کامریڈ کاکا جی صنوبر حسین مومند: سامراج مخالف جدوجہد کا استعارہ

کامریڈ کاکا جی صنوبر حسین مومند: سامراج مخالف جدوجہد کا استعارہ

تحریر: مشتاق علی شان 

3 جنوری کامریڈ کاکا جی صنوبر حسین مومند کا 59واں یومِ وفات ہے۔ کاکا جی کے نام سے معروف کامریڈ صنوبر حسین نہ صرف پختونخوا بلکہ پورے برصغیر میں محنت کار انسانوں کے طبقاتی مبارزے اور سامراج مخالف جدوجہد کا ایک ایسا استعارہ ہے جسے اس ملک کے محنت کش عوام اور مظلوموں سے چھپانے کی، اس کی یاد کے نقوش مٹانے کی اور اس کی جہدِ مسلسل کو فراموش کیے جانے کی شعوری کوششیں جاری ہیں۔ وہ ایک ایسے سیاسی کارکن اور مساعی پسند تھے جن کا شمار پشتو ادب کی ترقی پسند تحریک کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے جہاں طبقاتی وقومی جدوجہد کے میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دیے وہاں نہ صرف خود کو پشتو زبان کے ممتاز ترقی پسند شاعر، ادیب، نقاد وصحافی کے طور پر بھی منوایا بلکہ مقصدیت کے حامل لکھاریوں کی ایک پوری کھیپ کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کیا۔

 

جنوری 1897 میں پشاور کے قریب  کگہ ولہ نامی ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے صنوبر حسین نے پشاور سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر معلمی کے پیشے سے وابستہ ہو گئے۔ برطانوی استعمار کے قبضے تلے سسکتے بلکتے برصغیر کے عوام کی جہدِ آزادی نے انہیں جلد ہی اپنی جانب متوجہ کر لیا جس میں انہوں نے قلم اور بندوق، دونوں سے حصہ لیا۔ 1924 میں کامریڈ کاکا جی نے  زمیندارہ انجمن  کے نام سے دیہات سدھار کے مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک تنظیم بنائی اور اگلے سال پشاور میں اپنے ساتھیوں عبدالرحمن ریا اور عبدالعزیز خوش باش کے ساتھ مل کر  نوجوانانِ سرحد کے نام سے ایک سیاسی تنظیم کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں برصغیر کی آزادی کے عظیم انقلابی شہید کامریڈ بھگت سنگھ، کامریڈ سکھ دیو اور کامریڈ بی کے دت کی قائم کردہ ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن  کے فرنٹ نوجوان بھارت سبھا کے نام سے کام کرنے لگی۔ یہی نوجوان بھارت سبھا  کامریڈ کاکا جی صنوبر حسین کا پہلا مستند سیاسی حوالہ ہے۔ دسمبر 1929 کو لاہور میں اسی نوجوان بھارت سبھا اور کیرتی پارٹی کے سالانہ اجلاس میں اپنی دھواں دھار تقریر سے عوام کے دل موہ لینے والے کاکاجی اپریل 1930 میں قصہ خوانی بازار کے قتلِ عام کے بعد انگریز سرکار کے ہاتھوں پہلی بارگرفتار ہوئے۔ اس وقت وہ نوجوان بھارت سبھا کے جنرل سیکرٹری تھے۔

 

اس حوالے سے حنیف خلیل لکھتے ہیں کہ 1930 کے دوران انگریز حکومت کے خلاف برصغیر کے مختلف علاقوں میں آزادی کی تحریکیں زوروں پر تھیں، پشتونوں کے قبائلی علاقوں میں بھی، وزیرستان میں فقیر ایپی (مرزا علی خان) اور وادی پشاور میں حاجی صاحب ترنگزئی، حاجی محمد امین، خان عبدالغفار خان اور کاکا جی صنوبر حسین نمایاں حریت پسند رہنماؤں میں شامل تھے۔ اسی سال قصہ خوانی پشاور کا خونی واقعہ رونما ہوا جو برصغیر کی سیاسی تاریخ کا ایک انمٹ باب ہے۔ جب 23 اپریل 1930 کو انگریز سامراج نے پشتون رہنماؤں کے ایک بڑے جلسے پر گولیاں چلائی تھیں اور کئی لوگوں کو خون میں نہلایا اور کئی کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا گیا۔ کاکا جی صنوبر حسین ان دنوں نوجوان بھارت سبھا کے عمومی سیکرٹری اور مولانا عبدالرحیم پوپلزئی صدر تھے۔ گرفتاری کے بعد کاکا جی صنوبر حسین کو قلعہ بالاحصار میں رکھا گیا ۔ اپنی گرفتاری سے قبل کاکا جی نے انقلابی نظریات کی تشہیر کے لیے  سرفروش  کے نام سے ایک ہفت روزہ جاری کیا تھا جس کی ڈیکلریشن ضبط کر لی گئی ۔چھ ماہ قید کاٹنے کے بعد جب وہ رہا ہوئے تو پشاور سے اردو زبان میں نوجوان بھارت سبھا کا اردو، پشتو اور فارسی ترجمان اخبار  سیلاب کا اجرا کیا ۔ کاکا جی کی ادارت میں نکلنے والے اس اخبار کے ابھی تین پرچے ہی نکلے تھے کہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔



