ضلع خیبر: باڑہ میں دہشت گردی سے تباہ شدہ50  سکولوں پر تعمیراتی کام بند

ضلع خیبر: باڑہ میں دہشت گردی سے تباہ شدہ50  سکولوں پر تعمیراتی کام بند

   اسلام گل آفریدی 

صفی اللہ ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے گورنمنٹ ہائی سکول اخوان تالاب میں دسویں جماعت کے دیگر پندرہ ساتھیوں کے ساتھ سکول کی عمارت کے بجائے جانوروں کے ایک ہسپتال کی چاردیواری کے اندر ایک خیمے میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ شدید گرمی میں بغیر پنکھے کے خیمے کے اندر پڑھائی ممکن نہیں لیکن مجبوری کی بنا پر سکول میں زیر تعلیم بچے کپڑے کے ایک پردے کے نیچے یا کھلے آسمان تلے اپنی پڑھائی میں مصروف ہیں۔

 

ان طلبہ کا کہنا ہے کہ پینے کے لئے صاف پانی دستیاب نہیں جبکہ قریب نہر سے پینے کے لئے پانی لاتے ہیں، بارش ہوتی ہے تو خیمے سے پانی ٹپکتا ہے جبکہ تیز ہواؤں کی وجہ سے خیمے گر جاتے ہیں جس کے بعد استاتذہ اور بچے پورا دن خیمے دوبارہ نصب کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے اسکول میں چند مہینے پہلے تعمیراتی کام شروع کیا گیا تھا لیکن اب وہ بھی بند ہو گیا ہے۔

 


اس سکول میں سات سو بچے زیر تعلیم ہیں لیکن علاقے میں بدامنی کی وجہ سے سکول کی عمارت کو 2012 میں بارودی مواد سے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔ تین سال پہلے ایک امدادی ادارے کی مدد سے عارضی طور پرفائبر شیٹ سے چھ کمرے تعمیر کرائے گئے لیکن رواں سال مارچ کے مہینے میں مسلسل کئی دن تیز ہواؤں کی وجہ سے چھ میں سے چار کمرے مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ دو کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

 

باڑہ ان علاقوں میں شمارکیا جاتاہے جہاں پر دہشت گردی کی وجہ سے بڑا نقصان ہوا ہے۔ محکمہ تعلیم خیبر کے مطابق بدامنی کے دوران ضلع بھر میں 75 سکول مکمل طور پر تباہ کئے گئے تھے جبکہ کئی سکولوں کو جزوی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ محکمہ کے حکام کے مطابق طویل انتظار کے بعد 49 سکولوں کی چائنہ کے امدادی تعاون سے تعمیر کے لئے باقاعدہ ٹینڈر جاری ہوا اور کام کے معیار کی نگر انی کی ذمہ داریاں نسپاک کے حوالے کی گئیں۔ ادارے کے مطابق یو ایس ایڈ کی مدد سے بارہ سکول تعمیر کرائے گئے ہیں۔ 

 

روزنامہ شھباز کے ساتھ اس حوالے سے خصوصی گفتگو میں خیبر کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ 50 سکولوں کی تعمیر کے لئے 2 ارب 30 کروڑ کے کا تخمینہ لگایا گیا جبکہ رواں سال جون تک صرف 13 کروڑ روپے کا فنڈ جاری کیا گیا ہے جو حکومت نے دیگر ترقیاتی منصوبوں کے فنڈ سے کاٹ کر جاری کیا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ اب تک چائنہ کے فنڈ سے رقم جاری نہیں کی گئی جبکہ فنڈ کی عدم دستیابی کی بنا پر کئی مہینوں سے سکولوں پر تعمیراتی کام مکمل بند کر دیا گیا ہے۔ معلومات کے مطابق ضم اضلاع میں جاری دیگر منصوبوں سے مزید چھ کروڑ روپے منتقل کر دیئے گئے ہیں اور جلد کچھ حد تک دوبارہ تعمیراتی کام شروع ہونے کا امکان ہے۔

 

محکمہ تعلیم کے اعداد شمار کے مطابق فوج کے زیر نگرانی دیگر ترقیاتی منصوبوں سمیت باڑہ میں فیز فور میں13  سکول تعمیر کرائے گئے اور مزید پر کام جاری ہے۔ معلومات کے مطابق مذکورہ سکول کے لئے فنڈ سالانہ ترقیاتی فنڈ سے جاری کیا جاتاہے۔ سیکورٹی اداروں کے زیر نگرانی تمام تعمیراتی منصوبوں کے لئے ایڈوانس میں فنڈ جاری کیا جاتا ہے، بعد میں بغیر ٹینڈرکے اپنی مرضی کے ٹھیکیدار کو ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہیں جبکہ کسی بھی سرکاری ادارے کی طرف سے معیار پر نظر رکھنے کا کوئی طریقہ کار موجودہ نہیں اور دو سال کا منصوبہ چھ مہینے میں ختم کر دیا جاتا ہے۔

 

روزنامہ شھباز کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت میں ممبر قومی اسمبلی اقبال آفرید ی نے بتایا کہ باڑہ میں دہشت گردی کی وجہ سے بڑی تعداد میں تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچا ہے لیکن ان کی دوبارہ تعمیر میں بڑے مسائل کا سامنا ہے، بچے گرمی اور سردی میں بغیر چھت کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بچیاں تعلیم کے حصول سے محروم رہ جاتی ہیں۔ انہوں نے چائنہ کے فنڈ سے تعمیر ہونے والے سکولوں پر کام کی بند ش کے حوالے سے کہا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے نوٹس میں کئی بار یہ معاملہ لایا گیا ہے لیکن اس میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ ان کے بقول جلد قومی اسمبلی کے فلور پر یہ مسئلہ اٹھائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم عمران کے ساتھ اس حوالے بات کریں گے کیونکہ تعلیم ہر ایک بچے کا بنیادی حق ہے۔

 

چین کے فنڈ سے تعمیر ہونے والے تعلیمی اداروں کی نگرانی کی ذمہ داری نسپاک کے حوالے کی گئی ہے اور مذکورہ فنڈ سے بڑی رقم ادارے کو ادا کی جاتی ہے۔ ٹھیکیداروں کا موقف رہا ہے کہ اگر متعلقہ ادارے پہلے سے موجود ہیں تو نسپاک کو کیوں درمیان میں لایا جا رہا ہے جو کام میں روکاٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے اعلی اہلکاروں اور سکول تعمیر کرنے والے ٹھیکیداروں کے درمیان گزشتہ دنوں ایک نشست ہوئی جس میں ادارے کی طرف سے بتایا گیا کہ مستقبل قریب میں جاری منصوبے کے لئے فنڈز کی دستیابی کی کوئی امید نہیں۔