کرونا: کیا کھویا کیا پایا

کرونا: کیا کھویا کیا پایا

تحریر: حمیرا علیم

کرونا سے پہلے بھی دنیا میں بہت سی قدرتی آفات آتی رہی ہیں، لوگ نارمل زندگی میں بھی بیماری کا شکار ہو کر، حادثے میں یا طبعی موت مرتے رہے ہیں۔ دکھ تکالیف زندگی کا حصہ ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہم ضرور انسان کو پانچ چیزوں سے آزمائیں گے: بھوک، کھیت کے نقصان، مال، اولاد اور جان سے۔ تو یہ سب تو زندگی کا حصہ ہوا۔ 
اگر غم یا تکلیف نہ ہو تو انسان خوشی کو صحیح معنوں میں انجوائے نہیں کر سکتا۔ اور اگر زندگی میں صرف خوشیاں ہی ہوں تو جنت کی خواہش کون کرے گا کیونکہ دائمی خوشی کا وعدہ تو جنت میں ہی ہے۔ اللہ تعالی کچھ لوگوں کو دے کر آزماتا ہے تو کچھ سے لے کر۔ قرآن پاک میں انسانوں کو تین طرح کے پتھروں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ایک وہ جو کسی حادثے کی وجہ سے اللہ کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ دوسرے وہ جو پہلے سے اللہ تعالی کے احکام مانتے ہیں اور جب وہ قرآن کا علم حاصل کر لیتے ہیں تو دوسروں کیلئے بھی ہدایت کا باعث بن جاتے ہیں اور تیسرے وہ جنہیں کوئی حادثہ، علم یا نعمت بھی اللہ کا شکر گزار بندہ نہیں بناتی۔ 
کرونا بھی ایک سبب ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک ایسی طاقت ہے جو کائنات کو کنٹرول کر رہی ہے اور ہم سب اس کے آگے بے بس ہیں۔ الحمدللہ کرونا کی وجہ سے میری زندگی میں کوئی کمی تو نہیں آئی۔ مگر کچھ اچھے اعمال کا اضافہ ہی ہوا۔ میں نے کچھ تسبیحات اور تہجد کا معمول اپنایا۔ جب سے ترجمے و تفسیر سے قرآن پڑھا ہے کچھ معمولات اپنائے ہیں اور اللہ تعالی نے اپنا وعدہ پورا کیا کہ جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں سنتا ہوں اور جواب دیتا ہوں۔ اور رات کے تیسرے پہر اللہ تعالی آسمان دنیا پر تشریف فرما ہو کر پکارتے ہیں۔ ہے کوئی پکارنے والا۔ اس وقت کی مانگی گئی دعا کبھی بھی رد نہیں کی جاتی۔ اللہ تعالی ایسے دروازے کھولتا جاتا ہے اور اسباب پیدا کرتا جاتا ہے کہ انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ میں نے ہمیشہ یہ تسبیحات لوگوں کے ساتھ شئیر کی ہیں تاکہ سب اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ اگر یہ تحریر پڑھ کر کسی کو فائدہ ہو تو برائے مہربانی میرے اور میرے خاندان کیلئے بھی دعا کیجیے گا۔ جب بھی آپ آسانی سے جتنی بار بھی دعا کر سکیں یہ دعائیں پڑھ لیں کیونکہ اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتے ہیں۔ ''وہ لوگ جو اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، لیٹے جاگتے اور پہلو کے بل پر اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔'' تو دعا کیلئے کسی وقت یا جگہ کو مخصوص نہ کریں بس مانگیں اور اس یقین سے مانگیں کہ وہ دے گا ضرور۔ 
استغفار کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو کہ گناہ سے پاک تھے۔ دن میں کم از کم ستر بار استغفار کرتے تھے۔ کوئی بھی مسنون دعائے استغفار پڑھیں۔ جیسے الھم اغفرلی اللھم انک عفو تحب العفو فاعفو انی۔ رب اغفرلی۔ فجر کی آذان سے کم از کم10-15  منٹ پہلے اٹھ کر دو رکعت نفل سے تہجد شروع کریں اور سجود میں دل میں اپنی زبان میں دعا کریں۔ اگر قرآنی و مسنون دعائیں یاد ہیں تو وہ ہی پڑھیں۔ ہر نماز میں سجدے میں اور سلام پھیرنے سے پہلے اپنی حاجت کیلئے دعا کریں۔ اپنے کمرے میں کسی بھی شیلف، بیڈ سائیڈ میز یا ڈریسنگ ٹیبل پر ایک منی باکس رکھیں اور اس میں سب گھر والے زیادہ نہیں تو کم از کم ایک سکہ روازنہ فجر کے بعد بطور صدقہ ڈالیں۔ مہینے کے آخر میں یہ پیسے کسی غریب کو دے دیں، ان سے راشن، کپڑے، جوتے، کتابیں، اشیائے ضروریہ، کسی بیوہ یا یتیم کے بلز، کسی مدرسے میں پنکھا لگوانے وغیرہ میں صرف کیجیے۔ جب بھی کوئی پریشانی ہو تو دو نفل نماز حاجت پڑھ کے دعا کریں۔ 
