عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی

عالمی مارکیٹ میں جمعہ کو خام تیل کی قیمت میں غیر معمولی گراوٹ دیکھنے میں آئی اورامریکی خام تیل بلیو ٹی ایل آئل کی قیمت تقریباً5 ڈالر کی کمی سے78 ڈالر سے کم ہوکر 73 ڈالر کی سطح پر آگیا۔ٹریڈنگ کے دوران ڈیبلو ٹی ایل72.48 ڈالر فی بیرل کی سطح پر دیکھا گیا۔

 

اسی طرح برینٹ خام تیل کی قیمت بھی 81 ڈالر سے کم ہوکر 76 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا۔ خام تیل کی قیمت میں کمی اور سپلائی میں اضافہ ہونے اور اس کے تناسب سے خریداری میں کمی آنے کے باعث دیکھی جارہی ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق امریکا کی جانب سے تیل کی خریداری میں کم دلچسپی کی وجہ سے قیمتوں میں نمایاں کمی آگئی ہے۔

 

واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں کمی کا رجحان ایک ہفتے قبل شروع ہوا تھا لیکن ابتداء میں خام تیل کی قیمت میں کمی آنے کی رفتار سست تھی۔19نومبر کو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت80.76 ڈالر فی بیرل جب کہ برینٹ آئل کی قیمت 82.43 ڈالرفی بیرل تھی لیکن جمعہ کو بڑی کمی آئی جس سے مجموعی طور پر ایک ہفتے میں خام تیل کی قیمت میں ڈیبلو ٹی ایل کی فی بیرل قیمت میں 7 ڈالر اور برینٹ آئل کی قیمت میں تقریباً10 ڈالر کی کمی آچکی ہے۔

 

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خام تیل کی پیداوار بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے کرونا لاک ڈاؤن کھلنے کی وجہ سے اضافی طلب کے مقابلے میں سپلائی میں بھی اضافہ ہوگیا ہے جس سے قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔اس کےعلاوہ کئی یورپی ممالک میں کرونا کیسز بڑھنے کے پیش نظر دوبارہ لاک ڈاؤن لگانے کا جائزہ لیا جارہا ہے جس کی وجہ سے بھی خام تیل کی قیمتوں میں کمی آرہی ہے۔توانائی شعبے کے حوالے سے ریسرچ رپورٹس میں خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے اور خام تیل 70ڈالر فی بیرل کی سطح سے بھی نیچے آسکتا ہے۔

 

دو ماہ قبل اکتوبر میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ شروع ہوا تھا اور خام تیل کی فی بیرل تیل 85ڈالر کی بلند سطح پر پہنچ گئی تھی جس کی وجہ سے تیل پیداوار والے ممالک کو تو فائدہ ہوا لیکن پاکستان جیسے تیل کی درآمد پر انحصار کرنے والے ممالک اس کی وجہ سے ہوشربا مہنگائی سے دوچار ہوگئے ہیں۔پاکستان کو قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے درآمدی بل بڑھنے کا بوجھ اٹھانا پڑا۔دوسری طرف ڈالر کی قدر میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا جس سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی گئیں۔

 

معاشی ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان کو تیل درآمد کی مد میں ادائیگی کے بوجھ میں کمی کا فائدہ ہوگا لیکن صارفین کے لئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان نہیں،اس کی وجہ وفاقی مشیر خزانہ کا چند دن قبل کا بیان ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہر ماہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں 4 روپے لیٹر وصول کریں گے یہاں تک کہ فی لیٹر لیوی 30روپے تک پہنچ جائےگی۔

 

اس ضمن میں 5نومبر کو بھی پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 5روپے بڑھائی گئی تھی اور اگر مذکورہ5 روپےکو بھی شمار کیا جائے تو مزید24 روپے لیوی لگائی جائے گی اور اگر اس کے علاوہ ہو تو پھر مزید 30روپے پی ڈی ایل کی مد میں وصول کرنے ہیں جس کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے امکانات کم ہیں۔