کورونا کی پانچویں لہر اور مہنگائی کے ستائے عوام

کورونا کی پانچویں لہر اور مہنگائی کے ستائے عوام

کورونا کی جنوبی افریقہ میں پھیلنے والی نئی قسم اومیکرون کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے ہنگامی اجلاس میں اسے ہائی رسک قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر سے پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔ نئی افریقی قسم کورونا کی دیگر اقسام کے مقابلے میں تیزی سے پھیل سکتی ہے جس سے بچاؤ کیلئے دنیا بھر کے ممالک کو ایک بار پھر سے کارروائیوں کو تیز کرنا ہو گا۔ ابھی کورونا کی عالمی سطح پر ویکسی نیشن کا سلسلہ تھما نہیں تھا کہ پھر سے کورونا نئے روپ میں حملہ آ ور ہونے لگا ہے۔ اس بارے میں اسٹرازینیکا اور دیگر ویکسین بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے ٹرائلز کا آغاز کر دیا گیا ہے کہ جان سکیں کہ ان کی تیار کردہ ویکسین کس حد تک کورونا کی نئی قسم کے خلاف مزاحمت کر سکتی ہے۔ سب سے پہلے جنوبی افریقہ، نمیبیا، بوٹسوانا، ایسواتینی، لیسوتھو اور موزمبیق جیسے ممالک پر دیگر ممالک کی جانب سے سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جبکہ وہاں موجود دوسرے ممالک کے لوگ اور ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائرز کی9  ٹیمیں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ ان کی واپسی کیلئے حکومتوں کی جانب سے کوششوں کا سلسلہ چل نکلا ہے، ان کی اپنے اپنے ممالک کو واپسی پر احتیاط سے کام لینا ہو گا کیونکہ اگر بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ایک بار پھر دنیا بھر میں کورونا پھیل سکتا ہے۔ آئسولیشن کے عمل کو دوبارہ سے متحرک کرنا ہو گا تبھی اس وباء کو ابتداہی میں روکا جا سکے گا ورنہ تو یہ کسی بھوت کی طرح ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اومیکرون کورونا کی پانچویں قسم ہے اور اسے سب سے خطرناک کہا جا رہا ہے وہ اس لئے کہ اس کا پھیلاؤ سرعت کے ساتھ ہوتا ہے، اس سے قبل کورونا وائرس کی ایلفا، گیما، بیٹا اور ڈیلٹا کو 'ویرینٹ آف کنسرن' قرار دیا گیا تھا لیکن ان میں سے حالیہ قسم کو تیز ترین پھیلاؤ کی وجہ سے خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ کورونا وائرس کی اس نئی قسم کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس نئی قسم میں بہت زیادہ تعداد میں میوٹیشنز ہوئی ہیں جن میں سے چند باعث تشویش ہیں۔ وفاقی وزیر اسد عمر کی جانب سے جاری کی گئی ٹویٹ میں کورونا کی نئی قسم کے بارے میں خدشات ظاہر کرتے ہوئے پاکستان نے بھی ہانگ کانگ سمیت6  جنوبی افریقی ممالک کے ساتھ آمدورفت محدود کر دی ہے۔ کورونا سے بچاؤ کیلئے جاری ویکسینیشن کے عمل کے بارے میں ہدایات دیتے ہوئے انہوں نے ملک میں12  سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسی نیشن کروانے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ سفری پابندیوں کے بارے میں جاری ہونے والی نوٹیفیکیشن کے مطابق ہانگ کانگ سمیت6  افریقی ممالک کو سفری پابندیوں کی کیٹیگری سی میں شامل کر دیا گیا ہے، یعنی ان ممالک سے مسافروں کی براہ راست آمدورفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اگر یہ کہیں بھی آ جا سکیں تو حفاظتی اقدامات ملحوظ رکھے جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اس اہم موڑ پر انتہائی مہارت اور ہوش مندی سے کام لینا ہو گا کیونکہ اس بار اگر کورونا کی نئی قسم پھیل گئی تو اسے روکنا مشکل ہو جائے گا جیسا کہ چوتھی بار ہوا تھا۔ گھر گھر مہم چلانے کے ساتھ سپرے کا بھی اہتمام کیا جانا چاہئے ساتھ ہی دیار غیر سے آنے والوں کیلئے14  دن کا آئسولیشن پیریڈ یا بائیو سیکیور ببل کا فارمولا طے کرنا ہو گا کیونکہ عوام پہلے ہی ڈینگی سے لڑ رہے ہیں اور اگر ایسے میں کورونا جن بھی میدان میں آ گیا تو بیک وقت ڈبل محاذوں پر لڑنا مشکل ہو جائے گا۔ ویکسی نیشن کا عمل بھی حکومت کو مزید تیز کرتے ہوئے ہر اس علاقے تک رسائی حاصل کرنا ہو گی جہاں طبی سہولیات کم ہی پہنچ پاتی ہیں۔ لاک ڈاؤن تک معاملات پہنچنے سے پہلے ہی اس جن کو قابو کرنا ہو گا وگرنہ تو مہنگائی کے ستائے عوام کو گھروں میں قید کرنا انہیں ماردینے کے مترادف ہے۔