ہر چھوٹے بڑے کام کو کرنے سے پہلے استخارہ کریں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ صرف دو نفل نماز پڑھ کے دعائے استخارہ پڑھ لیں بس۔ اس لیے کسی عالم یا عامل سے استخارہ کروانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کام آپ کا ہے آپ خود ہی کریں۔ صحابہ کرام فرماتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیں استخارے کی دعا ایسے یاد کرواتے تھے جیسے قرآن۔ اور یہ دعا اللہ سے یہ مشورہ کرنے کی ہے کہ اگر یہ کام میرے حق میں بہتر ہے تو اسے میرا مقدر بنا دیں اور اس کے رستے سے رکاوٹیں دور کر دیں اور اگر یہ میرے حق میں برا ہے تو اسے مجھ سے دور کر دیں۔ اس میں ہم کہیں یہ نہیں کہتے کہ خواب میں دکھا دیں اس لیے یہ توقع مت رکھیں کہ خواب آئے گا۔ اگر کام آپ کے لیے بہتر ہوا تو ہو جائے گا ورنہ نہیں ہو گا۔ اب ایک خوبصورت، امیر، ڈاکٹر کا رشتہ کسی کیلئے بھی آئے گا تو اس کی خواہش تو یہی ہو گی کہ یہیں شادی ہو جائے اور ایسا ہی خواب میں آئے گا۔ لیکن اگر وہاں کسی بھی وجہ سے شادی نہیں ہوتی تو آپ کے خواب کے مطابق تو کچھ بھی نہیں ہو گا کیونکہ خواب ہمارے لاشعور میں چھپی خواہشات یا خدشات پر مبنی ہوتے ہیں۔ 
چاہے کتنی ہی بڑی تکلیف یا مسئلہ ہو صرف اللہ سے ہی رجوع کریں۔ غیرشرعی کاموں میں نہ پڑیں۔ مسنون طریقہ ہی بہترین طریقہ ہے۔ پھر ہم دن میں کتنی ہی بار نماز میں دعوی کرتے ہیں کہ ''اے اللہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں'' تو اس پر عمل بھی کیجئے۔ یہ تسبیحات قرآنی و مسنون دعاؤں میں سے ہیں۔ و یذھب غیظ قلوبھم۔ سورہ التوبہ 15۔ غصہ کیلئے۔ رب انی لما انزلت الیہ من خیر فقیر۔ سورہ القصص کی آیت چوبیس کا آخری حصہ۔ ہر طرح کی مشکل کیلئے۔ موسی علیہ السلام نے مدین میں کنویں پر بیٹھ کر یہ دعا پڑھی تھی اور کچھ ہی دیر میں انہیں گھر، نوکری اور بیوی مل گئیں تھیں۔ و صلح لی فی ذریتی۔ اولاد کی اصلاح کیلئے۔ لا الہ الااللہ۔ میزان میں سب سے بھاری کلمہ ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم۔ ایک بار پڑھنے سے جنت میں ایک درخت پڑھنے والے کے نام کا لگتا ہے۔ لاحول ولا قو الا باللہ العلی العظیم پڑھنے والے کیلئے خوشخبری ہے۔ ربنا کشف عنا العذاب انا ممنون۔ الدخان 12۔ ہر طرح کے عذاب اور مصیبت سے پناہ کی دعا ہے۔ واللہ المستعان سورہ یوسف۔ انبیا نے اس لفظ کے ذریعے اللہ کی مدد مانگی ہے۔ و یسر لی امری۔ سورہ طہ 29 آسانی کیلئے دعا ہے: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر صلوة کہ ہر صلوة پر10  نیکیاں ملتی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر اسے آپ کے نام کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ 
سبحان اللہ! یاحی یا قیوم برحمتک استغیث۔ اللہ تعالی کی تعریف کے ساتھ اس کی مدد کی درخواست۔ اللھم اغفر لنا ولہ وارحنا منہ۔ کسی سے خوفزدہ ہوں، تنگ ہوں، بچے نافرمانی کریں اور آپ کا دل تنگ ہو یا کسی بھی شخص سے نہ بنتی ہو تو یہ دعا پڑھیں۔ اللہ کا شکر ہے میری سسرال بے حد اچھی ہے۔ لیکن اگر کسی بہن کے سسرال میں مسئلہ ہو تو یہ دعا پڑھ سکتی ہیں۔ سورہ ملک روزانہ ایک بار پڑھیں کہ یہ عذاب قبر سے بچائے گی۔ سورہ اخلاص10  بار۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ اسے دس بار پڑھنا ایک قرآن پڑھنے کے مترادف ہے۔ ایک اور روایت میں تین بار کا ذکر ہے۔ میرا معمول تو یہ ہے کہ ظہر کی سنتوں میں ایک رکعت میں ایک صفحہ قرآن پاک مصحف سے دیکھ کر پڑھتی ہوں اس طرح کچھ مہینوں میں دورہ قرآن بھی ہو جاتا ہے اور سورتیں بھی یاد ہو جاتیں ہیں۔ آپ اگر آسانی سے تین آیات بھی پڑھ لیں ایک رکعت میں تو پڑھنا شروع کر دیں۔ یہ کوئی وظیفہ نہیں ہے۔ اگر آسانی سے سب پڑھ سکیں تو چاہے ایک بار پڑھ لیں، چلتے پھرتے آفس، گھر کے کام کرتے، سفر میں یا نمازوں کے بعد، یا بستر پر لیٹ کر۔ اور چاہیں تو کوئی ایک دعا پڑھ لیں۔ آسانی سے پڑھ سکیں تو ایک ایک تسبیح پڑھ لیں، آدھے گھنٹے سے زیادہ نہیں لگے گا۔ میں ایک بار دن میں اور ایک بار رات میں ان تمام اذکار کی ایک ایک تسبیح کرتی ہوں۔ اللہ تعالی سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، سب کیلئے آسانیاں پیدا فرمائے، سب کی مشکلات اور بیماریاں دور فرمائے اور ہم سب کو قرآن و حدیث پڑھنے، ان پر عمل کرنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
 

ٹیگس