بارشوں اور سیلاب متاثرین بحالی کیلئے خصوصی فنڈقائم کرنے کا مطالبہ 

بارشوں اور سیلاب متاثرین بحالی کیلئے خصوصی فنڈقائم کرنے کا مطالبہ 

پشاور(نیوز رپورٹر)خیبرپختونخوااسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیاہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرارددے کرمتاثرین کی بحالی وآبادی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اور خصوصی فنڈقائم کیاجائے اور آئندہ کیلئے نالوں کی صفائی اورڈیموں کی تعمیرپرتوجہ دینے کی ضرورت پرزوردیا۔ 

 

منگل کے روز صوبائی اسمبلی اجلاس میںجے یوآئی کی رکن نعیمہ شکور نے اپنی تحریک پر بحث کاآغازکرتے ہوئے کہاکہ بارش اللہ کی رحمت اور قدرت کا تحفہ ہوتی ہیں لیکن بدقسمتی سے زیادہ بارشوں کے باوجود پانی ضائع ہوا اور حکومت نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا مستقبل میں پانی پرجھگڑے ہونگے، سیلاب کی صورت میں زرخیزمٹی آتی ہے جس سے اچھی فصل بن سکتی ہے ،

 

بلوچستان بارشوں سے اس دفعہ تیس سال پیچھے چلاگیاہے حالیہ بارشوں سے ہونیوالے نقصانات پر سیاست نہ کی جائے صوبائی ووفاقی حکومتیں مل کر سیلاب زدگان کی مددکریں اوراس قسم آفت کیلئے ایک مخصوص فنڈقائم ہوناچاہئے، سیلاب سے تمباکو،سبزیوں سمیت دیگراہم فصلوں کو نقصان پہنچالوگوں کے جانی ومالی نقصانات ہوئے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں ۔

 

عوامی نیشنل پارٹی کے ممبر صوبائی اسمبلی نثارمہمند نے کہاکہ تحصیل پنڈیالئی ،امبارمیں بارشوں سے زراعت کوبہت نقصان پہنچاہے لائیوسٹاک میں مویشیاں ہلاک ہوئیں متاثرین کیلئے مخصوص فنڈقائم کیاجائے اورانکی بحالی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں 

 

آزادرکن میرکلام نے کہاکہ بارشوں کاپانی طغیانی کی شکل میں گھروں کو بہاکرلے جاتے ہیں اس کے کنٹرول اور فائدہ اٹھانے کیلئے منصوبہ بندی کی جائے ،متاثرین علاقوں کیلئے فنڈرکھاگیاہے لیکن شمالی وزیرستان کومکمل طو رپر نظراندازکیاگیاٹوچی اور ہمذونی کے مقام پرگھروں اورفصلوں کوکافی نقصان پہنچاہے حفاظتی بندبنائے جائیں اورمزیدڈیم تعمیرکئے جائیں،

 

پی پی رکن احمدکنڈی نے کہاکہ ڈیرہ ڈویژن بالخصوص ٹانک کوحالیہ سیلاب میں کافی نقصان پہنچاڈیرہ کی پانچ تحصیلوں میں بھی لوگوں کے بے تحاشانقصانات ہوئے سیلاب نالے گندگی سے اٹ چکی ہیں جسکی بیس سالوں سے صفائی نہیں ہوئی سیلاب سے زیادہ یہ نالے ہمیں متاثرکررہے ہیں بارش کے باعث پانی گھروں میں گھس جاتاہے نالوں کی صفائی پرکام نہیں ہورہاہے اس پر توجہ دی جائے تاکہ سیلاب کے نقصانات کم سے کم ہو،ن لیگ کے۔

 

 اختیارولی نے کہاکہ سیلاب زدگان کے نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈقائم کرکے انکی بحالی کیلئے کام اورمتاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قراردیاجائے مون سون بارشوں میں نوشہرہ کاایک ایک محلہ پانی میں ڈوب گیا۔ حکومت کے پاس سوشل میڈیاکیلئے پیسے ہیں لیکن نالیوں کی صفائی کیلئے نہیں عوامی مفادکے منصوبوں پر کام ضرورہوناچاہئے، 

 

ن لیگ کے پارلیمان لیڈرسرداریوسف نے بھی متاثرہ علاقوں کو آفت قرار دینے کامطالبہ کیاجمعیت رکن حافظ عصام الدین نے کہاکہ وقت پر بارش نہ ہونا اور زیادہ بارشیں اللہ کی طرف سے ناراضگی کااظہارہے ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرکے بخشش کی دعاکرنی چاہئے پروٹیکشن بندتعمیرکئے جائیں ڈیم بنانے پرتوجہ دی جائے ،پی پی رکن ثنااللہ نے کہاکہ متاثرین کیلئے اعلان کردہ رقم ناکافی ہے

 

وزیرزراعت محب اللہ خان نے کہاکہ حالیہ سیلاب کے نتیجے میں نہ صرف خیبرپختونخوابلکہ بلوچستان میں نقصانات ہوئے اورہیلی کاپٹرحادثہ رونماہوا کچھ چیزیں حکومت کی بس میں نہیں ہوتی یہ قدرتی آفات ہیں تاہم بحالی وآبادکاری کیلئے صوبائی ادارے متحرک رہے بارانی ایریازمیں زراعت ڈیپارٹمنٹ اپناکام کررہاہے ماضی میں طویل المدتی منصوبوں پر کام نہیں ہوا بلین ٹری سونامی پراجیکٹ صوبائی حکومت کا عظیم کارنامہ ہے جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے موسمی تغیرات میں تبدیلی آرہی ہے 

 

صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں زراعت کے شعبے میں کئی اہم منصوبے شامل کئے ہیں صوبائی حکومت نے اپنے دورمیں واٹرسیکٹرمیں78ارب روپے خرچ کریگی ،لمپی سکن بیماری روک تھام کیلئے قائم کمیٹی کو تیس کروڑروپے دئیے گئے ہیں اورویکسی نیشن کا عمل جاری ہے صوبائی حکومت،وزیراعلی اور متعلقہ ڈیپارٹمنس متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے پرعزم ہے ۔

 

وزیرمحنت شوکت یوسفزئی نےکہاکہ سیلاب کےنتیجے میں117اموات ہوئی ہیں 134افرادزخمی اورچارہزارسے زائد گھروں کو نقصان پہنچا361ملین روپے مختلف اضلاع کودئیے جاچکے تھے اور 370ملین مزید ریلیز کردئیے ہیں 

 

ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ متاثرین کی بحالی کیلئے ہنگامی بنیادوں پرکام کریں ،وزیراعلی نے ہدایت کی ہے کہ جہاں پرتجاوزات ہیں وہ ختم کئے جائیں اس وجہ سے تباہی موصول ہورہی ہے پرویزخٹک نے آٹھ ارب لگاکر نوشہرہ محفوظ کیا