کاکا جی کے نام سے معروف کامریڈ صنوبر حسین نہ صرف پختونخوا بلکہ پورے برصغیر میں محنت کار انسانوں کے طبقاتی مبارزے اور سامراج مخالف جدوجہد کا ایک ایسا استعارہ ہے جسے اس ملک کے محنت کش عوام اور مظلوموں سے چھپانے کی، اس کی یاد کے نقوش مٹانے کی اور اس کی جہدِ مسلسل کو فراموش کیے جانے کی شعوری کوششیں جاری ہیں
 



یہ 1931کا سال تھا جب وہ گرفتار ی سے بچنے اور برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے لیے برطانوی راج سے باہر علاقہ غیر چلے گئے اور آزادی کے ایک اور عظیم رہنما حاجی صاحب ترنگزئی کے ہمراہ برطانوی سامراج کے خلاف لڑنے لگے۔ اس جدوجہد کے دوران انہوں نے قبائلی علاقے سے شعلہ کے نام سے ایک پرچے کا اجرا  کیا جس کے متعلق کاکا جی نے لکھا کہ ''جیل سے رہائی ملی تو ہمیں قبائلی علاقے میں جلاوطنی کی مدت گزارنی پڑی۔ ایک دو سال نہیں پورے اٹھارہ سال۔ یہاں ہم نے قبائلیوں کی ترجمانی کے لیے ایک پرچہ شعلہ نکالا لیکن دشواری وہی تھی بلکہ اس سے بھی زیاد تھی نہ ایڈیٹر تھا نہ کاتب اور نہ پریس۔ ایڈیٹر تو میں تھا ہی، کاتب و پریس مین بھی بننا پڑا، میں پرچہ مرتب کرتا، اس کی کتابت کرتا، پھر ہینڈ پریس پر خود ہی چھاپتا۔ قبائلی عوام میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا جذبہ بیدار کرنے اور انہیں جوش دلانے کے لیے مجھے نظمیں بھی لکھنی پڑتیں جو اس پرچے میں شایع ہوتیں تھیں۔''
برطانوی راج کا سورج غروب ہونے کے بعد کامریڈ کاکا جی صنوبر حسین پشاور واپس آ گئے اور یہاں سے اپنے ایک دیرینہ ہمدم اور انگریزی استعمار کے ساتھ ایک مسلح جھڑپ میں شہید ہونے والے تحریکِ آزادی کے مجاہد صاحبزادہ محمد اسلم کی یاد میں ''اسلم'' کے نام سے پشتو زبان میں ایک خالص ادبی مجلے کا اجرا کیا جسے پشتو صحافت میں ایک سنگِ میل تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسلم کے سولہ شمارے ہی نکل سکے تھے۔ اس کا آخری شمارہ اکتوبر 1952 میں جاری ہوا کیوں کہ انگریزوں کے ہاتھوں حوالہ  زنداں اور جلاوطن ہونے والے کامریڈ کاکا جی پاکستان کے سامراج نواز حکمرانوں سے بھی قید و بند کی سزا کے مستحق ٹھہرے تھے۔ خود کاکا جی کی وفات کے بعد ان کی یاد میں ان کے نظریاتی ساتھی اور  مزدور کسان پارٹی کے بانی کامریڈ افضل بنگش نے پشاور سے ''صنوبر'' کے نام سے ایک ہفتہ وار مجلہ پشتو اور اردو زبان میں جاری کیا تھا۔

 

کامریڈبھگت سنگھ کی طرح کامریڈ کاکا جی بھی گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد میں یقین نہیں رکھتے تھے جس کے پختونخوا میں خان عبدالغفار خان((باچا خان) داعی تھے۔ مارچ 1930 میں اسلامیہ کالج پشاور کے طلبا سے اپنے خطاب کے دوران باچا خان نے کہا تھا کہ یہ وطن ہمارا ہے لیکن انگریز سامراج اس پر غاصب ہو گیا ہے، انگریز کو چاہیے کہ وہ ہمارا وطن چھوڑ کر واپس چلا جائے اور ہمیں سکھ کا سانس لینے کا موقع دے۔ اس موقع پر کاکا جی نے باچا خان کی تقریر کے بعد طلبا سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ باچا خان کا موقف یہاں تک تو درست ہے کہ انگریز ظالم ہیں اور ان کو یہ وطن چھوڑنا چاہیے لیکن باچا خان نے یہ نہیں کہا کہ انگریز کے جانے کے بعد اس سرمایہ دار طبقے کا کیا علاج ہو گا جو ظالم کی پشت پناہی کرتا اور مظلوم و مفلس عوام کا خون چوستا ہے، ہمیں ہر ظالم کے خلاف مسلح ہو کر لڑنا ہو گا خواہ وہ انگریز ہو یا انگریزوں کا پروردہ سرمایہ دار طبقہ۔

