پاکستان اور آئی ایم ایف  کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار

وزیر خزانہ یوسف خان کی سربراہی میں پاکستانی ٹیم جمعرات کو وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین کے سعودی عرب روانہ ہونے کے بعد واشنگٹن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بات چیت جاری میں مصروف ہے جس کے بعد مذاکرات مزید تاخیر کا شکار ہیں۔

 

چھ ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی بحالی اور 1 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول کا معاملہ طول پکڑ گیا ہے۔ رواں سال 13 اکتوبر سے شروع ہونے والے پالیسی مذاکرات تاحال مکمل نہ ہو سکے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق مشیر خزانہ شوکت ترین واشنگٹن سے سعودی عرب روانہ ہو چکے ہیں جہاں وہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران وفد کا حصہ ہونگے، جب کہ سیکریٹری خزانہ یوسف خان  واشنگٹن میں ان کی جگہ ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

 

مذاکرات کے اختتام سے قبل شوکت ترین کے سعودی عرب روانگی پر متعدد افواہوں نے جنم لیا اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کردیا۔ رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں تعطل آئی ایم ایف کے اس مطالبے کی وجہ سے ہے کہ پاکستان سبسڈی میں مزید کمی کرے اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرے۔

 

دوسری جانب آئی ایم ایف حکام کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری ہے. نمائندے نے مذاکرات کی ناکامی یا کامیابی پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے بتایا کہ چھٹے معاشی جائزے کی تکمیل کیلئے بات چیت کا عمل جاری ہے۔ سماء ٹی وی کے رابطہ کرنے پر ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی طرف سے آفیشل بیان جاری ہونے تک مذاکرات کو جاری ہی سمجھا جائے۔

 

سرکاری ذرائع کے مطابق بجلی ٹیرف میں اضافے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے سمیت آئی ایم ایف کی بعض شرائط پر عمل کیا جا چکا ہے۔

 

 سبسڈیز کے بتدریج خاتمے، سرکاری اداروں کی نجکاری کیلئے ہوم ورک بھی کر لیا گیا تاہم اضافی ٹیکس لگانے اور ٹیکس استثنی یا چھوٹ کے خاتمے کے معاملے پر فریقین ک درمیان تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے، مشیر خزانہ شوکت ترین پیر کے روز وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔

 

واضح رہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کا چھٹا جائزہ مکمل کرنے کے لیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات 4 اکتوبر کو شروع ہوئے تھے تاہم 15 اکتوبر کی ڈیڈ لائن فریقین کے درمیان کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی جس کے بعد مذاکرات کو جاری رکھا گیا۔ اسی دوران شوکت ترین نیویارک کے لیے روانہ ہوئے تھے اور کچھ عرصہ قیام کے بعد واشنگٹن سے ریاض کیلئے روانہ ہوئے۔

 

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ توقع تھی کہ شوکت ترین واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے تاکہ وہ صحافیوں کو مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کریں تاہم پریس کانفرنس منسوخ کر دی گئی ہے۔