درنگال رابطہ پل: خیبر پختونخوا حکومت کی  ناکامی کی ایک اور نشانی

درنگال رابطہ پل: خیبر پختونخوا حکومت کی  ناکامی کی ایک اور نشانی

تحریر: اظہار الحق درانی

جندول ثمرباغ کو بین شاہی اور براول سے ملانے والے واحد درنگال رابطہ پل پر تعمیراتی کام گزشتہ 6 سالوں سے بند ہے جس کی وجہ سے نا صرف علاقہ مکینوں کو شدید قسم کی مشکلات کا سامنا ہے، طلباء کو بارانی موسم میں سکول و کالج جانے میں دشواری پیش آتی ہے بلکہ علاقے کی مشہور خوبصورت وادی شاہی، بین شاہی کو جانے والے سیاح بھی سخت اذیت و تکلیف سے دوچار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب منتخب نمائندے بھی بے بس نظر آنے لگے ہیں، عوام کی جانب سے بار بار کی یاد دہانیوں اور احتجاجوں کے باوجود پل تعمیر نہ ہو سکا۔

 

علاقے سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین ڈیڈک کمیٹی ملک لیاقت اور ممبر قومی اسمبلی محمد بشیر خان کا تعلق حکمران جماعت سے ہے، اس تاریخ ساز و ریکارڈ ساز حکومت کے چار سال مکمل ہونے کو ہیں، لیکن پل پر تعمیراتی کام کا آغاز کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ تحصیل ثمر باغ کو بین شاہی اور براول سے ملانے والے واحد رابطہ درنگال پل پر تعمیراتی کام کا  افتتاح 2013 ہوا تھا، آٹھ سال گزرنے کے باوجود تعمیراتی کام مکمل تو کیا نہ ہو سکا الٹا پل پر کام طویل عرصہ سے بند ہے۔ بارش کے دوران سیلابی پانی سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ طلبہ و طالبات، مریض اور مقامی لوگ الگ سے رل گئے ہیں۔ علاقہ مکینوں کو شدید قسم کی تکالیف کا سامنا ہے۔

 

روزنامہ شھباز کے ساتھ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے علاقائی مشران سابق امیدوار قاضی عزیزالحق عثمانی، سابق ضلع ممبر انعام الحق نے بتایا کہ درنگال پل کا افتتاح سابق سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے کیا تھا، لیکن پل پر تعمیراتی کام بند ہونے کی وجہ سے بارانی موسم میں طلبائ، سیاحوں اور مریضوں کو شدید مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ ملک ہاشم، واجد علی نے بتایا کہ ٹھیکیدار بالکل غائب ہے اور  موجودہ  حکومت اور منتخب نمائندے بھی بے بس اور ناکام ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ درنگال رابطہ پل پر ہنگامی بنیادوں پر تعمیراتی کام شروع کر کے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اور اس کے بعد فی الفور عوام کیلئے کھول دیا جائے، ''اگر حکومت نے پل پر کام کا آغاز نہ کیا تو اہل علاقہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔''
دوسری جانب اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ٹھیکیدار نے بتایا کہ پل پر آدھا کام مکمل ہوا ہے جبکہ  تعمیراتی کام فنڈ کی عدم دستیابی کی وجہ سے بند ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بہت جلد پل پر تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔

 

اسی طرح لوئر دیر کے سرحدی علاقے، پاک افغان بارڈر کے نزدیک واقع مسکینی اغیڑلے میں بھی رابطہ پل کی تعمیر 6 سالوں میں مکمل نہ ہو سکی، علاقہ مکین ادھورے منصوبے کی تکمیل کیلئے برسوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ چھ سال قبل رابطہ پل کی تعمیر شروع کی گئی تھی مگر اس منصوبے کی تکمیل کی دہائی دینے والے مقامی لوگ ندی میں بہنے والے پانی سے کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ رابطہ پل کا یہ منصوبہ 2015 میں شروع ہوا مگر اس کی تعمیر میں تاخیر مختلف اوقات میں لوگوں کی مشکلات بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔ 

 