 

گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ (پشتون) گاندھی کے نامراد فلسفہ عدم تشدد کے ایسے مرید ہوئے کہ ہاتھ پیر ہلانے سے بھی گئے اور انگریز ہر قسم کا جبر و ستم من مانے طریقے سے کرتے۔ سب پشتون گاندھی کے مرید نہیں تھے ۔غریب طبقہ ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لیے تیار تھا مگر اس وقت ان کی قیادت خوانین کر رہے تھے۔ اور خان کبھی خنجر یا بندوق سے نہیں مرے اس لیے کہ یہ بہت چالاک ہوتے ہیں، مالدار ہوتے ہیں خود کو بچاتے ہیں اور دوسروں کو سامنے کرتے ہیں۔ کاکا جی کا یہ کہنا کہ سب پشتون نہ تو گاندھی کے مرید تھے اور نہ ہی ان کے فلسفہ عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں بالکل درست تھا جس کی تائید تاریخی شواہد سے بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی شہادت کا انتقام لینے کے لیے ایک انگریز کو قتل کرنے کی پہلی کارروائی پشاور کے ایک انقلابی نوجوان عبدالرشید نے کی تھی جس کی پاداش میں اسے پھانسی کی سزا ہوئی۔ ڈیرہ اسماعیل خان کا ایک انقلابی نوجوان پریتم خان بھی اسی پھانسی سے متاثر ہو کر زینتِ دار بنا تھا جس کا بدلہ لینے کے لیے دو گورے سپاہیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح مردان کے غلہ ڈھیر کے باسی شہید ہری کشن کو اگر پختونخوا کا بھگت سنگھ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔



کاکا جی ایک ایسے سیاسی کارکن اور مساعی پسند تھے جن کا شمار پشتو ادب کی ترقی پسند تحریک کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے جہاں طبقاتی وقومی جدوجہد کے میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دیے وہاں نہ صرف خود کو پشتو زبان کے ممتاز ترقی پسند شاعر، ادیب، نقاد وصحافی کے طور پر بھی منوایا بلکہ مقصدیت کے حامل لکھاریوں کی ایک پوری کھیپ کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کیا



ہندوستان سوشلسٹ ری پبلکن آرمی کے اس سرباز کا خاندان مردان کے کسانوں کی تحریک جو غلہ ڈھیر تحریک کے نام سے مشہور ہوئی، شروع کرنے میں پیش پیش تھا۔ سامراج صرف بندوق کی زبان ہی سمجھتا ہے  کے قائل ہری کشن نے 23 دسمبر 1930 کو پنجاب کے گورنر سر جیفری پر گولیاں برسائی تھیں، اس کارروائی میں گورنر بچ گیا تھا البتہ ایک انگریز عورت زخمی اور ان کا ایک دیسی کارندہ تھانے دار چنن سنگھ مارا گیا تھا۔ اس انقلابی کارروائی کی پاداش میں ہری کشن نے 9 جون 1931 کو میانوالی جیل میں پھانسی کی سزا پائی تھی۔ اس کا چھوٹا بھائی بھگت رام تلواڑ بھی جنگِ آزادی کے متوالوں میں سے تھا اور اس کے کاکاجی سے قریبی مراسم تھے۔ کاکا جی کے انتہائی عزیز ساتھی صاحبزادہ محمد اسلم انگریزوں کے ساتھ ایک معرکے میں گولی کا نشانہ بنے جنہیں زخمی حالت میں علاج کے لیے کاکا جی افغانستان لے گئے لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور 26 جنوری 1934 کو وطن کی آزادی کے خواب آنکھوں میں لیے اس جہاں سے رخصت ہوئے۔

 

