توسیع سے انکار۔ جنرل باجوہ کا احسن فیصلہ

توسیع سے انکار۔ جنرل باجوہ کا احسن فیصلہ

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی مدت پوری ہونے پر سبکدوش ہونے کا عزم ظاہر کیا ہے اور وہ مزید ایک سالہ توسیع کے حق میں نہیں۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں ظہرانے کے وقت انہوں نے اپنی اسی سوچ کا اظہار کیا۔ یقیناً جنرل باجوہ کے اس فیصلے کو ماسوائے اک دو کے باقی ہر حلقے کی جانب سے سراہا ہی جائے گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے2016  میں سولہویں آرمی چیف کے طور پر قیادت سنبھالی اور جب آرمی چیف کا  منصب سنبھالا تو دہشت گردی نے ملک میں تباہی پھیلا رکھی تھی۔ انہوں نے دہشت گردوں کے بیانیہ کو چیلنج سمجھ کر ردالفساد کی بنیاد رکھی اور ملک میں ایسے عناصر کا جڑ سے خاتمہ کر دکھایا ،سارے خفیہ نیٹ ورک ختم کر دیئے، ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے ملک کو بہت سے بحرانوں سے نکالا۔ انھیں مرد بحران کہنا غلط نہیں۔ انہوں نے اپنے مقرہ وقت پر سبکدوش ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے یہ واضح کیا کہ مسلح افواج خود کو سیاست سے دور کر چکی ہیں اور دور رہنا چاہتی ہیں، ملک کی بیمار معیشت کو بحال کرنے میں  ملک کے ہر ذمہ دار شہری کی حصے داری ہونی چاہیے، پاک فوج کے سربراہ ایک ہفتے کے دورے پر امریکہ گئے ہوئے ہیں جہاں انھیں پینٹا گون میں خصوصی گارڈ آف آنر،21  توپوں کی سلامی سے دی گئی۔ دورہ چین میں بھی انھیں گارڈ آف آنر دیا گیا۔ برطانیہ اور تہران بھی ان کی صلاحیتوں کا متعرف ہے۔ فوجی سفارتکاری کا تصور جنرل قمر باجوہ کی وجہ سے وجود میں آیا، ملکی اور غیرملکی دورے اور پاکستان آنے پر مختلف وفود سے ملاقاتوں خصوصاً افغانستان، طالبان اور امریکہ کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا، سعودی عرب اور قطر سے تعلقات بہتر بن سکے، ریاض اور تہران سمیت مختلف ممالک کے دوران فوجی تعاون پیدا کرنے کے لیے موجودہ رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ نے بھی دہشت گردی کے اقدامات کو سراہا۔ باجوہ ڈاکٹرائن کی دھوم مچی اور جس کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے وضاحت فرمائی کہ باجوہ ڈاکٹرائن صرف سیکورٹی سے متعلق ہے اس کا کسی بھی طرح کا اور مطلب نہ لیا جائے۔ انہوں نے 18ویں ترمیم سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا۔ باجوہ ڈاکٹرائن  نے دہشت گردی کا خاتمہ کر کے اپنے طرز کا ایک شاندار کارنامہ سر انجام دیا۔ میجر جنرل آصف غفور نے بھی یہ ہی کہا بطور پاکستانی چاہتا ہوں کہ اسمبلیاں مدت پوری کریں اور آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی پارلیمان کا کام ہے کیونکہ  پارلیمان سپریم ہے اور پاک فوج سیاست سے دور رہنا چاہتی ہے۔ کوئی بھی ترمیم اور تبدیلی کرنا یا اس پر نظرثانی کرنا صرف پارلیمان کی صوابدید ہے،18 ویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات دیئے گئے ہیں اور اس سے اچھی بات کوئی نہیں اور اس ترمیم کے تحت صوبوں کے اختیار میں بہتر استعداد کار ضروری ہے۔ جنرل قمر باجوہ نے افغانستان سے متصل سرحدوں پر حفاظتی باڑ اور سرحدی قلعوں کی تعمیر سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا اور اس کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کو بھی پورا کیا اور حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں میں سارے ملک کے تباہ حال علاقوں کا دورہ کیا۔ آرمی چیف کی قیادت میں فوج نے سیلاب متاثرین کی بہت داد رسی کی اور ان کو مدد پہنچائی۔ آنے والے نئے آرمی چیف کی تقرری آئین کے آرٹیکل243(3)  کے مطابق صدر پاکستان، وزیر اعظم کی سفارش کے مطابق کرتا ہے۔ صدر مملکت کو پانچ نام دیئے  گئے تاحال فیصلہ نہیں ہوا لیکن نئے آرمی چیف کو بہت سے چیلنجرز کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ قمر جاوید باجوہ کی ڈاکٹرائن کے باوجود ابھی بھی  ملک کو بہت سے ناگوار مشکلات اور خدشات کا سامنا ہے۔ آرمی چیف کا ملک و قوم کی دفاعی ذمہ داری کے علاوہ ملکی  ترقی میں اہم کردار ہوتاہے۔ اس ضمن میں توقع کی جا سکتی ہے کہ نئے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے مشن کو مزید بہتر طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اس کے لیے وزیر اعظم کا درست انتخاب بہت معنی رکھتا ہے۔