پھر بھی ہم سے خوش نہیں۔ آگے جاکر میں نے لکھا امریکی صدر کے خطاب کے بعد امریکی ذرائع ابلاغ کے اداروں نے زور و شور سے پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ شروع کیا، ان میں ڈیوہ ریڈیو سب سے آگے ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس پروپیگنڈے کو پھیلانے میں ملوث ریڈیو سے متعلق وہ اہلکار پیش پیش ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق ہمارے ہی صوبے سے ہے اور وہاں سیاسی پناہ لے کر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ امریکہ میں سیاسی پناہ اور گرین کارڈ کی خاطر یہ لوگ مادر وطن کے خلاف دوسروں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ یہ حضرات پاکستان میں موجود اور بیرون ملک دشمن عناصر، نام نہاد دانشوروں اور مبصرین کو پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے لیے ریڈیو پر بلا تے اور ان سے ملک دشمنی پر مبنی رپورٹ اور تبصرہ کرواتے ہیں۔ میں نے آج تک ڈیوہ ریڈیو کے جتنے پروگرام سنے ہیں ان میں ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرنے اور صوبہ پختون خواہ اور بلوچستان کو افغانستان کا حصہ تسلیم کرنے کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ یہ اہلکار بلوچ تخریب کاروں کی حمایت میں مسلسل پروپیگنڈا اور رپورٹس نشر کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں سندھ اور بلوچستان کی علیحدگی پسند قوتوں کی حمایت میں تبصرے نشر کرتے رہتے ہیں۔ میرا مذکورہ کالم اخبار مالکان کو نہایت ناگوار گزرا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ مشرق مالکان اپنے چینل پر ڈیوہ ریڈیو کے پروگرام بھاری معاوضے کے عوض نشر کرتے ہیں۔ میرا کالم اخبار مالکان کے تجارتی مفادات کے منافی تھا اور میرے کالم سے ان کے معاشی اور تجارتی مفادات کو نقصان پہنچا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ ڈیوہ ریڈیو کے نمائندے مقیم اسلام آباد نے مشرق کے مالک کے ساتھ ملاقات کی تھی اور ان سے شکایت کی تھی کہ مذکورہ کالم سے ان کی پالیسیوں کو شدید دھچکا لگا تھا۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈاکٹر ہما نے یہ کالم ڈیوہ ریڈیو کو بلیک میل کرنے کے لئے لکھا ہے۔ اگلے روز نامہ مشرق کے ادارتی صفحے کے انچارج عزیز چترالی نے فون پر مجھے بتایا کہ اخبار کے مالک تمہارے کالم پر سخت برانگیختہ ہیں۔ میں نے جواب میں کہا کہ میرا کالم تو بعد میں چھپا اس سے پہلے تو اس موضوع پر آپ کے اخبار میں پورا اداریہ شائع ہو چکا ہے، مجھے تو آپ کے اداریے سے شہ ملی تھی۔ عزیز نے کہا کہ وہ بھی تو میں نے آپ کے مشورے سے لکھا تھا، مطلب یہ کہ اداریے  کا محرک بہرحال میں ہی ٹھہرا۔ میں نے اسے بتایا کہ اگر میرا کالم اخبار  کی پالیسیوں کے خلاف تھا تو سینسر کرنا آپ ہی کی ذمہ داری تھی، آپ اسے روکتے اور نہ چھاپتے، اب جب چھپ چکا ہے تو اس کے دفاع کی ذمہ داری بھی اخبار ہی کی بنتی ہے۔ مجھ پر بلیک میلنگ کی تہمت سراسر زیادتی تھی۔ اب جب کہ میں عمر کی ستر سے زیادہ بہاریں دیکھ چکا ہوں اور تقریباً ساٹھ سال تک ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لئے لکھتا رہا ہوں، نیز ڈیوہ ریڈیو کا انچارج نفیس ٹکر میرا شاگرد بھی تھا، اس کے علاوہ ریڈیو کے دیگر اہلکاروں میں بھی کچھ میرے شاگرد رہ چکے ہیں اور میرے مزاج سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ میں نے زندگی میں کبھی بھی شہرت پانے کی خواہش نہیں کی اور نہ اب اس پیرانہ سالی میں میری کوئی خواہش اور آرزو ہو سکتی ہے۔ رہی بات بلیک میلنگ کی تو اس  کے بارے میں وضاحت کرتا چلوں کہ پانچ سال پہلے ایک معاہدے کے تحت میں نے ڈیوہ ریڈیو کے لیے منشیات کے خلاف ریڈیائی ڈرامے لکھنا شروع کیے تھے۔ ڈراموں کا دورانیہ پانچ سے سات منٹ کا ہوا کرتا تھا۔ ان ڈراموں میں اصلاح کا ایک پیغام ہوا کرتا تھا۔ ان کی ریکارڈنگ میں پشاور کے ایک پرائیویٹ سٹوڈیو میں کراتا۔ جوہر شاہ جو پرائیویٹ چینلز کے لیے کام کرتے ہیں، ان کے ذریعے میں صدا کاروں سے رابطہ کرتا اور ڈرامے تیار کرتا۔ ان صدا کاروں میں نوران شاہ طوفان، پروفیسر قاضی خامس، زاہدہ تنہا، شازمہ حلیم وغیرہ میرے لکھے ہوئے ڈراموں میں کام کیا کرتے تھے۔ جب کبھی کوئی مرد صداکار غیر حاضر ہوتا تو جوہر شاہ اس کی جگہ مجھ سے کام لیتا۔ نفیس ٹکر جب  میری آواز سنتا تو فون کر کے مجھ سے کہتا ''سر ہم نے آپ کو آخر صداکار بنا ہی دیا۔'' میرے لکھے ہوئے ڈرامے بڑی کامیابی کے ساتھ براڈکاسٹ ہوتے رہے، فیڈبیک بھی ملتا رہا، ریڈیو انتظامیہ بھی خوش اور ہم بھی خوش! یہ ایک سال کا کنٹریکٹ تھا، معاوضہ بھی پابندی سے ملتا رہا اور ہر مہینے باقاعدگی کے ساتھ میرے اکاونٹ میں جمع ہوتا رہا۔ بدگمانی تب سے شروع ہوئی جب مجھے آخری دو مہینے کا معاوضہ نہ ملا۔ میں نے نفیس ٹکر  سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے جواب میں کہا ''سوری سر ہمارے پاس اس کام کے لیے مختص فنڈز ختم ہو چکا تھا، ہمیں معلوم نہ تھا اور ڈرامے نشر ہوتے رہے۔'' بعد میں دو تین بار میں نے فون پر بھی یاد دہانی کرائی مگر مجھے ادائیگی نہیں کی گئی۔ اس طرح اپنا حق مانگنے کی پاداش میں مجھ پر بلیک میلنگ کا لیبل چسپاں کیا گیا۔ اس بارے میں، میں نے ریڈیو کے ایک ذمہ دار افسر سے فون پر بات کی اور بتایا کہ میرے پاس آپ سے کیے گئے ایگریمنٹ کی نقل موجود ہے، اگر آپ مقررہ وقت سے پہلے معاہدہ ختم کرنا چاہیں گے تو معاہدے کی رو سے آپ کو تین مہینے کا معاوضہ ادا کرنا ہو گا اور اگر میں معاہدہ ختم کرنا چاہوں تو معاہدے کے تحت مجھے پہلے سے آپ کو اطلاع دینا ہوگی، اب اگر آپ میری رقم کی ادائیگی نہیں کرتے تو میرا حق بنتا ہے کہ میں آپ لوگوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں۔ اس آفیسر نے میری منت سماجت کی اور کہا کہ سر ایسا نہ کیجئے گا ہماری ملازمت خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس ذمہ دار اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ریڈیو کے مائیک پر ہم سانس لینے اور صرف کھانسنے کا معاوضہ بھی ضرور دیتے ہیں۔ باوجود اس اصول پسندی کے میرے ڈرامے مسلسل دو مہینے تک بلامعاوضہ نشر ہوتے رہے اور مجھے جان بوجھ کر معاوضہ سے محروم رکھا گیا اور ادائیگی کیلئے اصرار کرنے پر مجھ پر بلیک میلنگ کا ٹھپہ لگا دیا گیا۔ یوں ڈیوہ ریڈیو والے میری کافی بڑی رقم ہڑپ کر گئے۔ (جاری ہے)