اس زمانے میں سامراجی تشدد کے جواب میں انقلابی تشدد کے حوالے سے پشاور کے ایک اور مزاحمتی کردار رام سرن نگینہ کا ایک پوسٹر لال جھنڈا  ملاحظہ کیجیے جو پشاور کے چوک یادگار میں چپکے سے لگایا گیا تھا اور اس نے گورے حاکموں کی صفوں میں زلزال بپا کر دیا تھا: لال جھنڈا سرحد کے لوگوں کا ترجمان ہے، سرحد کے لوگ چاہتے ہیں کہ انگریزوں کو جلد از جلد ہندوستان سے نکال دیا جاوے۔ آزادی لینے کا طریقہ صرف عدم تشدد ہی نہیں ہو سکتا بلکہ تشدد کا ہونا بھی ضروری ہے۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ جس سرکار نے بے گناہ نوجوانوں کو پھانسی پر لٹکا دیا، گولیوں کا شکار بنا دیا، اس کے آگے ہاتھ جوڑنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ سرحد کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ تمام کام کاج چھوڑ کر حکومت کے خلاف بغاوت کا پرچم اٹھائیں، خفیہ پوسٹر شایع کریں، بم بنائیں، ڈاکے ماریں، مفروروں کو پناہ دیں، باغی اڈے قائم کریں، خفیہ پریس تیار کریں۔ یہ پریس کھر یا مٹی اور گلیسرین سے بنایا جا سکتا ہے۔ انقلابیوں کو چاہیے کہ وہ خفیہ پوسٹر سرکار کے ہر بڑے ادارے میں پہنچائیں۔ انقلاب زندہ باد۔

 

گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد سے اختلاف اور برصغیر کی آزادی کی مسلح انقلابی تحریکوں سے گہری وابستگی کے باوجود کاکاجی تشدد کو بہرصورت کوئی اٹل یا حرفِ آخر اصول نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ بجا طور پر مخصوص حالات میں سیاسی جدوجہد اور حکمتِ عملی کا سوال تھا۔ وہ انقلابی نظریات کی روشنی میں اس حقیقت کو پا گئے تھے کہ انقلابی قوتوں کو جدوجہد کی ہر صورت مسلح و پرامن پر قادر ہونا چاہیے اور پھر اپنے معروض کے مطابق ان پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مصروفِ جہد ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے 1951 کے عام انتخابات میں حصہ لیا جس میں انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ان کا مقابل علاقے کا ایک بڑا لینڈ لارڈ ارباب نور محمد خان تھا جس نے انتخابات میں انہیں ہرانے کے لیے  کمیونسٹ، سور کافر (سرخ کافر) جیسے پروپیگنڈوں سے لے کر ہر ایک حربہ آزمایا تھا۔ طبقات میں منقسم دنیا اور استحصالی طبقات کے مکروہ مفادات اور اسے خوش نما پردوں میں ملفوف پیش کرنے والے طبقاتی دشمنوں کے کردار پر وارد کامریڈ کاکاجی صنوبر حسین اپنی ایک نظم میں محنت کار عوام کو طبقاتی شناخت کا درس یوں دیتے ہیں:
میرے ادیب بھائی!
یہ ایک الگ طبقہ ہے 
یہ ایک الگ مدرسہ ہے 
تمہاری آرزو الگ ہے 
ان کا نشہ الگ ہے 
ہمارا اپنا کعبہ ہے 
ان کا کعبہ الگ ہے
ان کا مذہب حکومت کرنا
ان کا مذہب سلطنت ہے
وہ اعلی حضرت کہلاتے ہیں 
وہ عالی نسب کہلاتے ہیں
کیا ہوا اگر انہوں نے
اپنا نام مسلمان رکھا ہے 
یا پٹھان اور افغان رکھا ہے

 

کامریڈ کاکا جی سرمایہ دار طبقے کو ایسی جوئیں قرار دیتے تھے جو ہمیشہ دوسروں کے خون پر پلتی تھیں اور ان کے بقول پشتون پیدائشی سوشلسٹ ہے۔ یہ ہر کام شراکت سے کرتا ہے۔ یہ اپنے دشمن کو بھی کمزور نہیں دیکھنا چاہتا۔ پشتون کا حجرہ ہزاروں سال سے انسان دوستی کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ یہ تو مسجد میں بھی جاتا ہے تو اس کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ گلی، محلے، گاؤں کے حالات سے آگاہ ہو سکے۔
کاکا جی نوجوان بھارت سبھا، کیرتی پارٹی کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے بھی وابستہ رہے اور ان کے برصغیر سے لے کر افغانستان اور سوویت یونین تک کے انقلابیوں اور سامراج مخالف مزاحمت کاروں سے پرجوش تعلقات تھے جن میں کامریڈ اسٹالن اور دیگر بالشویک رہنماؤں کے علاوہ افغانستان کے عظیم سامراج مخالف رہنما امان اللہ خان بھی شامل تھے۔ ہندوستان کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والے بنگال کے عظیم انقلابی رہنما اور  آزاد ہند فوج کے بانی جناب سبھاش چندر بوس (نیتا جی) پر جب برصغیر کی دھرتی تنگ کر دی گئی اور انہوں نے افغانستان ہجرت کا فیصلہ کیا توان کی مدد کرنے والے پشتون حریت پسندوں میں نوشہرہ کے عباد خان، مردان کے بھگت رام تلواڑ کے علاوہ کاکا جی صنوبر حسین نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس کا تذکرہ بعد ازاں بھگت رام تلواڑ نے انگریزی زبان میں لکھی اپنی کتاب "The Talwars of pathan land Subhas chandra's great escape" اور تحریکِ آزادی کے ایک اور کردار چرن سنگھ نے اپنی گورمکھی میں لکھی کتاب ''وہ بھی دن سن'' (وہ بھی دن تھے) میں کیا۔

