کورونا اور مودی حکومت کی خفیہ سازشیں

کورونا اور مودی حکومت کی خفیہ سازشیں

تحریر: ڈاکٹر جمشید نظر

کورونا کی وباء نے دنیا کی معیشت پر جو گہرے اثرات چھوڑے ہیں وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گے۔ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں بے روزگاری بڑھی، زرعی و صنعتی پیداوار میں حد درجہ کمی ہوئی اور سب سے بڑھ کر قیمتی انسانوں جانوں کا ضیاع ہوا۔ جس طرح دنیا کورونا کی وباء سے مقابلہ کر رہی ہے یہ بھی ایک عجیب سی صورتحال ہے۔ عالمی سطح پر ہر ملک کورونا سے بچنے کی کوشش میں ہے، کورونا وائرس کہاں سے آیا، کس نے ایجاد کیا اس کے متعلق ابھی بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ عالمی طاقتیں اس وائرس کو لے کر ایک دوسرے پر بہتان لگا رہی ہیں لیکن ایک بات حقیقت ہے کہ کورونا وائرس نے ازخود جنم نہیں لیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ زمین بہت خوبصورت بنائی ہے اور خاص طور پر یہ بنی نوع انسان کے لئے تخلیق کی گئی ہے تاکہ وہ زندگی کا وہ امتحان دے اور اس میں پاس ہو کر جنت میں جا سکیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو راہ راست پر لانے کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف عذاب بھی نازل کرتا رہا ہے۔ زلزلے، سیلاب، آندھی طوفان اور وبائیں اللہ تعالیٰ کے عذاب ہی تو ہیں اور اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کورونا کی وباء بھی ایک عذاب کی شکل میں نازل ہوئی ہے جو کسی ایک علاقہ، ایک شہر یا ایک ملک تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا بھر میں پھیل گئی، لوگ موت کے خوف سے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے لیکن موت نے وہاں بھی ان کو نہیں بخشا۔ آخر یہ عذاب نازل کیوں ہوا؟ اس کے حوالے سے بہت سے دلائل دیئے جا سکتے ہیں۔ اگر غور کریں تو سب سے بڑی وجہ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ اور معصوم کشمیری بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کو مودی حکومت کی جانب سے زبردستی لاک ڈاون لگا کر گھروں میں محصور رکھنا، ان کا سرعام قتل کرنا، خواتین کی عزتوں کی پامالی کرنا، یہ سب مظالم اس قدر بڑھ گئے تھے کہ عرش بھی کانپ اٹھا لیکن دنیا اس ظلم اور بربریت پر خاموش تماشائی بنی رہی، ایسے میں کورونا کی وباء اس طرح پھیلی کہ پوری دنیا میں لاک ڈاؤن لگ گیا اور تب جا کر دنیا کو احساس ہوا کہ لاک ڈاون لگا کر گھروں میں محصور ہونے کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ انڈیا کو براہ راست کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان کشمیریوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنا بند کرے لیکن افسوس مودی حکومت جو صرف اور صرف ہندو ازم پر مبنی ہے اس نے اقوام متحدہ کی بات پر ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی۔ اس کے برعکس مودی حکومت نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر مظالم بڑھا دیئے بلکہ انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں پر بھی نت نئے طریقوں سے ظلم و تشدد شروع کر دیئے۔ مودی حکومت نے مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے فسادی گروپ بنا رکھے ہیں جن میں انتہا پسند ہندو اور پیشہ ور قاتل شامل ہیں جو مختلف بہانے بنا کر راہ چلتے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیتے ہیں۔ فسادی گروپ مسلمان رہائشی علاقوں میں بلا وجہ فساد برپا کر کے مسلمانوں اور مساجدکو شہید کر رہے ہیں۔ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر اور انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے ایک سازش کے تحت خفیہ منصوبہ بنا رکھا ہے، اس منصوبے کا سب سے بڑا ایجنڈا مساجد کو مندروں میں تبدیل کرنا اور مسلمانوں کا قتل عام کر کے ان کی تعداد کوکم کرنا شامل ہے۔ اسی منصوبے پر عملدرآمد کرتے ہوئے انڈیا میں رہنے والے ایسے مسلمان جو سیاسی، مذہبی یا شوبز میں مشہور ہیں ان کے خلاف غیرقانونی ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماوں کو عرصہ دراز سے قید کر رکھا ہے، سید علی گیلانی مرحوم کی وفات کے بعد ان کے جسد خاکی کی بے حرمتی اور غسل دیئے بغیر جبراً تدفین، رشتہ داروں، عزیزواقارب کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہ دینا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ مودی صرف ایک ہٹلر ہی نہیں بلکہ دنیا کا ظالم ترین انسانی حیوان بھی ہے۔ پاکستان جب بھی اس کے مظالم دنیا کے سامنے عیاں کرتا ہے تو انڈیا سرجیکل سٹرائیک کی دھمکیاں دینا شروع کر دیتا ہے۔ اس سے قبل بھی انڈیا سرجیکل سٹرائیک کی جھوٹی فلمیں چلا چکا ہے  جنھیں نہ صرف دنیا نے بلکہ خود انڈین پارلیمنٹ کے لیڈرز نے رد کرتے ہوئے اسے شعبدہ بازی قرار دیا ہے۔ حال ہی میں ایک مرتبہ پھر انڈیا سرجیکل سٹرائیک کی دھمکیاں دے رہا ہے لیکن اسے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اب دھمکیوں کا دور نہیں رہا۔ انڈیا نے اگر اس طرح کی کوئی حرکت کی تو مودی حکومت کو اس مرتبہ ابھی نندن جیسے بھگوڑے چائے پلا کر واپس نہیں کئے جائیں گے۔