ترقیاتی فنڈزمنجمدہونے کے بعد جاری اخراجات پر بھی کٹ کا فیصلہ

ترقیاتی فنڈزمنجمدہونے کے بعد جاری اخراجات پر بھی کٹ کا فیصلہ

مالی مشکلات اور بحران کے پیش نظر صوبائی حکومت نے ترقیاتی فنڈز منجمد کرنے کے بعدجاری اخراجات پر بھی کٹ لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس ضمن میں تمام انتظامی محکموں کو اپنے جاری اخراجات پر کٹ لگاتے ہوئے تجدید شدہ مجوزہ اخراجات کی تفصیلات ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

صوبائی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ 13انتظامی محکموں کے انفراسٹکچر کی بحالی کیلئے بھی متاثرہ محکموں کو جاری اخراجات کی رقم کاٹ کر منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔


محکمہ خزانہ ذرائع کے مطابق جاری اخراجات کا حجم ہر گزارتے دن کیساتھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس حجم کو کنٹرو ل کرنے کیلئے اس پر کٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

 

جاری اخراجات میں تنخواہوں اور مراعات کی کٹوتی نہیں کی جاسکتی تاہم دیگر اخراجات پر کٹ لگانے کی گنجائش موجود ہے اسی طرح کئی انتظامی محکموں کیلئے جاری اخراجات کی مد میں ایسی مدوں میں رقم رکھی جاتی ہے


جو عمومی طور پر استعمال نہیں ہوتی اور اس میں کٹ لگانے کی گنجائش بھی ہوتی ہے اس وقت جاری مالی بحران کے پیش نظر محکمہ خزانہ نے تمام انتظامی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری اخراجات پر کٹ لگاتے ہوئے اپنے مالی سال کے جاری اخراجات کی تخصیص نو کریں اور مالی سال کے باقی مانندہ 7ماہ کیلئے جاری مجوزہ اخراجات کی تفصیلات محکمہ خزانہ کو ارسال کریں

 

محکمہ ترقی و منصوبہ بندی ذرائع کے مطابق صوبے کے جن 13انتظامی محکموں کا انفراسٹکچر متاثر ہوا تھا اس کی بحالی کیلئے 18ارب کے ترقیاتی فنڈز کی تخصیص نو کردی گئی ہے اب جاری اخراجات سے بھی رقم کاٹ کر اس جانب منتقل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے ۔