 

کاکا جی صنوبر حسین ایک عظیم سامراج مخالف مبارز تھے جن کی جدوجہد روز روشن کی طرح عیاں ہے لیکن وہ ایک شیطان کو شکست دینے کے لیے دوسرے شیطان کی مدد پر بالکل یقین نہیں رکھتے تھے اور اسے بھٹی سے نکل کر تندور میں گرنے کے مترادف قرار دیتے تھے۔ اس حوالے سے حنیف خلیل اپنی کتاب ''کاکا جی صنوبر: شخصیت اور فن'' میں لکھتے ہیں کہ چونکہ کاکا جی صنوبر حسین کمیونسٹ پارٹی، کرتی پارٹی، نوجوان بھارت سبھا اور دیگر مزدور کسان پارٹیوں سے منسلک تھے اور انگریز سامراج کے شدید مخالف تھے اس لیے جرمنی اور جاپان اپنے مقصد کے لیے برصغیر میں کاکا جی کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کی بھی یہی کوشش رہی۔ جب کہ پشتو زبان کے ممتاز ترقی پسند شاعر، ادیب اور دانشور قلندر مومند کے بقول موجودہ دور میں آج تک میں نے اتنا دیانتدار سیاست دان نہیں دیکھا۔ ہٹلر سے ایک بڑی غلطی ہوئی تھی، اس کا خیال تھا چونکہ کاکا جی انگریزوں کے سخت مخالف تھے، اس کو اپنا ہمنوا بنا لوں گا مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ ہزاروں لاکھوں پونڈ جو وہ کاکا جی کو بھیجتے، کاکا جی وہ رقم انڈیا کی کمیونسٹ پارٹی کو بھجوا دیتے۔

 

اگست 1947 کے داغ داغ اجالے کی شب گزیدہ سحر کے بعد کاکا جی پشاور لوٹ آئے۔ گو تاجِ برطانیہ کے سپوت رخصت ہو چکے تھے لیکن وہ اپنے ایسے جانشین یہاں چھوڑ گئے جن کے نزدیک قومی و طبقاتی جبر کے خلاف اور جمہور و جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنا اور آواز بلند کرنا شجرِ ممنوعہ تھا اور ہے۔ اس زمانے میں کاکا جی سیاست کے ساتھ ساتھ پشتو زبان و ادب اور صحافت کی ترقی و ترویج کے لیے ایک بار پھر مصروفِ جہد ہو گئے۔ وہ ان دنوں تقسیم سے قبل وجود میں آئی ادبی تنظیم ''ادبی ٹولہ پشاور'' سے بھی منسلک رہے جسں میں مختلف الخیال وطن پرست، سامراج مخالف،ت رقی پسند اور انقلابی ادبا شامل تھے۔ اس ادبی تنظیم کے متعلق اس زمانے میں خفیہ پولیس کی 11 اگست 1950 کی یہ رپورٹ ملاحظہ کیجیے:
''جہاں تک ادبی ٹولہ کا مطالعہ ہوا ان میٹنگوں میں سوائے شعر و شاعری اور اس کے اردو انگریزی ترجمہ کے اور کچھ نہ ہوتا۔ اس پارٹی نے کبھی بھی پاکستان کی فلاح و بہبود پر کوئی روشنی نہیں ڈالی نہ ہی اس کی کارگزاریوں پر کوئی تبصرہ کیا اور نہ ہی انھوں نے کبھی دشمن ملک کے پروپیگنڈا کا کوئی منہ توڑ جواب دیا نہ ان کے برخلاف کسی قسم کا ریزولوشن پاس کیا۔ میرے خیال میں ان کے سامنے پاکستان کا ہونا یا نہ ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اس ٹولہ میں اکثر ایسے لوگ شامل ہیں مثلاً نصر اللہ نصر، حکیم محمد اسلم سنجری، دوست محمد کامل، ولی محمد طوفان، میر مہدی شاہ، فارغ بخاری، صنوبر حسین مالک رسالہ اسلم، فضل حق شیدا وغیرہ جن کا پاکستان سے کوئی مفاد وابستہ نہیں اور صرف دھوکا دے کر ضرورت کے وقت اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں ہمیشہ پاکستان کے خلاف ہیں یا پاکستان دشمن ملک کے ایجنٹوں سے ناطہ رکھا ہے۔ اس لیے اس ٹولہ پر کسی وقت بھی کوئی اعتبار کرنا درست ثابت نہ ہو گا۔

