گھمبیر صورت حال

گھمبیر صورت حال

تحریر: ڈاکٹر سردار جمال

ہم1947  سے لے کر اب تک مملکت خداد پاکستان کے مالک بن کر چلے آ رہے ہیں۔ اس وقت سے لے کر2018  تک کچھ نہ کچھ اصول و ضوابط چلے آ رہے تھے مگر بدقسمتی سے2018  کے الیکشن نے سب کچھ گنگا جمنا کی طرح الٹا بہا دیا۔ چونکہ یہ الیکشن دیو مالائی کہانیوں اور کرداروں سے کم نہیں اس لئے اس کا اندازہ ہم پارلیمان تک لائے گئے چہروں سے اچھی طرح کر سکتے ہیں جن کو دیکھ کر اور پھر انہیں سن کر بندہ دنگ رہ جاتا ہے۔ ان کی ذہنی سطح ان کے کردار اور گفتار سے عیاں ہے۔ اسمبلی میں گالی گلوچ عام سی بات ہے۔ اس کے علاوہ آرام دہ کرسی میں بیٹھ کر جھولنا اور کبھی کھبی خواب خرگوش سے بیدار ہو کر اسمبلی کے پرسکون اور آرام دہ ماحول کو مچھلی بازار بنانا عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ اس سے بڑھ کر وزیراعظم کھبی اسلامی فقہہ اور کھبی اسلامی تاریخ کو بیان کرتے ہیں۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے وزیراعظم نہیں بلکہ ایک ”کلیور امپوسٹر“ لیکچر دے رہا ہو۔ اگر ملکی نظام اور ڈسپلن پر نظر دوڑائی جائے تو صاف نظر آئے گا کہ جناح صاحب کے دیس میں کہیں رٹ ہے نہیں بلکہ صاف من مانی کا راج چل رہا ہے۔ کوئی پاکستانی بتا نہیں سکتا کہ ایک گھنٹہ بعد کیا ہو گا یعنی کون سا قانون درمیان میں چھلانگ لگائے گا۔ کوئی یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ رولز ریگولیشن کے بارے میں کون سا تماشا چل رہا ہے؟ یہ تماشا کیوں چل رہا ہے؟ یہ تماشا کون چلا رہا ہے اور اس کے بعد کون سا تماشا ہو گا؟ ملکی حالات اس حد تک لائے گئے ہیں کہ بڑے تو کیا بچے بھی یہ سب کچھ مذاق لے رہے ہیں۔ بچے تو خاص کر سکولوں کے بارے میں سب کچھ جھوٹ کے پلندے سمجھ رہے ہیں۔ اگر ایک بچے سے کہا جائے کہ فلاں تاریخ کو سکول کھلے گا یا فلاں تاریخ سے امتحان شروع ہو گا تو وہ ہنس کر جواب دے گا کہ انکل! یہ صبح کی ہیڈ لائنز ہیں، شام والے ہیڈ لائنز سننے کا انتظار کریں۔ سرکاری دفاتر کے اوقات اور سرکاری اہلکاروں کے رویوں کو دیکھ کر بندہ حیران ہو جاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بندہ خواب دیکھ رہا ہو کیونکہ ہر بندہ کھلے عام رشوت مانگ رہا ہے اور باہر فلیکس پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ اگر سائل کو کوئی تکلیف یا شکایت ہو تو نیچے لکھا ہوا نمبر ڈائل کر کے اپنا شکایت درج کرائیں۔ اگر یہ نمبر ملایا جائے تو سارا دن مطلوبہ نمبر ”ناٹ ریسپانڈنگ“ یا مصروف آتا رہے گا۔ سرکاری سیکٹرز کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹرز اپنی مثال آپ ہیں۔ آزادانہ خرید و فروخت جاری ہے، کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ مہنگائی کا راج چل رہا ہے۔ کوئی پوچھنے والا ہے نہیں۔ ملاوٹ کا بازار خوب گرم ہے۔ اس کے علاوہ امن و امان کا مسئلہ درپیش ہے۔ جرائم پیشہ افراد مزے اڑا رہے ہیں۔ افسران بالا خواب خرگوش سوئے ہوئے  ہیں اور جب تھوڑا سا جاگ جاتے ہیں تو فوٹو سیشن میں محو ہو جاتے ہیں جو سوشل میڈیا کی زینت بن جاتے ہیں۔ عوام اس سختی گرمی میں لوڈ شیڈنگ سے دوچار ہیں۔ دوسری طرف ہر مہینے میں بجلی چار، پانچ دفعہ مہنگی کی جاتی ہے جو سراسر ظلم اور ناانصافی ہے جبکہ واپڈا والوں کا قانون بھی عجیب ہے جس کے تحت جو لوگ بجلی چوری کرتے ہیں تو وہ چوری شدہ یونٹ ان لوگوں پر تقسیم کر دیتے ہیں جو چوری نہیں کرتے ہیں۔ بجلی کے علاوہ اب تو گیس کی لوڈ شٹنگ بھی شروع ہے۔ پہلے جب بجلی چلی جاتی تو گیس سے جنریٹر چالو کر کے پنکھے چلا کر گرمی کا مقابلہ کیا جاتا تھا مگر اب بجلی اور گیس دونوں ایک ہی وقت میں چلے جاتے ہیں۔ نئے پاکستان میں انسانی سوچ سے بالا نظام چل رہا ہے یعنی یہ تو سنا تھا کہ سردیوں میں گیس ٹھنڈی پڑ کر بند ہو سکتی ہے مگر اس تپتی دھوپ میں گیس کا جانا، سوچ اور فہم سے باہر ہیں۔ یہ گھمبیر صورت حال سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پیدا کی جاتی ہے۔ چونکہ نئی دنیا بنائی جا رہی ہے تو یہ سب کچھ شعوری طور پر کیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو ہم شعوری طور پر نئی دنیا کے لئے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ جب کوئی نئی سوچ اور نئی دنیا درمیان میں لائی جاتی ہے تو اقدار، روایات، کلچر اور مذہب سے جڑے ہوئے لوگ یہ سب کچھ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ لوگوں سے ایسا عجیب و غریب برتاؤ کیا جائے جس سے وہ اپنا شعور گنوا دیں اور پھر جیسا جی چاہے ان سے سلوک کیا جائے۔ لہذا ضروری یہ تھا کہ گھمبیر صورت حال پیدا کی جائے تاکہ عوام سوچنے اور سمجھنے سے قاصر ہو سکیں اور اس صورت حال میں ڈالر کا بڑھ جانا رحمت جبکہ مہنگائی کا بڑھ جانا اللہ کا کرم سمجھ کر عوام کو فہم و دانش سے فاصلے پر رکھ کر نئی دنیا میں دھکیلا جائے۔