شھباز کے ساتھ اس حوالے سے خصوصی بات چیت میں سابق تحصیل نائب ناظم بشیر الحق، اعجازالحق  و دیگر اہل علاقہ نے بتایا کہ اغیڑلے رابطہ پل کی تعمیر کیلئے آج سے پانچ سال قبل ساڑھے تین کروڑ روپے منظور ہوئے تھے مگر کنٹریکٹر کی غفلت اور عدم دلچسپی کے باعث اس تخمینہ میں یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔ علاقہ مکینوں نے رابطہ پل کی تعمیر میں کنٹریکٹر کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ کنٹریکٹر ایک خاتون ہے جو اس پل کی تعمیر میں دلچسپی نہیں لے رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب مقامی مکین سی اینڈ ڈبلیو یا سیکرٹری کے پاس شکایت لے کر جاتے ہیں تو وہاں سے خاتون کنٹریکٹر کی بیٹی ایم پی اے سمیرا شمس کی سیاسی مداخلت آڑے آ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رابطہ پل کی تعمیر کیلئے کئی بار سڑکوں پر احتجاج کیا مگرکوئی شنوائی نہ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس پل کی تعمیر کا بیڑا اٹھانے والے کئی ایکسیئین اور ایس ڈی اوز کے تبادلے کرا دیئے گئے ہیں۔ 

 

متاثرین کا کہنا تھا کہ جب ندی میں سیلابی پانی آ جائے تو مکین دوردراز علاقوں سے ہوتے ہوئے ہی اپنے گھروں تک پہنچ پاتے ہیں جبکہ سکولوں کے طلبہ اور طالبات کی چھٹی کرا دیتے ہیں اور جب فوتگی ہو جائے تو جنازہ کئی کئی گھنٹے روکنا پڑتا ہے۔ مکینوں کا کہنا تھا کہ تاخیر کا شکار اس منصوبے کی تکمیل سے 12 دیہاتوں کی آبادی مستفید ہو گی اور لوگوں کی مشکلات ختم ہوں گی۔ مقامی لوگوں نے دھمکی دی کہ اگر رابطہ پل پر جلد از جلد کام شروع نہ کیا گیا تو مین شاہراہ پر دھرنا دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منتخب نمائندگان ایم پی اے ملک لیاقت اور ایم این اے محمد بشیر خان بھی عوام کو بھول چکے ہیں۔

 

جندول میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ بیشتر رابطہ پلوں پر تعمیراتی کام بند ہے، بعض علاقوں میں لکڑیوں سے پل بنائے گئے ہیں جو کہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جن میں ویلج کونسل رحیم آباد کا رابطہ پل بھی شامل ہے۔ پاک افغان بارڈر کے قریب اغیڑلے پل پر تعمیراتی کام بند ہونے سے علاقہ میکنوں نے پل کے نیچے لکڑیوں سے عارضی پل تعمیر کیا ہے جو زیادہ بارش کی وجہ سے بارانی موسم میں سیلابی پانی کی نذر ہو جاتا ہے اور یوں دیگر گاؤں دیہاتوں سے ان کا رابطہ منقطع ہو جاتا ہے جس سے انہیں شدید مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ مسکینی اغیڑلے رابطہ پل کے حوالے سے ٹھیکیدار سلیمان شمس القمر نے بتایا کہ فنڈ کی عدم دستیابی کی وجہ سے تعمیراتی کام بند ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فنڈ کیلئے ہم نے موجودہ حکومت سے اپیل کی ہے، اگر جلد فنڈ دستیاب ہو جائے تو بہت جلد پل پر تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔

 

تحصیل ثمر باغ میں علاقہ علی شیر شونٹالہ کا رابطہ آر سی سی  پل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جو کہ کسی بھی وقت بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس حوالے سے ملک فرمان و دیگر نے بتایا کہ پل خرابی کی وجہ سے پورا علاقہ پریشانی میں ہے، طلباء کو شدید مشکلات ہیں۔ علاقے کی سماجی شخصیت و کارکن صحافی عمران اللہ خاکسار نے اس حوالے سے بتایا کہ درنگال رابطہ پل  خیبر پختون خواہ حکومت کی  ناکامی کی ایک اور نشانی ہے، ''6 سال سے پہلے افتتاح کے بعد آج بھی درنگال پل پر کام مکمل نہ ہو سکا، معمولی سی بارش براول، شاہی، جوزو، علی بانڈہ، بالودہ، درنگال سمیت کئی علاقوں کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، طلبہ و طالبات کے امتحانات ضائع ہوتے ہیں جبکہ مریضوں کو شدید مشلات ہوتی ہیں۔''