 

اسپیشل برانچ کی اس رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ملک کے وجود آتے ہی یہاں مقتدرہ قوتوں نے ہر حقیقی وطن دوست، جمہوری اور انقلابی مخالف آواز یا اس کا امکان لیے قوتوں کے خلاف جبر کے موسم میں اس غیرجمہوری، آمرانہ خصائل کے حامل پودے کے بیج بوئے جوجو آج ستر سال بعد ایک قدآور درخت میں تبدیل ہو کر پورے ملک پر سایہ فگن ہے اور اس کی جڑیں دور دور تک پیوست ہیں۔ آج بھی یہاں جو قومی، طبقاتی، جمہوری اور عوام کے حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو غدار اور ایجنٹ ہونے کے سرٹیفیکٹ جاری کیے جاتے ہیں یہ جبر کے اسی چلن سے یادگار اور اس کا تسلسل ہے۔ کاکا جی 1948 میں پشاور میں فارغ بخاری کی کوششوں سے انجمن ترقی پسند مصفین  کی تنظیم سازی میں معاونت اور بعد ازاں سرپرستی کرتے رہے۔ جب نام نہاد راولپنڈی سازش کیس کو بنیاد بناتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان اور اس کی تنظیموں پر پابندی لگی اس وقت پختونخوا میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے صدر کاکا جی صنوبر حسین اور جنرل سیکرٹری فارغ بخاری تھے اور یہ اسی حیثیت سے گرفتار کیے گئے۔ ترقی پسند تحریک سے کاکا جی کی وابستگی اور خدمات کے حوالے سے پشتو زبان کے ممتاز ترقی پسند شاعر ، ادیب اور دانشور جناب سلیم راز لکھتے ہیں کہ ''برصغیر جنوبی ایشیاء کی آزادی کی تحریک کے ایک نامور رہبر اور پشتو زبان کے ایک بڑے ادیب اور دانشور کاکا جی صنوبر حسین مومند سرحد کی انجمن ترقی پسند مصنفین کے صدر رہ چکے ہیں اور پشتو زبان کے سارے بڑے اور معروف ادبا، شعرا نے کاکا جی کی قیادت میں ترقی پسند ادبی تحریک کے ذریعے ظلم و جبر، استحصال، آمریت، سامراجیت، جہالت، توہم پرستی اور غربت کے خلاف عوام میں شعور پیدا کیا اور انہیں اپنے حقوق کا احساس دلایا۔''

 

آزاد وطن کے حکمران طبقات اور مقتدرہ قوتوں کے لیے نہ تو کاکا جی کی سیاسی و ادبی نظریات و جدوجہد قابل قبول تھی اور نہ ہی ان کی صحافتی سرگرمیاں۔ یہی وجہ تھی کہ1952  میں وہ گرفتار ہوئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں قید کے دوران بظاہر ایک ذہنی مریض قیدی نے ان پر حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا اور وہ کوئی مہینہ بھر اسپتال میں زیر علاج رہے لیکن اس حملے کے اصل محرکات کبھی سامنے نہ آ سکے کہ یہ واقعی ایک ذہنی طور پر معذور قیدی کا مجنونانہ فعل تھا یا کاکا جی صنوبر حسین کی جیل میں جان لینے کی باقاعدہ سازش تھی؟ اکتوبر 1958 میں ملک پر پہلا مارشل لا ایوب خان کی فوجی آمریت کی شکل میں مسلط ہوا جس کے نتیجے میں کاکا جی بھی گرفتار ہوئے۔ انہوں نے کچھ عرصہ راولپنڈی کی جیل میں گزارا پھر لاہور کے شاہی قلعہ منتقل کر دیے گئے۔ وہی شاہی قلعہ جہاں گورے سامراجیوں نے کبھی کامریڈ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں سمیت آزادی کے کئی ایک پروانوں کو قید اور سولیوں کی نذر کیا تھا۔ انگریز بہرحال کاکاجی کو جس شاہی قلعے کے عقوبت خانے تک کھینچ لانے میں ناکام و نامراد رہے یہ کام جنرل ایوب خان بخوبی کر گیا۔ بعد ازاں اسی ایوب خان کے آمرانہ دور میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے رہنما اور کاکاجی کے فکرو فلسفے کے داعی کامریڈ حسن ناصر کو بدترین تشدد کرتے ہوئے اسی شاہی قلعہ میں شہید کیا گیا۔کاکاجی 1959 میں رہا کر دیے گئے اس وقت تک ان کے دمے کا مرض اور دل کی تکلیف کافی بڑھ چکی تھی اور ان کی صحت تباہ ہو چکی تھی۔

