کورونا، نئی پابندیاں اور بنیادی سوال 

کورونا، نئی پابندیاں اور بنیادی سوال 

مکمل لاک ڈاؤن سے غریب اور دیہاڑی دار طبقہ کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے حکومت کی جانب سے مرحلہ وار سمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کیسزبڑھنے کی وجہ سے سخت فیصلوں کی گھڑی آن پہنچی ہے جس کے پیش نظر ملک میں نئی پابندیوں کا نفاذ کر دیا گیا ہے، ان پابندیوں کے مطابق دفاتر میں حاضری50  فیصد رکھی گئی جبکہ ہفتے میں2دن کاروبار بند رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ' معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کیلئے اقدامات غریب طبقہ کی مشکلات کو مدنظر رکھ کر اٹھائے گئے' بعض حلقوں کی جانب سے ایک ساتھ مکمل لاک ڈاؤن کا کہا گیا لیکن اس سے دیہاڑی دار طبقہ شدید متاثر ہوتا اس لئے لچکدار فیصلے کئے گئے اور ان فیصلوں سے لوگوں کو کورونا وباء سے بچانے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک بہت بڑے دیہاڑی دار طبقے کے روزگار کا تحفظ بھی کرنا ہے' ابتدائی تین لہروں میں جس حکمت عملی پر عمل پیرا ہو کر ہم نے کامیابی سے کورونا وائرس سے نجات حاصل کی تھی اب ایک بار پھر ایسی ہی راہ عمل اپنائی جا رہی ہے، وباء کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں بہت تیزی سے مثبت کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں اور اس بارے میں بہت تشویش پائی جا رہی ہے' کیسز بڑھنے سے ہسپتالوں پر بھی اضافی بوجھ پڑ رہا ہے اور پھر ان سے نمٹنے میں ایک نئی جنگ شروع ہو گی اس لئے سمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ ناگزیر تھا' راولپنڈی، لاہور اور فیصل آباد میں ابتدائی فیصلوں کا اطلاق ہو گا جبکہ ان کے علاوہ خیبر پختونخوا میں پشاور اور ایبٹ آباد، صوبہ سندھ میں کراچی اور حیدرآباد میں8 اگست تک پابندیاں نافذ العمل ہوں گی ' یہ ابتدائی کوششیں مانی جانی چاہئیں لیکن اگر ہمارے ان اقدامات سے وباء قابو نہیں ہوتی اور مثبت کیسز مزید بڑھتے ہی چلے گئے تو کراچی اور حیدرآباد میں8  تاریخ کے بعد بھی مذکورہ پابندیاں لاگو رہیں گی' ان پابندیوں کا دائرہ کار اسلام آباد کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں میرپور اور گلگت بلتستان میں گلگت اور سکردو تک پھیلایا گیا ہے اور یہ حالیہ پابندیاں31  اگست تک نافذ رہیں گی جبکہ ہفتے میں ایک دن کی بجائے اب 2دن کاروبار بند رہے گا جنہیں 'سیف ڈیز' کا نام دیا گیا ہے' کاروباری حضرات کیلئے بھی وقت مقرر کیا گیا ہے' نئے اعلامیہ کے مطابق رات8 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہو گی' حکومت کی جانب سے کئے جانے والے فیصلے بہترین مانے جانے چاہئیں کیونکہ اس میں ہم سب کا بھلا ہے' وباء قابو ہو گی تو ہماری آنے والی نسلیں محفوظ زندگی گزار سکیں گی ورنہ ہم انہیں کورونا تحفتاً دیں گے۔ ہمیں حکومتی فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے خود کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو کورونا سے پاک کرنے کیلئے حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بچتے بچاتے کاروبار بھی کرنا ہو گا، اگر حکومت کی جانب سے ہفتہ میں دو دن کی چھٹی کا فیصلہ کیا گیا ہے تو ساتھ میں ان دو دنوں میں دیہاڑی دار طبقہ کیلئے کیا ریلیف رکھا گیا ہے، اس کی وضاحت بھی ہونی چاہئے اور کیا  ان دو دنوں میں تعلیمی ادارے بند ہوں گے یا وہ اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے؟ فی الوقت یہ اہم و بنیادی سوالات ہیں' کورونا کی اس متعدی قسم سے بچنے کیلئے حکومت کو ملک کے ہر فرد کیلئے ویکسی نیشن کا عمل تیز کرنا ہو گا، اس طرح سے لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی ان کو بھرپور تحفظ فراہم کیا جا سکے گا۔