سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف مظاہرہ

سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف مظاہرہ

سوات کی تحصیل مٹہ کی سڑکیں ’ہم امن چاہتے ہیں‘ کے نعروں سے گونج اٹھیں، جہاں پر عسکریت پسندی کی حالیہ لہر کے خلاف سیکڑوں افراد نے احتجاج کیا۔

 

آج نمایاں تعداد میں عمررسیدہ افراد، نوجوان اور سیاسی کارکنان خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے گھر کے پاس مٹہ چوک پر جمع ہوئے اور ریاست سے امن کا مطالبہ کیا۔

 

یہ ریلی دہشت گردی، انٹرنیٹ کی بندش اور رات میں نامعلوم افراد کی جانب سے گھروں پر پتھر پھینکنے کے خلاف نکالی گئی۔

 

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین، ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما مختیار یوسف زئی، عوامی نیشنل پارٹی کے ایوب، پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر امجد اور دیگر لوگوں نے ریلی سے خطاب کیا۔

 

ان لوگوں کا کہنا تھا کہ سوات میں سیکیورٹی فورسز کی نمایاں تعداد میں موجودگی کے باوجود عسکریت پسندوں کی واپسی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

 

پی پی پی کے مقامی رہنما ڈاکٹر امجد نے کہا کہ 2007 کے مقابلے میں سوات 2022 میں مختلف ہے، ہم عسکریت پسندوں کی جانب سے اٹھائے گئے جھوٹے نعروں سے دھوکا نہیں کھائیں گے، اس بار ہم نہ صرف دہشتگردانہ کارروائیں کی مزمت کریں گے بلکہ ان کے خلاف مزاحمت بھی کریں گے۔

 

مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ 20 دنوں سے نامعلوم افراد کی جانب سے مٹہ تحصیل کے مختلف دیہاتوں میں رات کے اوقات میں گھروں پر پتھر پھینکے جارہے ہیں جس کی مذمت کرتے ہیں۔

 

مختیار یوسف زئی نے کہا کہ ان کے دیہاتوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود شرپسند گاؤں میں داخل ہو کر ہمارے گھروں پر پتھر مارتے ہیں اور باآسانی واپس چلے جاتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شرپسند عناصر کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو مقامی رہائشی ان سے ’آہنی ہاتھوں‘ سے نمٹیں گے۔

 

منظور پشتین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوات میں امن سبوتاژ کرنے کا مطلب پورے صوبے کا امن خراب کرنا ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر اس بار نام نہاد عسکریت پسند امن خراب کرنے کی کوشش کریں گے تو پورے خیبرپختونخوا سے لوگ ان کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

 

سوات کی تحصیل کبل میں  ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں امن کمیٹی کے سابق سربراہ اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

 

امن کمیٹی کے سابق سربراہ ادریس خان، 2 پولیس گارڈز رامیل اور توحید اور ایک بچہ کوٹاکے سے بنڈائی گاؤں جا رہے تھے کہ کچی سڑک پر نصب بم پھٹنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے، دھماکے میں 2 راہگیر بھی جاں بحق ہوئے تھے، بعدازاں دو مزید لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

 

اس واقعے کے بعد سوات اور شانگلہ میں لوگوں نے احتجاج کیا تھا، گزشتہ ہفتے سوات کی مٹہ اور کبل تحصیل میں سیکیورٹی پوسٹس قائم کر دی گئی تھیں۔