 

1953 میں اولسی ادبی جرگہ (عوامی ادبی جرگہ) کے نام سے پشتو زبان وادب میں ترقی پسند ادیبوں کی تنظیم کاکا جی کا ایک بڑا کارنامہ تھا۔ یہ تنظیم دراصل انجمن ترقی پسند مصفین کا تسلسل تھی جس سے حمزہ شنواری، دوست محمد کامل، ولی محمد طوفان، اجمل خٹک، سیف الرحمن سلیم، فارغ بخاری، رضا ہمدانی، ہمیش خلیل، قلندر مومند، خاطر غزنوی، ایوب صابر اور افضل بنگش سمیت پشتو ادب و سیاست کے کئی ایک بڑے نام وابستہ تھے۔ ادب کے حوالے سے کاکاجی کے کردار کو سلیم راز یوں بیان کرتے ہیں کہ ''کاکا جی نے ادبی میدان میں ایک بڑا انقلابی کردار ادا کیا اور انہوں نے پہلی بار پشتو شعر و ادب میں شعوری طور پر ترقی پسندی کو سائنسی بنیادوں پر داخل کیا۔ یہ آج جو پشتو ادب میں جدید اور ترقی پسند رحجانات موجود ہیں یہ کاکاجی کی شعوری کوششوں کی برکات ہیں۔ یہ آج جو پشتو ادب میں انقلاب اور ترقی پسندی کے نام پر بڑے بڑے نام نظر آتے ہیں ان کی ذہنی پرداخت اور تربیت میں کاکا جی کا ہاتھ ہے۔ آج اگر پشتو زبان میں تنقیدی اور سماجی شعور سے بھرا ادب موجود ہے تو اس کی بنیاد کاکا جی نے رکھی ہے۔''
مارکس، اینگلز، لینن اور اسٹالن کی تعلیمات سے ذہن منور رکھنے والے کاکا جی پشتو زبان کے علاوہ اردو، فارسی، عربی اور انگریزی زبان میں مہارت رکھتے تھے۔ ادب برائے زندگی اور فن میں مقصدیت کے قائل نے فرانس کی حقیقت نگاری سے لے کر برطانیہ کی رومانوی تحریک اور پھر روس کے انقلابی ادبا کی تحریروں کا بخوبی مطالعہ کر رکھا تھا اور اسی سے طبقاتی جدوجہد اور سماجی نابرابری کے خاتمے کا وجدان پایا تھا۔ ادب میں مقصدیت اور حقیقت نگاری کے علم بردار کاکا جی کے الفاظ میں  ''داخلی شاعری کا زمانہ لد چکا ہے۔ یہ شعوری دور ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ خالص ادب کے مدعی بھی ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ادب میں صرف نعرے بازی کا میں بھی مخالف ہوں لیکن فن پر ادیب یا شاعر کی گرفت مضبوط ہو تو وہ آفاقی ادب پیدا کر سکتا ہے۔''

 

کاکا جی کی ادبی خدمات کی طویل فہرست میں 13غیرمطبوعہ کتابیں بھی شامل ہیں جن میں ان کے مقالات، شعری مجموعے، پشتو ادبیات کی تاریخ، حضرت ابو ذر غفاری کی سوانح، شاہ ولی اللہ کی عمرانیات و معاشیات کے علاوہ رباعیاتِ عمر خیام کا پشتو ترجمہ، ابنِ بطوطہ کے سفرنامے اور فتنتہ الکبری کے پشتو ترجمے کے علاوہ کئی ایک مضامین و انشایئے شامل ہیں۔ کاکا جی اس خطے کی وہ انقلابی شخصیت ہیں جنہوں نے برصغیر کی آزادی کی تحریک اور خطے میں کمیونسٹ تحریک اور ادب کے محاذ پر ترقی پسند فکر کی ترویج میں لازوال کردار ادا کیا۔ بدقسمتی سے یہ خطہ ان کا جتنا مقروض ہے اس کی ادائیگی کی مقدور بھر کوشش بھی نہیں کی گئی۔ پاکستان کے سرمایہ دار، جاگیر دار اور مذہبی رجعت پسند حکمرانوں سے تو خیر شکوہ بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن کاکاجی کے چاہنے والے، ان سے رشتہ  فکر و نظر استوار رکھنے والے ان کی تصانیف کی اشاعت کی جانب بھی توجہ نہ دے سکے۔ 
خوش آئند بات یہ ہے کہ پشتون قوم پرست لکھاری حیات روغانے کی کاوشوں سے دبئی کے پشتون ادبا کی تنظیم ''د اماراتو پختو ادبی ٹولنہ مرکز دوبئی'' نے 2016 میں پشاور سے مقالے کے نام سے کاکا جی کے مقالات کا پہلا حصہ شایع کیا ہے۔ اس کتاب میں فیصل فاران ''د کاکا جی صنوبر دا مقالے'' (کاکاجی کے یہ مقالے) کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ ''نہایت تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ قلندر مومند اور محترم سلیم راز تک بزرگ ان (کاکا جی) کی فکر کے دعویدار اور شخصیت کے مقلدین سمجھے جاتے ہیں، کیونکر ان کی موجودگی میں ان کی غیرمطبوعہ تصانیف ایک طویل عرصے سے ایسے ہی رکھی ہوئی تھیں اور آج اگر اس کی اشاعت ہو رہی ہے تو وہ بھی ایک قوم پرست لکھاری حیات روغانے کی کوششوں اور دلچسپی کے سبب ہو رہی ہے جو نہ بیورو کریٹ ہے نہ پروفیسر ہے اور نہ ترقی پسند مصنفین کے ساتھ کوئی عملی تعلق رکھتا ہے۔''

