کورونا کے ڈپریشن زدہ ماحول کا دماغی صحت پر اثر

کورونا کے ڈپریشن زدہ ماحول کا دماغی صحت پر اثر

تحریر: ڈاکٹر جمشید نظر

کورونا وباء کے باعث موت کا خوف، گھروں میں خود کو بند کر دینا، کاروبار اور ملازمتیں ختم ہونا، تعلیم کا سلسلہ رک جانا، حیرت انگیز طور پر دنیا بھر میں لاک ڈاون، پروازیں بند، ٹرین و ہر قسم کی ٹریفک بند جیسے ماحول نے ہر شخص، بچے، بوڑھے، خواتین کو ذہنی مریض بنا کر رکھ دیا تھا اسی لئے عالمی ادارہ صحت کو اب یہ بھی تشویش ہے کہ دماغی امراض میں مبتلا افراد کی  تعداد پہلے سے کئی گنا مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ اگرچہ کورونا کی ویکسین نے زندگی کو معمول پر لانے کی جدوجہد شروع کر دی ہے لیکن ابھی بھی کورونا کے وار جاری ہیں اور ماحول میں ایک عجیب سی گھٹن پیدا ہو چکی ہے۔ جس طرح لوگ پہلے آزادانہ گھومتے پھرتے تھے لیکن کورونا نے سب کی سرگرمیوں کو محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ انسانی صحت کے لئے تازہ کھلی ہوا اور تفریح بھی ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے لیکن کورونا کی وجہ سے پارک بند کرنا پڑے، سینما، تھیٹرز پر پابندیاں لگ گئیں، شاپنگ مال، بازار ویران ہو گئے، تقریبات بند ہو گئیں، لوگ عزیز رشتہ داروں کے گھروں میں جانے سے ڈرنے لگ گئے، جدید دور میں ایک ایسا ماحول بن گیا تھا جس کا منظر دنیا کبھی نہیں بھلا سکے گی، ایسے ماحول میں نارمل اور صحت مند ذہن کے حامل افراد بھی ذہنی امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ سائیکالوجسٹ اور سائیکاٹرسٹ ڈاکٹرز کے مطابق کورونا کے ماحول کی وجہ سے ذہنی امراض کے مریضوں کی تعداد میں حیرت ناک اضافہ ہوا ہے، لوگ کی اکثریت ڈپریشن کا شکار ہو چکی ہے لیکن ان کو خود بھی اس بات کا اندازہ نہیں کہ وہ ذہنی مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ایسے افراد کے اردگرد رہنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شائد وہ چڑچڑا ہو چکا ہے اور چڑچڑاپن ایک عادت نہیں بلکہ کسی بھی ذہنی مرض کی ابتدائی علامت ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ایک بلین کے قریب لوگ دماغی امراض کا شکار ہیں جس میں سرفہرست دماغی مرض ڈپریشن ہے۔ ہر پانچ بالغ یا نابالغ میں سے ایک ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہے۔ اسی طرح شیزوفرینیا بھی ایک خطرناک دماغی مرض ہے جس میں مبتلا افراد اپنی عمر سے دس سے بیس سال پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دماغ کی دیگر بیماریاں بھی خطرناک ہیں جن میں انزائٹی یا پینک، کنورژن ڈس آرڈر، سائکوٹک ڈس آرڈر، اوبسیسوکمپلسیو ڈس آرڈر شامل ہیں۔ دماغ کے عدم توازن کی وجہ سے دماغی امراض جنم لیتے ہیں جن کا اگر بروقت علاج نہ کرایا جائے تو دماغی امراض میں مبتلا افراد اپنی جان تک لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ عالمی ادارہ صحت نے خودکشی پر ہونے والی دس سال کی تحقیق اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد رپورٹ جاری کی ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال آٹھ لاکھ افراد خودکشی کر کے اپنے ہی ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہر 40 سیکنڈ میں ایک انسان خودکشی کرتا ہے۔ خودکشی معاشرے کاایک ایسا مسئلہ سمجھا جاتا ہے جس پر لوگ بات کرنے سے بھی کتراتے ہیں اس طرح وہ یہ جان ہی نہیں پاتے کہ خودکشی کا تصور کیسے اور کیوں پیدا ہوتا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟ اگر خودکشی کرنے والے کا مناسب وقت پر علاج کرا لیا جائے تو اس میں زندہ رہنے کی امید پیدا ہو جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خودکشی کرنے والوں میں زیادہ تر 15 سال سے 29 سال تک کی عمر کے افراد شامل ہیں جبکہ 70 سال سے زائد عمر کے افراد کا اپنی جان لینے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ صحت کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں بھی پانچ کروڑ سے زائد افراد ذہنی امراض کا شکار ہو چکے ہیں جن میں بالغ افراد کی تعداد ڈیڑھ سو سے ساڑھے تین کروڑ کے قریب ہے۔ کورونا کی وجہ سے ڈپریشن زدہ ماحول سے نکلنے کے لئے سب کو مل کر کوشش کرنا ہو گی، سب کو ایک دوسرے کے ساتھ الجھنے، بحث کرنے اور لڑائی جھگڑے سے بچنا ہو گا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ سب کو کورونا سے بچاو کی ویکسین لگوانا ہو گی تاکہ لوگ خوف کے ماحول سے باہر نکل سکیں، جب کورونا مریضوں کی شرح کم ہوتے ہوتے ختم ہو جائے گی تو زندگی کے تمام معمولات پھر سے بحال ہونا شروع ہو جائیں گے۔ معمولات زندگی بحال ہوتے ہی خوشحالی آنا شروع ہو جائے گی، لوگ آزادانہ سیروتفریح کے لئے نکل سکیں گے، سب رکے ہوئے کام ہونا شروع ہو جائیں گے تو لوگوں کی ذہنی کیفیت بھی بدلنا شروع ہو جائے گی اور ذہنی امراض خصوصاً ڈپریشن کی کیفیت ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔
 

ٹیگس