دربار ڈھیری دیولئی کا تاریخی بازار

دربار ڈھیری دیولئی کا تاریخی بازار

عصمت علی اخون

دربار ڈھیری دیولئی کا ایک ایسا پرانا بازار ہے جو انیس سو میں سوات کا ایک بڑا کاروباری مرکز ہوا کرتا تھا جہاں سوات سمیت دیر، ملاکنڈ اور دیگر علاقوں کے لوگ کاروبار اور سودا سلف لینے آتے تھے۔ بازار میں قیام کیلئے قیام گاہ بھی ہوا کرتا تھا جہاں دور دراز سے آئے لوگ قیام کرتے تھے اور سودا مکمل کر کے اپنی راہ چلتے تھے۔ بازار میں سوات کے ہاتھوں سے بنی ٹوپیاں بھی تیار ہوتی تھیں جو سوات سمیت قریبی اضلاع میں کافی مشہور تھیں اور لوگ دور دراز سے خریدنے آتے تھے۔
صدی پرانا کاروباری مرکز جہاں کبھی لوگوں کا ہجوم ہوا کرتا تھا آج بھی اسی حالت میں پڑا ہے بس صرف لوگوں کا ہجوم نہیں ہے۔ وہی لکڑیوں کی پرانی آبادی وہی در و دیوار، وہی پتھر کے دیوار اور وہی پرانے رستے جنہیں دیکھ کر انسان صدی پیچھے اس دور میں گم ہو جاتا ہے۔ بازار میں اب بھی دکانیں موجود ہیں لیکن کاروباری مرکز نہیں رہا، اکا دکا کریانہ کی دکانیں قریبی آبادی کے لوگوں تک محدود ہیں۔ 
بازار کے بارے میں وہاں کے رہائشی سابق ناظم شوکت خان کا کہنا ہے کہ ہمارے آبا و اجداد کا کہنا تھا کہ یہاں ہر قسم اشیائے ضروریہ کا کاروبار ہوا کرتا تھا، زیادہ تر کپڑے کی دکانیں تھیں، لوگ خچروں پر آتے تھے اور خریداری کر کے سودا ان پر لاد کر اپنے علاقوں کا رخ کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ریاست سوات سے پہلے کی بات ہے جب اتنی جدیدیت نہیں تھی، یہاں لوگوں کا ہجوم ہوا کرتا تھا، لوگ خریداری کیلئے کئی کئی دن گزارتے تھے جس کیلئے وہ یہاں کے مقامی حجروں میں قیام کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر رفتہ رفتہ علاقے آباد ہوتے گئے اور یوں لوگوں کا یہاں آنا کم ہوتا گیا، اب تو جدید دور کے جدید بازاروں میں یہ تصور بھی مشکل ہو گیا ہے کہ یہ بھی کبھی تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا۔ انہوں نے آبادی کے حوالے سے بتایا کہ کچھ مکانات گل سڑ گئے یا گر گئے لیکن اب بھی بہت سے مکانات اپنی اس پرانی حالت میں وہی مٹی، پتھر اور لکڑیوں کی آبادی ہے جو پرانے زمانے کی یاد تازہ کر رہی ہے، بازار میں اب بھی روایتی ٹوپیوں کی کچھ دکانیں موجود ہیں بس فرق اتنا ہے کہ اس دور میں ہاتھوں سے بنائی جاتی تھیں اور اب مشینوں سے۔ 
ایک دکاندار سے بات چیت ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارے آبا و اجداد یہ کام کرتے تھے وہی سلسلہ ہم جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اس کی مانگ میں کافی کمی آئی ہے جس سے ہمارے کاروبار پر کافی اثر پڑ چکا ہے۔ ایک اسی سالہ بزرگ سے بازار کے حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ یہ مجھے یاد نہیں ہے کہ یہ بازار کب سے ہے البتہ یہاں کا ہجوم یاد ہے، لوگ راتیں یہاں گزارتے تھے اور سودا پورا کر کے اپنے خچروں یا گھوڑوں پر لاد کر اپنے علاقوں میں جایا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ والی سوات بھی اکثر یہاں کا دورہ کر کے بازار میں گھوما کرتے تھے۔ اس بازار کی بہت رونق تھی لیکن آبادی اور جگہ جگہ بازاریں بننے سے یہاں کاروبار ماند پڑ گیا اور یہاں کی رونق ختم ہوکر تاریخی بازار ویران پڑ گیا، اس کاروباری مرکز کی وجہ سے یہاں کے لوگ بھی کافی خوشحال تھے لیکن جدید دور اور کاروباری مراکز میں اضافے سے نہ صرف یہاں کی رونق ختم ہوئی بلکہ کاروبار کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا، ''اب تو صرف آثار ہیں اور یہ پرانی آبادی ہے۔'' 
دیولئی گاؤں کا یہ پرانا بازار تو اب بازار نہ رہا البتہ سڑک کنارے بازار میں اب بھی رونق اور ہجوم ہوتا ہے، قریبی پہاڑی علاقوں سے لوگ خریداری کیلئے دیولئی آتے ہیں۔ بازار میں ایک دکاندار سے ہم نے دربار ڈھیری کے پرانے بازار کے بارے میں پوچھا تو اسے پتہ بھی نہیں تھا کہ دربار ڈھیری میں کبھی بازار ہوا کرتا تھا البتہ ادھیڑ عمر کے لوگ اب بھی اس بازار کے قصے سناتے ہیں۔