 

فیصل فاران کا یہ شکوہ بجا ہے بلکہ ہم تو اس بات کو بھی کاکا جی کی فکر کے برعکس بلکہ اس سے انحراف سمجھتے ہیں کہ ان کے نام اور یاد سے موسوم ادبی سرگرمیوں، سیمینارز وغیرہ میں جمعہ خان صوفی ایسی بددیانت اور اتہام بازی کے لیے مشہور شخصیات کو اسٹیج پر بٹھایا جائے یا انھیں ایوارڈ سے نوازا جائے جس نے تحریکِ آزادی کے ایک قابل قدر رہنما عبدالغفار خان اوربلوچستان کے قومی رہنماؤں سے لے کر سوشلسٹ افغانستان کی قیادت تک کو اپنے تعصب اور شاید عائد کیے گئے فریضے کی تکمیل کے لیے ''فریبِ ناتمام'' جیسا الزمات پر مبنی جھوٹ کا پلندہ تحریر کر کے نظریاتی انحراف، بے شرمی اور احسان فراموشی کی ساری حدیں پار کیں۔ لیکن یہاں ترقی پسند دانشور اور محقق پائند خان خروٹی بھی اپنے مقالے  برصغیر کی طبقاتی جدوجہد کا فراموش کردار  میں ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں جس سے صرفِ نظر محال ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ''نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی سابقہ حکومت کے دور میں باچا خان کو تو سرکاری نصاب میں شامل کیا جو ایک خوش آئند عمل ہے جبکہ باچا خان مرکز کے تعاون سے قومی ہیروز کے نام سے شائع ہونے والی کتاب میں مسلم لیگی رہنماؤں تک کو شامل کیا گیا لیکن کاکا جی کو اس قومی ہیروز کی فہرست سے خارج کیا گیا۔ اس کے علاوہ پشاور، کابل، کوئٹہ اور قندھار وغیرہ کی اکیڈمیوں اور ادبی حلقوں نے آج تک کاکا جی کی شخصیت، خدمات، کا رناموں اور قربانیوں پر قومی سطح پر کسی سیمینار کا انعقاد بھی نہیں کیا گیا۔
آج جب قومی اور طبقاتی جبر نے بدترین صورت اختیار کر لی ہے، جمہور اور جمہوریت کو نشانِ عبرت بنا دیا گیا ہے، خطے میں سامراجی یلغار نت نئی شکلوں میں جاری ہے، مذہبی انتہاپسندی کا عفریت خون آشام تو خیر ہمیشہ سے تھا، لیکن اب اس نے اپنے ایسے ایسے موئید پیدا کر لیے ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے ماضی قریب کی جنونیت بچوں کا کھیل معلوم ہوتی ہے، شعرا، ادبا دانشوروں نے ان مسائل پر لکھنا اور بولنا تو ایک طرف رضا کارانہ طور پر سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے اور صحافت پابندِ سلاسل ہے، ایسے میں کامریڈ کاکا جی صنوبر حسین مومند کے انقلابی افکار اور کردار مزاحمت کاروں کو روشن راستے دکھاتے ہیں کہ 
مفلس و نادار محنت کشوں کے 
مقدس پسینے کی قسم 
مظلوموں کی آہ وفریاد کی قسم
بیوہ بہنوں کی 
سسکیوں کی قسم
پیمانہ  صبر لبریز ہو چکا 
حق بات کہے بغیر نہیں رہ سکتا