ڈگر ہسپتال کا نوحہ

ڈگر ہسپتال کا نوحہ

تحریر: یوسف پٹھان 

بونیر ایک ایساضلع ہے جس کو پسماندہ ضلع کہاجاتا ہے۔ بونیر کا ذکر جہاں بھی آتا ہے تو لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم اس ضلع کو نہیں جانتے یہاں تک کہ سپیکر صاحب نے بھی پہلے ذکر کیا تھا کہ بونیر کدھر ہے۔ ویسے اگر گپ ہانکنے میں بات کہی گئی یا سچ میں لیکن بات تو اس کے منہ سے نکل گئی ہے۔ یہ کتنے تذبذب کی بات ہے کہ ہم بونیر کو ایکسپلور نہیں کرتے جس طرح کہ سوات ہے۔ یہاں پر یہاں کے عوام کا ہر طرح کا استحصال جاری ہے۔ اگرکوئی ایم پی اے آ جائے یا ایم این اے تو وہ بھی ذاتی مفادات کے حصول کے لیے حتی الامکان کوشش کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ میرے اس غریب ملک میں ایک غریب انسان بھی بیٹھا ہے جو دنوں سے بھوکا ہے اور نہ سویا ہے۔ اسی طرح کا واقعہ ڈگر ہسپتال میں ہوا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں ایک عورت کی بچی پیدا ہوئی لیکن وہ کموڈ میں جا کر مر گئی ہے۔ وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ مریض انتہائی panic تھی اور ڈاکٹر صاحبہ کی غیرموجودگی یعنی لاپرواہی اس قدر تھی کہ اس عورت کا علاج وقت پر نہیں ہوا۔ چند دن پہلے مجھے بھی ایک ویڈیو فیس بک پر ملی جس میں صبح کے وقت کتے بھونکتے نظر آ رہے ہیں وجہ صرف یہی ہے کہ جتنے بھی ڈاکٹر یہاں بیٹھے وہ صرف اپنے لئے کام کرتے ہیں۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ اس ہسپتال میں صرف غریب عوام جاتے ہیں، وہ لوگ جس کے ساتھ پیسے نہیں ہوتے۔ وہ اس امید کے ساتھ جاتے ہیں کہ یہاں پر ہماری مدد کی جائے گی اور ہم رو بصحت ہو کر واپس گھر لوٹ آئیں گے لیکن پتہ نہیں کہ کیوں اس اس طرح کا استحصال جاری ہے کہ غریب کی مدد نہیں کی جاتی۔ ان شااللہ میری بھرپور کوشش ہے کہ میں اس کے خلاف قلم کے ذریعے بھی آواز اٹھاؤں اور مائیک لے کر بھی پروگرامز کروں۔ ان شااللہ ہم ٹرینڈز اس کے خلاف چلائیں گے تاکہ یہ مسئلہ ایڈریس ہو جائے۔